کفرواسلام کی جنگ یا خانہ جنگی؟

کہاں تو مسلمانوں کے لیے یہ ملک کے عوام و خواص پراسلام اور شریعت اسلام کی قانونی اوراخلاقی برتری ثابت کرنے کا موقع تھا، ہم ملک کے بچہ بچہ کو بتا دیتے کہ اسلام نے آج سے چودہ سوسال پہلے بیٹیوں، بیویوں اور ماؤں کوجو حقوق دیے یا ان کو جو قانونی اور مالی تحفظ اسلام میں حاصل ہے، دنیا کے کسی اور قانون نے آج تک نہیں دیا لیکن کہاں یہ کہ کچھ مخالفین کی سازش اور کچھ اپنی نادانی سے پانسہ پلٹا ہوانظرآتا ہے۔

فکرفردا
احمد جاوید
اس وقت شام میں جو جنگ جاری ہے، وہ جنگ ہے یا خانہ جنگی؟ یمن میں جو قتل و غارت کا بازارگرم ہے، افغانستان اور پاکستان میں طالبان اور فوجیں چوہے بلی کا کھیل جو کھیل رہی ہیں، عراق میں فتح و شکست کا جو خونی کھیل پچھلی صدی کی نویں دہائی سے چل رہا ہے اور داعش کی فتوحات نے جس کو ایک ناقابل فہم ظاہرہ بنا دیا ہے یا مصر میں اخوان اور اس کے مخالفین جو جنگ لڑ رہے ہیں، یہاں تک کہ ترکی میں حق و باطل کی جوکشمکش ایک ناکام فوجی بغاوت کے ساتھ اپنے ایک اور کلائمکس پر جا پہنچی، یہ جنگیں ہیں یا خانہ جنگیاں؟ اگر آپ عالم اسلام کے حالات و واقعات پر گہری نگاہیں رکھنے والے کسی شخص سے پوچھیں تو وہ ہرگز اس کا کوئی سیدھا جواب نہ دے سکے گا کیونکہ ان ملکوں میں جو خون خرابہ، قتل و غارت، تباہی و بربادی، دہشت گردی اور بربریت برپا ہے وہ ایک بڑا پیچیدہ کھیل ہے۔ یہ جنگ اس لیے ہے کہ ان میں عالمی طاقتیں ملوث ہیں، ان کی فوجیں لڑرہی

jung

ہیں، ان کی ڈپلومیسی ہاتھ پیرماررہی ہے، ان کے نقشے عالمی طاقتوں کے تھینک ٹینکس بنا رہے ہیں اور ان کے نتائج تک کو ان ہی کے دفاعی ماہرین کنٹرول کررہے ہیں۔ وہ جس طرح چاہ رہے ہیں اوران کے جو نتائج دیکھنا چاہتے ہیں میدا ن جنگ کا نقشہ کہیں بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ یہ قومیں اور یہریاستیں تو صرف ان کی جنگ کا ایندھن ہیں، میدان جنگ ہیں یا آپ کہنا چاہیں تو کہہ لیں کہ شطرنج کی بساط ہیں۔ لیکن ٹھہرئیے، ٹھہر کرسوچ لیجیے کہ ایسا کیوں ہے؟ عراق میں جو سپاہی اوردہشت گرد لڑرہے ہیں، جو جماعتیں اور قبائل برسرپیکار ہیں وہ کون ہیں؟ شام کے متحارب گروپ، داعش، کرد اوردوسرے باغی، یمن کی بساط جنگ پر ایک دوسرے کو بموں، بندوقوں اورمیزائلوں سے اڑانے والے حوثی غیرحوثی، افغانستان و پاکستان کے طالبان اوران کے حریف کون ہیں؟ مصر کے اخوان اور ان پر مظالم کے پہاڑ ڈھانے والوں یا ترکی کے باغیوں اور انقلابیوں میں کیا کوئی ایک بھی غیر ہے؟ سب کے سب ان ہی ملکوں اور قوموں کے فرزند ہیں اور سب کے سب کلمہ گو ہیں اسلام کے نام لیوا اور دین کے دعویدار۔ پچھلے ہفتے ان ہی کالموں میں حلب کے حوالے سے یہ بات آئی تھی کہ ایک قرون اولیٰ کے مسلمان تھے کہ حلب کا رومی عیسائی گورنریوحنا جس نے مسلمانوں سے خونریزجنگیں لڑی تھیں، ہتھیار ڈال کر اسلام لاتے ہی ان کے لیے اتنا قابل اعتماد بن گیا تھا کہ وہ اس کے پیچھے جان کی بازی تک لگا سکتے تھے اور یہ وہی تھا جس کی بدولت خالد بن ولید اور ابوعبدہ بن الجراح کے لشکر نے یروشلم اوردمشق جیسے بڑے شہروں کو رومی حکمرانوں اور ان کی فوجوں سے ایک قطرہ خون بہائے بغیرجیتا تھا۔کہاں تو آپ غیروں کا بھروسہ جیتتے، ان کے دلوں میں آپ پراٹوٹ اعتماد ہوتا اوروہ آپ کی جنگیں لڑتے لیکن کہاں یہ کہ خود ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں،غیروں کی جنگیں آپ لڑرہے ہیں، نسل درنسل کلمہ پڑھنے والوں کو ایک دوسرے پربھروسہ نہیں ہے، عام مسلمان تو عام مسلمان ہیں حد تو یہ ہے کہ اس قوم (اگریہ قوم ہے) کے عالموں، دانشوروں، مفتیوں، اماموں اورلیڈروں تک کو ایک دوسرے پربھروسہ نہیں ہے اور آج کی سب سے بڑی ٹریجڈی یہی ہے۔

اگرہم ٹی وی پر آنے والے علما، اخباروں اورسوشل میڈیا میں کی جانے والی اپیلوں اور بحثوں کے معانی اوران کے پیغام کوسمجھنے میں خطا نہیں کررہے ہیں تو کفر و اسلام کی ایک جنگ وطن عزیزمیں بھی برپا ہے اور یہ جنگ بھی جنگ ہی ہے یا خانہ جنگی کم از کم ہم تو یہ فیصلہ کرنے سے قاصرہیں کیونکہ جنگ کے نقشے تو ان کے تھینک ٹینکس بنا رہے ہیں اورنتائج پران کا کنٹرول ہے، صرف جنگ کا ایندھن آپ ہیں۔ وہ جس طرح چاہ رہے ہیں اوران کے جو نتائج دیکھنا چاہتے ہیں میدا ن جنگ کا نقشہ ذرا بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ کنگز انڈیا انسٹی ٹیوٹ لندن میں ہندوستان کی سیاست اور سماجیات کے پروفیسرکرسٹوف جیفریلوٹ نےاسی ہفتے ملک کے ایک کثیرالاشاعت انگریزی معاصرمیں’ہندوتو کی شدھی مہم‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے ’بھارتیہ کرن‘ کے مطالبات ’ہندوستانی اسلام‘ کو سمجھنے میں غلطی کی پیداوارہیں۔ انہوں نے وزیراعظم نریندرمودی کی اس تقریر کے حوالے سے جو انہوں نے حال ہی میں پنڈت دین دیال اپادھیائے کی صد سالہ تقریب ولادت پرکی تھی، مسلمانوں کے تعلق سے بھارتیہ جن سنگھ (موجودہ بی جے پی) کے بانی کے نظریہ اور ہندوتوکا نظریہ وضع کرنے والے مصنف اور آرایس ایس کے نظریاتی پیشوا وی ڈی ساورکرکی سوچ پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے اس نکتے کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جو لوگ ہندوستانی مسلمانوں کودلتوں کی طرح ہندو ثقافت یا آریہ سنسکرتی میں ڈھالنا چاہتے ہیں وہ اسلام اور بالخصوص ہندوستانیوں کے اسلام کے تعلق سے غلط اور گمراہ کن مزعومات میں مبتلا ہیں۔ بلاشبہ مودی کا کنبہ اسی مہم کو آگے بڑھا رہا ہے لیکن اگر جیفریلوٹ اپنی رائے میں غلط نہیں ہیں توان کی غلط فہمیوں کو دور کرنے اوران کے مزعومات کی ہوا نکالنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟ کیا ہم غلط فہمیوں کو دور کرنے کی خاطرخواہ سنجیدہ اور ایماندارانہ کوشش کررہے ہیں یا ان کو بڑھا رہے ہیں؟ کیا ہماراغیظ وغضب، شوروغل اورہماری چیخ پکارلوگوں کی غلط فہمیوں اور ان کے مزعومات کو مضبوط کرے گی یا کمزورکرےگی؟ ہوسکتا ہے کہ کچھ مٹھی بھر لوگوں کے ذہنوں پر مہریں لگی ہوں یا انہوں نے نہ سمجھنے کی قسمیں کھا رکھی ہوں اور وہ جان بوجھ کر غلط فہمیاں پھیلانے کا کام کررہے ہوں اور کرہی رہے ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے ہیں یا ان کی غلط فہمیاں دور نہیں ہوتی ہیں تو زیادہ تشویش کی بات نہیں ہے لیکن ایک جمہوری معاشرے میں کسی بھی اقلیت کے تعلق سے عوام کی اس اکثریت کا غلط فہمیوں یا بدگمانیوں کا شکار ہوجانا جو اس کی جانب سے تعصبات یا تحفظات نہیں رکھتی، ایک انتہائی خطرناک جوکھم ہے۔ اگر لا کمیشن آف انڈیا کامن سول کوڈ کے تعلق سے ہم سے سوال کرے اور ہم اس کا معقول اور منطقی جواب دینے سے قاصر رہیں کہ اس طرح کے کسی قانون کے خلاف ہم کیوں ہیں؟ اگر کسی نیوزچینل پرسلمیٰ اورشیبا دو خواتین طلاق اور اس کے غلط استعمال پر سوالات اٹھائیں اور ملک کے گنے چنے چند سب سے بڑے مسلم علما میں سے ایک ان کے سوالوں پر بغلیں جھانکنے لگیں، بی جے پی کا ترجمان مسلمانوں کو تین طلاق، حلالہ
اور تعدد ازدواج پر سوال اٹھائے اوربحث میں شریک مسلم پرسنل لابورڈ کے رکن کے پاس
اس کا کوئی معقول جواب نہ ہو تو کیا حساس مسلمانوں کا کلیجہ منھ کو نہیں آئےگا، ان کے ذہن و دل پر ہتھوڑے نہیں برسیں گے اور اسلام یا مسلمانوں اور ان کی مذہبی قیادت کے تعلق سے غلط فہمیوں کی کھائیاں گہری نہ ہوں گی؟ ملک کے قانونی و عدالتی حلقوں، سیاسی و سماجی قیادتوں، میڈیا کےلوگوں، دانشوروں اور عام تعلیم یافتہ طبقات کو یہ باور کرانے کی ذمہ داری کیا ہماری نہیں ہے کہ اسلام میں عورتوں یا سماج کے کسی بھی کمزور فرد یا طبقہ کے ساتھ کسی امتیاز کی کوئی گنجائش نہیں، مردوں کو طلاق کا یک طرفہ اختیار نہیں دیا گیا، یہ اختیار مشروط ہے۔ نکاح ایک معاہدہ (سول کانٹریکٹ) ہے جو باہمی رضامندی سے طے ہوتا ہے، اسلام نے مرد اورعورت میں بحیثیت انسان کوئی تفریق نہیں کی، فریقین کو مساوی حقوق دیے۔ اس معاہدہ میں چونکہ عورت پر کوئی اقتصادی بوجھ نہیں ڈالا، نان و نفقہ تک کی ساری ذمہ داریاں مرد پر ہوتی ہیں، مہر کی صورت میں ایک معقول مالی تحفظ عورت کو نکاح کے ساتھ ہی حاصل ہوجاتا ہے، اور طلاق کی صورت میں سارے نقصانات شوہر کو برداشت کرنے پڑتے ہیں حتی کہ طلاق کے بعد بھی عدت کے جملہ اخراجات مرد کے ذمہ ہوتے ہیں۔ الگ الگ فقہی مسالک میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے، جومعمولی فرعی فرق ہیں ان کی اہمیت یہ ہے کہ جن شرطوں پرنکاح کیا جاتا ہے ان ہی کے مطابق طلاق دی جاتی ہے۔ اس کی کوئی دوسری مثال نہ تو ملک کے کسی اور قانون میں ہے نہ کسی اور مذہب میں۔ اس کے باوجود اگر کچھ لوگ اسلام کو نشانہ بنائیں اور آپ ان سے یہ نہ کہہ سکیں کہ اگر کسی قانون میں اس سے بہتر انتظام ہو تو پیش کرو۔ بتاؤ تو تمہارے پاس ایسا کون سا انتظام ہے؟ جنسی مساوات کا سوال اٹھانے والوں کے جواب میں اگر آپ یہ نہ بتا سکیں کہ اسلام نے عورت کو بھی شوہر کو چھوڑنے کا حق دیا ہے اور چونکہ اس میں مرد کو مالی نقصانات برداشت کرنا پڑتا ہے اس لیے اسے اس حق کے استعمال کی معقول وجہ پیش کرنا ہوتا ہے لیکن اگر نکاح کی شرط میں شوہر نے اسے یہ حق دے دیا ہو تو پھر اس کی بھی ضرورت نہیں۔ کہاں تو مسلمانوں کے لیے یہ ملک کے عوام و خواص پراسلام اور شریعت اسلام کی قانونی اور اخلاقی برتری ثابت کرنے کا موقع تھا، ہم ملک کے بچہ بچہ کو بتا دیتے کہ اسلام نےآج سے چودہ سوسال پہلے بیٹیوں، بیویوں اور ماؤں کو جو حقوق دیے یا ان کو جو قانونی اور مالی تحفظ اسلام میں حاصل ہے دنیا کے کسی اور قانون نے آج تک نہیں دیا لیکن کہاں یہ کہ کچھ مخالفین کی سازش اور کچھ اپنی نادانی سے پانسہ پلٹا ہوا نظرآتا ہے۔ کیا حکومت یا برسراقتدارمحاذ کی منشا یہی نہ تھی کہ ٹکراؤ کا ماحول بنے، حکومت اور مسلمان آمنے سامنے آجائیں اور یہاں تک ہیجان پیدا ہوجائے کہ ملک کے عوام ہندو مسلم میں بٹ جائیں اور کیا یہی نہیں ہوا؟ کیا ہم اس سازش کو ناکام نہیں کرسکتے تھے؟ کبھی فرصت میں صورت حال کے اس نکتہ پر بھی سوچیے کہ ایسا کیوں ہے اور کیا اس کے لیے ہم خود بھی ذمہ دار نہیں ہیں؟
بشکریہ رونامہ انقلاب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *