کرناٹک میں نئے اسکول کھولنے کی درخواستوں کا سیلاب

ریاست میں نئے پرائمری، ثانوی اور ہائی اسکول کھولنے کی منظوری کے لیے محکمہ کے پاس اس سال بنگلور شہر سے۶۰۲؍ درخواستوں کے بشمول ریاست بھر سے۲۳۰۰؍ درخواستیں جمع کی گئیں

محمد امین نواز
بیدر:
تعلیمی شعبہ میں کاروبار کی مقررہ کامیابی کو بھانپتے ہوئے نجی اسکول کھولنے کی طویل لائن لگی ہے۔ نئے پرائمری،ثانوی اور ہائی اسکول کھولنے کی منظوری حاصل کرنے کے لیے محکمۂ تعلیم کے پاس اس سال بنگلور شہر سے۶۰۲؍ کے بشمول ریاست بھر سے ۲۳۰۰؍ درخواستیں آچکی ہیں۔ تاہم منظوری کے سلسلے میں تذبذب کا دور جاری ہے۔ پرائمری اور ثانوی تعلیم کے وزیر تنویر سیٹھ نے کہا ہے کہ تمام لوگ اجازت حاصل کرنا چاہتے ہیں، ایسے میں درخواستوں کی جانچ کی جائے گی۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ ہم پانچ سال تک نئے اسکولوں کو منظوری دینے سے گریز کرتے ہیں، لیکن سپریم کورٹ کی ہدایات اور کرناٹک ایجوکیشن ایکٹ کے تحت ہر سال درخواست منظور کرتے ہیں۔ اب نئے اسکولوں کو منظور ی کے لیے نئے اور سخت ضابطے بنائے جاسکتے ہیں۔ جناب سیٹھ نے کہا کہ نئے مدارس کے لیے کم از کم نصف ایکڑ اراضی چاہئے، حکومت جغرافیائی معلومات کے نظام کے ذریعے پہلے سے نصف تقریبا۷۵؍ ہزار اسکولوں کا نقشہ تیا رکرے گی۔ اس کے ساتھ ہی ہم مطلوبہ علاقے میں نئے اسکول اور قائم اسکول کے درمیان فاصلے کو دیکھیں گے۔ اس کے بعد اگر ضرورت محسوس ہوئی تو نئے اسکولوں کو منظور ی دی جائے گی۔
محکمہ کے ذرائع کے مطابق بنگلور شہر میں بڑھتی ہوئی آبادی اور نجی تعلیم کے شعبہ میں مقابلہ کو دیکھتے ہوئے منظوری پر کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔ادھر پرائمری اور ثانوی تعلیم کے پرسنل سکریٹری اجے سیٹھ کے مطابق ہمارا ایکٹ کہتا ہے کہ کسی بھی علاقے میں نئے اسکول کو منظوری دینے سے قبل یہ دیکھنا چاہیے کہ وہاں اس کی ضرورت کتنی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اس ضرورت کی وضاحت کرنے کا فقدان ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ طلباء کے سرپرست خود اتنے مضبوط بنیں کہ وہ بچوں کے لیے معیاری اسکول تلاش کرسکیں، وہیں عظیم پریم جی تعلیمی ادارہ کے رشی کیش بی شنکر کا کہنا ہے کہ اس بات کے کوئی بھی ثبوت نہیں ہیں کہ نجی اسکولوں کی بہتات سے تعلیم کا معیار بڑھتا ہے۔ ہمیں اب اور نجی اسکولوں کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ سرکاری اسکولوں کے معیار کو بڑھائے جانے کی ضرورت ہے۔
ریاست بھر سے نئے اسکولوں کے لیے بڑی تعداد میں درخواستیں آئی ہیں،نئے اسکولوں کی درخواستوں کی تعداد ۲۳۰۰؍ہے۔ محکمۂ تعلیم کے ذرائع کے مطابق تعلیمی سیشن کے دوران ریاست میں نئے اسکول کھولنے کے لیے تقریبا۲۲۹۲؍ درخواستیں آئی ہیں۔ جماعت اول تا جماعت پنجم اس زمرہ کے لیے سب سے زیادہ درخواستیں ہیں۔اس زمرے کے لیے ۹۸۱؍ درخواستوں میں سے بنگلور جنوب کے لیے۱۱۵؍ اور بنگلور شمال سے ۴۹؍ درخواستیں شامل ہیں۔ جماعت ششم تا ہشتم کے لیے۹۷۸؍ درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سے بنگلور جنوب کے لیے۲۰۹؍ اور بنگلورشمال کے لیے۷۶؍ درخواستیں شامل ہیں ۔جماعت نہم تا دہم کی تعلیم شروع کرنے کے لیے۴۳۲؍ درخواستیں محکمہ کو موصول ہوئی ہیں جن میں بنگلور جنوب ۱۰۹؍ اور بنگلور شمال کے لیے۴۴؍ درخواستیں شامل ہیں۔

***

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *