کفر و اسلام کی جنگ یا خانہ جنگی؟

فکر فردا
احمد جاوید
(گذشتہ سے پیوستہ)

اترپردیش کے ایک دیہات سے آنے والے نوجوان کی ملاقات دہلی میں پلی بڑھی ایک لڑکی سے ہوئی۔ نوجوان مدرسہ کا فارغ التحصیل اور یونیورسٹی میں زیرتعلیم تھا۔ دونوں کی شناسائی بڑھی تو وہ ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے یہاں تک کہ معاملہ عشق تک پہنچ گیا اورجیسا ہرعشق میں ہوتا ہے کہ فریقین میں سے کوئی ایک یا دونوں اپنے آپ کو اس وہم میں مبتلا کرلیتے ہیں کہ وہ اس کے بغیر جی نہیں سکتے، یہاں بھی وہی ہوا، ان دونوں نے رشتہ ازدواج میں بندھ جانے کا فیصلہ کرلیا۔ والدین نے بھی بچوں کی پسند اور ان کی ضد کے آگے سرجھکادیا، شادی ہوگئی۔ لیکن جیسا کہ سائنسدانوں کی نئی تحقیق ہے کہ عشق کی عمر تیس سے چالیس ماہ ہوتی ہے، یہ نشہ اترا تو دونوں نے اپنے آپ کو ایک دوسرے کے لیے نا مناسب یا ان فٹ پایا۔ لڑکی تعلیم یافتہ تھی، اس نے یقیناً شادی سے پہلے اس نوجوان کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ پھر اس سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ لڑکے نے بھی اس سے والدین کی مرضی کے خلاف شادی کی تھی اور وہ اس سے جدائی کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ مگر دہلی کی یہ پڑھی لکھی عورت بارہ بنکی کے گاؤں میں کسی بھی قیمت پر رہنے کو تیار نہیں تھی۔ وہ اپنے شوہر کے بھائی بہنوں اور والدین کے ساتھ بدسلوکی کرتی تھی، ان کو ذہنی اذیتیں دیتی تھی۔ شوہراب بیرون ملک ملازمت کرنے لگا تھا لیکن اسے یہ منظور نہ تھا کہ اس کی بیوی تنہا یا اپنے والدین کے ساتھ دہلی میں رہے، وہ اسے اپنے والدین کے ساتھ اپنے آبائی مکان میں رکھنا چاہتا تھا جہاں وہ سال میں ایک دو بار آتا جاتا رہتا تھا لیکن بیوی اس کی یہ بات ماننے اوراس کے اہل خانہ کے ساتھ گزربسر کرنے کے لیے کسی قیمت پر تیار نہ تھی، لہذا اب اس کے گھر میں ایک خانہ جنگی رہنے لگی۔عاجز آ کر اس نے اسے طلاق دے دی۔ اس کے مہر کی رقم پہلے ہی ادا کرچکا تھا، بقیہ واجبات بھی ادا کردئے۔ اب سسرال والے اس کو اور اس کے اہل خانہ کو جہیز کے لیے اذیت دینے کا مقدمہ کردینے کی دھمکی دیتے ہیں۔جس کے جواب میں وہ شخص کہتا ہے کہ وہ چاہے جس طرح کا مقدمہ بھی کردیں ، عدالت میں وہ انکار کردےگا کہ اس نے اس کو طلاق دی ہے۔ وہ عدالت سے کہے گا کہ وہ اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، جبکہ وہ اسے اپنے ساتھ رکھنے کو تیار ہے۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ اگر اس کی نوبت آگئی تو وہ اس کو خرچ تو دے گا لیکن اسے بیوی کی طرح نہیں رکھ سکتا کیونکہ وہ اسے طلاق دے چکا ہے۔ اب آپ بتائیں کہ کیا کوئی قانون یا عدالت ہے جو گھر کے اندر جا کر ان دونوں کے رشتے درست کرے؟ کیا اس مسئلے کا حل کسی کے پاس ہے؟ اسی لیے کہتے ہیں محتسب را درون خانہ چہ کار(گھر کے اندرمحتسب کا کیا کام) اور یہ کہ گھر قانون سے نہیں چلتا محبت اور ایثار سے چلتا ہے۔ اسلام نے سماج کو بدکاری سے پاک کرنے لیے نکاح کو آسان اور ایک بین الفریقین معاہدہ بنایا ہے لیکن گھرسکون کی جا ہو کہ اسی کے سکون پر اگلی نسلوں کا مستقبل منحصرہے، جہنم یا میدان جنگ نہ بن جائے اس کے لیے اس نے جملہ معاشی ذمہ داری جس فریق پر ڈالی، اسی کو اس معاہدہ کو توڑنے کا اختیار دیا اور فریق ثانی کومعقول معاشی تحفظات مہیا کرائی۔ اس کے برعکس اگر بعض مسلم مردوں اور عورتوں نے شریعت کے انتظامات کا غلط استعمال کرکے گھروں کو جہنم بنایا ہوا ہے تو دوسری طرف مذہب مخالف عناصر نے گھروں کو میدان جنگ بنانے اور گھروں کے جھگڑے عدالتوں تک پہنچانے کا سامان کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا ہے۔ ان میں بھی زیادہ پیش پیش یا تو وہ لوگ ہیں جن کے اعصاب پر اسلام دشمنی سوار ہے ورنہ ان کے اپنے مذاہب میں رشتہ ازدواج کی شرطوں میں اس طرح کے سماجی و معاشی تحفظ (سوشل اینڈ اکونومک سیکورٹی) کا دور دور تک کوئی تصور بھی نہیں جواسلام نے خواتین کو دیا ہے یا پھر وہ لوگ جو مرد و عورت کے اس رشتے کو بھی جائز اور قانونی مانتے ہیں جس کا کوئی نام نہیں اور جس کے تحت مرد عورت جب تک چاہتے ہیں ساتھ ساتھ رہتے ہیں اور جب جی بھر جاتا ہے، الگ الگ ہوجاتے ہیں۔
اب ایک قصہ اور سنیے، پھر اس مسئلہ کے دوسرے پہلو پر بات کرتے ہیں۔ گجرات کے ایک شخص نے شادی کی۔ اس نے دولہن کے ساتھ کئی سال بتائے۔ پھر وہ ایک صبح اچانک غائب ہوگیا، اس نے مڑکر کبھی پیچھے نہ دیکھا کہ اس کی کوئی بیوی بھی تھی۔ اس نے اپنے آپ کو ملک و قوم کی خدمت کے لیے وقف کردیا تھا۔ عورت نے ایک مدت تک انتظار کیا اور پھر مایوس ہوکر وہ اپنے والدین کے گھر چلی گئی، اس نے ساری زندگی بیوہ کی طرح گزار دی کیونکہ اس کی شادی ویدک سناتن دھرم کے مطابق ہوئی تھی جہاں طلاق کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ کہنے کو تو ملک کی پارلیمنٹ نے قانون بناکر ہندو عورتوں کو طلاق لینے کا حق دیا ہے لیکن سماج میں آج بھی یہ پاپ ہے۔ وہ مسلمان ہوتی تو عدالت جاکر خلع لے سکتی تھی، عیسائی ہوتی تو طلاق لے لیتی، اگرچہ اسے اس کی کارروائی کی تکمیل تک دو سال انتظار کرنا پڑتا۔ اب اس مظلوم عورت کا پتی پرمیشور ملک کا وزیراعظم ہے لیکن اس کے ساتھ جو ظلم ہوا، اس پر کہیں کوئی ہنگامہ نہیں، کوئی چرچا بھی نہیں ہے، کس کی مجال جو اس شخص سے پوچھے کہ اس عورت کو انصاف کون دے گا۔ اس کا ایک پہلو تو یہی ہے کہ اگر اس قسم کے مسئلے کا اگر کوئی حل ہے تو وہ سماج کے پاس ہے، قانون کے پاس ہرگز نہیں، آپ قانون کچھ بھی بنا دیں، یہ رشتے قائم بھی ہوتے ہیں مذہبی اصولوں پر اور ٹوٹتے بھی ہیں مذہب اور عقائد ہی کے مطابق۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ عدالتیں لوگوں کے گھروں میں گھس کر فیصلہ سنانے یا ان پر قوانین نافذ کر نے نہیں جاتیں۔ وہ اس وقت مداخلت کرتی ہیں جب کسی دو فریق میں اختلاف یا تنازعہ پڑجاتا ہے اور لوگ اپنا مقدمہ لے کر عدالت میں جاتے ہیں۔ حکومت اور کامن سول کوڈ کے وکیلوں کو ہی کو نہیں، مسلمانوں اور دوسرے متأثرین کو بھی اس پر غور کرنا چاہیے؟
اس واقعہ کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس طرح کے مسائل کو سماج میں تناؤ کا موضوع سیاسی مقاصد کے لیے بنایا جارہا ہے۔ ہوڑہ کی عشرت جہاں ہو یا اتراکھنڈ کی سائرہ بانو، ان کے مقدمہ سپریم کورٹ تک اس لیے بھی پہنچ گئے کہ ان خواتین اور ان کے شوہروں کا مذہب میں اعتقاد انتہائی کمزور تھا، سماج کے پاس ان کے دکھوں کا حل نہیں تھا یا سماج کا تانا بانا بکھر رہا ہے اور اس لیے بھی کہ کچھ طالع آزما پڑھی لکھی خواتین کے لیے ان کے مسائل کو اچھالنا سستی شہرت کا ذریعہ تھا اور اس لیے بھی کہ سیاست کو اس میں اپنی دوہری منفعت نظر آرہی تھی، وہ اپنے سر مظلوموں کی ہمدردی کا سہرا بھی باندھ سکتی تھی اور مذہبی منافرت کو ہوا دے کر ووٹوں کا ارتکاز کا سامان بھی کرسکتی۔ ان تینوں عناصر نپٹنے کی دانشمندانہ حکمت عملی اپنائے بغیر نہ تو اس جنگ کو جیتا جا سکتا ہے نہ اس خانہ جنگی۔ آپ نے عدالتوں میں دیکھا ہوگا کہ اکثر کمزور وکیل جیتے ہوئے مقدمے ہار جاتے ہیں اور اچھے وکیل ہارے ہوئے مقدمے جیت جاتے ہیں۔ اس ملک میں مسلمانوں کی ایک پریشانی یہ بھی ہے کہ اس کے مقدمے کمزور وکیلوں کے شور و غوغا میں خراب ہوجاتے ہیں، کیا اس پر بار ایسا ہی ہوگا، کبھی فرصت میں مسئلے اس نکتے پر بھی غور کیجیے اور گریبانوں میں منھ ڈال کر جائزہ لیجیے کہ ہم اسلام کے کتنے مضبوط وکیل ہیں؟ یہ بھی یاد رہے کہ جنگیں میدان کارزار میں ہوں یا کہیں اورصرف طاقت سے نہیں جیتی جاتی، فتح و شکست کا اصل انحصار اخلاقی برتری کی قوت پرہوتاہے۔
(بشکریہ انقلاب)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *