کرنل نظام الدین کے ساتھ دفن ہوگئے کئی راز

مجھے ۲۰۱۱ء میں پھر رپورٹنگ کے سلسلے میں دہلی سے اعظم گڑھ جانا ہوا اور کرنل نظام الدین سے ملاقات کا سنہری موقع ملا

محمد شہزادshahzad-photo-edited-1

حضرت نظام الدین کے انتقال پر اگر میں اپنے دلی ملال کا اظہار نہ کروں تو یہ ذاتی طور پر میری كمبختي ہوگی. مراد حضرت نظام الدین اولیاء سے نہیں بلکہ نیتا جی سبھاش چندر بوس کے ڈرائیور اور باڈی گارڈ رہے کرنل نظام الدین سے ہے. وہ جنگ آزادی کی درگاہ میں ایک بزرگ کی حیثیت رکھتے تھے. دو ملاقاتوں کے بعد میں بھی ان کی شخصیت کا مرید ہوئے بغیر نہیں رہ سکا.

بات ۲۰۰۸ء میں ہوئے اور سرخیوں میں چھائے رہنے والے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے وقت کی ہے. اس کے بعد ملک کے تقریبا تمام چینلوں نے اعظم گڑھ  کو آتنك گڑھ کے طور پر پروپیگنڈہ کرنا شروع کر دیا تھا. ایسے میں ملک کے پبلک براڈ کاسٹر دوردرشن کے اردو چینل پر ضلع کی اس امیج سے آتنك گڑھ کا ٹھپا ہٹانے کی ذمہ داری آن پڑی. اس کام کو انجام دینے کے لئے جس نیوز ایجنسی کا سہارا لیا گیا، اس وقت میں اس میں کام کیا گیا تھا. بطور رپورٹر مجھے وہاں بھیجا گیا. اس دوران مجھے کیفی اعظمی، مهاپڈت راہل سانكرتياين اور مولانا شبلی نعمانی جیسی اعظم گڑھ کی عظیم شخصیتوں سے جڑی یادوں سے روبرو ہونے کا موقع ملا. میرے سپنوں کو اس وقت پر لگ گئے جب مجھے نیتا جی کے ڈرائیور اور محافظ کے بارے میں پتہ چلا کیونکہ وہ ضلع کی واحد زندہ پروفائل تھی جن پر ہم ایک بھرپور پیکیج چلا سکتے تھے. اس کے بعد ۲۰۱۱ء  میں ایک بار پھر رپورٹنگ کے سلسلے میں میرا دہلی سے اعظم گڑھ جانا ہوا   اور ان سے ملاقات کا سنہری موقع ملا۔

زندگی میں سو سے زیادہ موسم بہار دیکھ چکے کرنل نظام الدین انتہائی عمر رسیدہ ہونے کے  سبب نہ بہت صاف سن پاتے تھے اور نہ ہی بہت صاف بول پاتے تھے. ہاں! بڑے آرام سے چل پھر لیتے تھے اور اپنے معمول کے کام بغیر سہارے کے کر لیتے تھے. یعنی فوجیوں والی بات برقرار تھی. اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ وہ آزاد ہند فوج کے بڑے محنتی سپاہی رہے ہوں گے. آخری وقت میں وہ اپنے بڑے بیٹے شیخ اکرم کے ساتھ اعظم گڑھ کے اپنے آبائی گاؤں ڈھكوا میں رہے اور وہیں انہوں نے آخری سانسیں بھی لیں. ان ملاقاتوں کے دوران انہوں نے اپنی یادداشت پر زور ڈالتے ہوئے جو کچھ بھی بتایا، اس کے مطابق ان کے والد امام علی سنگاپور میں کینٹین چلاتے تھے. روزگار کی تلاش میں نظام الدین بھی انہی کے پاس چلے گئے جہاں ان کی ملاقات نیتا جی سبھاش چندر بوس سے ہوئی. یہ وہ وقت تھا جب نیتا جی آزاد ہند فوج کے لئے نئے رنگروٹوں کی بھرتی کر رہے تھے. نیتا جی نے ان کا انتخاب اپنے ذاتی سیکورٹی گارڈ اور ڈرائیور کے طور پر کر لیا. ان کے مطابق انہوں نے نیتا جی کے ساتھ برما، تھائی لینڈ اور جاپان جیسے کئی ملکوں کا دورہ بھی کیا۔

کرنل نظام الدین کے ساتھ محمد شہزاد
کرنل نظام الدین کے ساتھ محمد شہزاد

لڑکھڑاتی زبان اور ٹوٹے پھوٹے جملوں سے ہی سہی، جب وہ باتیں کرتے تھے تو نیتا جی کی زندگی کے کئی نامعلوم پہلو بالکل سامنے آ جاتے تھے. ان کے مطابق نیتا جی ان کے ہیرو تھے اور ہندوستان میں کوئی ان کے جیسا پیدا نہیں ہوا. ان کا خیال تھا کہ اگر آزادی نیتا جی کے حساب سے ملتی تو آزادی اور بھارت، دونوں کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔. نیتا جی کی شخصیت اتنی متاثر کن تھی کہ جو بھی ان کے رابطے میں آتا تھا، ان کا ہی ہو کر رہ جاتا. ایسے ہی ایک واقعہ کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آزاد ہند فوج کی مدد کے لئے جولائی ۱۹۴۳ء  میں برما اور سنگاپور  کے تارکین وطن نے انہیں سونے، چاندی، ہیرے جواہرات اور نقد سے بھری ۲۶ بوریوں کے ساتھ تول دیا تھا۔

باتوں باتوں میں انہوں نے اپنی پیٹھ پر لگے اس زخم کو دکھایا جو انہیں برما کے جنگلوں میں نیتا جی کے ساتھ رہتے ہوئے گولی لگنے سے ہوا تھا. ان کے مطابق انگریزوں نے نیتا جی کو نشانے پر رکھ کر گولیاں چلائی تھیں لیکن اتفاق سے اسی وقت نیتا جی کا رومال گر گیا اور جیسے ہی میں اسے اٹھانے کے لئے جھکا تو گولی مجھے لگ گئی. آزاد ہند فوج میں نیتا جی کے سب سے زیادہ معتمد فوجیوں میں سے ایک کیپٹن لکشمی سہگل کے علاج سے نظام الدین ٹھیک ہوئے اور تبھی نیتا جی نے انہیں ‘کرنل’ کہہ کر پکارا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کرنل نظام الدین نیتا جی کے ان قریبی لوگوں میں سے ایک تھے جنہوں نے تاهوكو طیارہ حادثے میں ان کے مارے جانے کی خبر کو کبھی بھی سچ نہیں مانا. اس کے پیچھے ان کے پاس کئی دلیلیں تھیں. ان میں سے ایک یہ کہ اگست ۱۹۴۵ء  کو جس وقت نیتا جی کی موت کی خبر ریڈیو پر نشر ہو رہی تھی، اسے وہ نیتا جی کے ساتھ برما کے جنگلوں میں بیٹھے سن رہے تھے. سب سے زیادہ حیرت والی بات انہوں نے یہ بتائی کہ آخری بار انہوں نے نیتا جی کو ۲۰ اگست ۱۹۴۷ء  میں برما کے  ستاگ دریا پر چھوڑ دیا تھا. یعنی یہ بھارت کو آزادی ملنے کے بعد کی بات تھی۔

سال ۲۰۱۱ میں کرنل نظام الدین کے ساتھ مشہور کیمرہ مین پرتاپ کشواہا
کرنل نظام الدین کے ساتھ مشہور کیمرہ مین پرتاپ کشواہا

ان کی یہ باتیں میرے جیسے عام انسان کے ذہن میں بہت سے سوالات پیدا کرتی تھیں. مثلا ۱۹۴۵ء  کے  طیارہ حادثے کے بعد کرنل نظام الدین کو نیتا جی کیسے مل گئے؟ اگر نیتا جی زندہ تھے تو پھر نظام الدین سے آزاد ہندوستان میں ملنے کا وعدہ کرکے پھر اپنے وطن واپس کیوں نہیں لوٹے؟ اگر لوٹے تو پھر سامنے کیوں نہیں آئے؟ میں نے انٹرویو کے دوران کرنل نظام الدین سے ان سوالات کا جواب بہت جاننے کی کوشش کی لیکن وہ نیتا جی سے اپنی آخری ملاقات کے آگے کچھ بتا نہ سکے. البتہ بات چیت کے دوران وہ جس طرح آزاد ہند فوج میں بھرتی، اس کے فوجیوں کے معمول، نیتا جی کی شخصیت، ان کے قصے اور پھر ستاگ دریا یا پھارموسا جزیرے جیسے ٹیڑھے ناموں کو بیان کرتے، تو ان کی باتوں میں دم ضرور نظر آتا تھا۔

جمع  پونجی  کے نام پر ان کے پاس آزاد ہند فوج کی ٹوپی، اس کا شناختي کارڈ اور نیتا جی کی گاڑی کا ڈرائیونگ لائسنس جیسے کاغذات تھے. ان میں کچھ   کاغذات بالکل پیلے پڑ چکے تھے اور پرت در پرت پھٹ چکے تھے. ہاں! کہیں پرانے ٹائپ رائٹر اور کہیں ہینڈ راٹگ کے سبب ان کے اصلی  ہونے اور نیتا جی سے وابستہ  ہونے کا احساس ضرور ہوتا تھا. عجیب بات ہے کہ ان ثبوتوں اور ان دعووں کے باوجود کبھی کسی حکومت نے نہ تو یہ مانا کہ وہ نیتا جی کے قریبی تھے اور نہ ہی کبھی اس کی حقانیت کو جانچنے کی زحمت گوارہ کی. ان کی موت کے ساتھ کئی راز دفن ہو گئے. اکثر ہم شخصیتوں کی عظمت کو اس دنیا سے جانے کے بعد قبول کرتے ہیں. ابھی چند ماہ پہلے ہی اعظم گڑھ ضلع انتظامیہ نے ان کی یادوں پر مبنی ایک دستاویزی فلم تیار کی ہے. جیتے جی اس نمائش نہیں ہو سکی. ہو سکتا ہے کہ اب ان کے جانے کے بعد ہم ان کی اہمیت سمجھیں اور نئی نسل کو  بھی آزادی کی  جدوجہد اور اس کے جنگجوؤں کا احساس ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *