کلیات خواجہ احمد عباس کی پہلی، دوسری اور تیسری جلد پر حقانی القاسمی کا تبصرہ

نگارشات خواجہ احمد عباس کی بازیافت
[آٹھ جلدوں پر مشتمل کلیات کے حوالے سے]

حقانی القاسمی

پروفیسر ارتضیٰ کریم کی مرتب کردہ کلیات آٹھ جلدوں پر محیط ہے۔ یہ کلیات قومی اردو کونسل، نئی دہلی نے شائع کی ہے۔
پہلی، دوسری اور تیسری جلد میں خواجہ احمد عباس کے افسانے شامل کیے گئے ہیں۔ جلد اوّل میں ان کے پانچ افسانوی مجموعوں میں شامل افسانوں کا انتخاب کیا گیا ہے جس میں چھبیس سال کی عمر میں لکھا گیا ان کا پہلا افسانہ ’ابابیل‘ بھی شامل ہے جو رسالہ ’جامعہ‘ نئی دہلی جون1936 میں شائع ہوا تھا۔ یہ خواجہ احمد عباس کی سب سے بہترین کہانی ہے جو دنیا کی بہترین کہانیوں کے انتخاب West German Anthology میں بھی شامل ہے جس کے لیے ہندوستان سے خواجہ احمد عباس کے علاوہ صرف رابندر ناتھ ٹیگور اور ملک راج آنند کی کہانیاں ہی منتخب کی گئی تھیں۔
اس کے علاوہ ان کے افسانوی مجموعوں ’ایک لڑکی‘ (1942)، پاؤں میں پھول (1948)، زعفران کے پھول (مارچ 1948)، میں کون ہوں (1949)، کہتے ہیں جسے عشق (1953) سے افسانوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ان مجموعوں میں شامل جتنے بھی افسانے ہیں وہ فنی اعتبار سے بہت اہم ہیں۔ ان پانچوں مجموعوں میں جن افسانوں کو شامل کیا گیا ہے وہ مختلف مسائل اور موضوعات پر محیط ہیں۔ ان سے خواجہ احمد عباس کا فنی اور فکری تنوع بھی سامنے آتا ہے۔

دوسری جلد بھی افسانوں پر مشتمل ہے جس میں خواجہ احمد عباس کے افسانوی مجموعے ’گیہوں اور گلاب‘ (1955)، دیا جلے ساری رات (1959)، نئی دھرتی نئے انسان (1977)، نیلی ساڑی (1982)، سونے چاندی کے بت (1986) سے افسانوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ان مجموعوں میں بھی جو افسانے ہیں وہ اس اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں کہ خواجہ احمد عباس نے ان میں تکنیکی تجربے بھی کیے ہیں۔ خاص طور پر ’روپے آنہ پائی‘ یہ ایک نیا تجرباتی افسانہ ہے جس میں آمدنی اور خرچ کا گوشوارہ پیش کیا گیا ہے۔ Indian Literary Review کو 18دسمبر 1970 میں انٹرویو دیتے ہوئے خواجہ احمد عباس نے اس کہانی کے بارے میں بتایا کہ جب ایک انگریزی میگزین کو یہ کہانی بھیجی گئی تو اکاؤنٹ بک کی تفصیل سمجھ کر اسے واپس کردیا مگر جب خواجہ احمد عباس نے اس کی وضاحت کی تو کہانی اہتمام کے ساتھ شائع کی گئی۔اس کہانی کا بہت عمدہ تجزیہ محترمہ طاہرہ نقوی نے کیا ہے۔(تفصیل کے لیے دیکھیے: Rupiya, Anna Pai: A Life Told on the Pages of an Accounts Ledger)

اس طرح کے اور بھی تجربے انھوں نے کیے ہیں۔ خواجہ احمد عباس کا کمال یہ ہے کہ ان کا مشاہدہ اور تجربہ بہت وسیع ہے۔ خاص طور پر سماجی معاملات اور معمولات پر بہت گہری نظر ہے۔ انھوں نے Humanistic Concern کی کہانیاں لکھی ہیں۔ عوامی درد و کرب سے ان کا بہت گہرا رشتہ رہا ہے۔ اس لیے ان کے افسانوں کی اساس ان مسائل اور موضوعات پر ہے جن سے عوام کا شب و روز کا رشتہ رہا ہے۔ وہ عوامی مسائل کو بڑی ہی تخلیقی ہنرمندی اور فنکاری کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور سماج کے نشیب و فراز اور مدو جزر کو اپنے افسانوں کا حصہ بناتے ہیں۔ اس طرح ان کے افسانوں کا رشتہ اس افادیت سے جڑ جاتا ہے جس کی توقع ادب سے کی جاتی ہے۔ وہ ایک مقصدی فن کار ہیں اسی لیے اپنے افسانوں میں مقصدیت کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے خیالات کی ترسیل ہر خاص و عام تک ہوجائے۔

تیسری جلد میں خواجہ احمد عباس کی وہ کہانیاں شامل کی گئی ہیں جو ان کے کسی بھی مجموعے میں نہیں ہیں۔ اس جلد کی کہانیاں اس اعتبار سے اہم ہیں کہ یہ مختلف رسائل اور اخبارات میں تلاش و جستجو کے بعد شامل کی گئی ہیں۔ اس جلد میں ہفت وار عوامی دور نئی دہلی، شاہراہ، نقوش، شاعر، ساقی، شمع، بیسویں صدی سے کہانیاں لی گئی ہیں۔ اس میں تقریباً چالیس افسانے ہیں اور یقینی طور پر ان افسانوں کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ خاص طور پر آؤ تاج محل کو ڈھائیں، پانچ گھڑوں کا تاج محل، تین عورتیں اور ایک ریل، دل ہی تو ہے، پیرس کی ایک شام، انٹلکچول اور بینگن، اہم افسانے ہیں اور یہ وہ افسانے ہیں جن پر شاید کم گفتگو ہوئی ہے۔ جبکہ موضوعی اعتبار سے یہ افسانے بہت قیمتی ہیں۔
ان تین جلدوں میں خواجہ احمد عباس کی تقریباً پوری افسانوی کائنات سمٹ آئی ہے۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے ان کے افسانوں کے تعلق سے لکھا ہے کہ ’’انھوں نے تقریباً سواسو کہانیاں لکھی ہیں اور ان کے افسانوی مجموعوں کی تعداد دس ہی ہے اور بقیہ افسانوی مجموعے انہی دس مجموعوں کی بنیاد پر اردو کے پبلشرز اپنے اپنے طور پر تیار کرتے رہے اور بازار میں لاتے رہے جنھیں جعلی ایڈیشن بھی کہا جا سکتا ہے۔ ان مجموعوں میں بھی بعض افسانے اشاعت مکرر کی حیثیت رکھتے ہیں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ ’’بعض لوگوں نے ان کے مضامین کو افسانہ تصور کرتے ہوئے افسانے کے زمرے میں شریک کرلیا ہے۔ یہی سہو رام لعل اور پروفیسر صغریٰ مہدی سے ہوا ہے۔‘‘

اردو کی طرح انگریزی اور ہندی میں بھی ان کی کہانیاں چھپی ہیں ۔اردو میں ان کی کہانیوں کا ایک انتخاب مشہور افسانہ نگار رام لعل نے ’خواجہ احمد عباس کے منتخب افسانے ‘ (1988) کے عنوان سے شائع کیا ہے جس میں سترہ افسانے ہیں۔ ایک افسانہ ’سردارجی‘ بھی ہے جسے ’میری موت‘ کے عنوان سے شامل کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس افسانے پر سکھوں نے احتجاج کیا تھا اور خواجہ احمد عباس پر مقدمہ بھی چلایا گیا تھا جس کی تفصیل خواجہ احمد عباس نے اپنے ایک انٹرویو میں بھی بیان کی ہے۔ محترمہ صغریٰ مہدی نے بھی ’اگر مجھ سے ملنا ہے‘ (2014) کے عنوان سے ان کے افسانوں کا انتخاب شائع کیا تھا جس میں 18 افسانے شامل ہیں۔
انگریزی میں ان کی جو کتابیں مشہور ہیں ان میںI am not an Island (جس کا پیش لفظ امیتابھ بچن نے لکھا ہے اور سریش کوہلی نے اسے ایڈٹ کیا ہے)، Bread, Beauty Revoution (انگریزی میں عفت فاطمہ اور سیدہ سیدین حمید نے ایڈٹ کیا ہے):
Inquilab *
An Evening in paris and other Stories  *
Sardar Ji and other Stories *
An Evening in Lucknow   *
Bombay My Bombay    *
The Walls of Glass     *
That Woman  *
قابل ذکر ہیں۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خواجہ احمد عباس نہ صرف اردو بلکہ ہندی اور انگریزی کے بھی مقبول افسانہ نگار تھے اور ان کو پسند کرنے والوں کا ایک بڑا حلقہ تھا جو کسی ایک لسانی دائرے میں محصور نہیں تھا۔ ان پر اردو میں راج نرائن راز نے ’خواجہ احمد عباس :افکار، گفتار، کردار‘ (1989) کے عنوان سے ایک کتاب مرتب کی تھی جس میں مشاہیر ادب کی تحریریں شامل ہیں اور خواجہ احمد عباس کے شخصی اور فنی زاویوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ عباس رضا نیراور ڈاکٹر غلام حسین کی کتابیں بھی خواجہ احمد عباس کے حوالے سے شائع ہوچکی ہیں۔ وہیں انگریزی میں بھی خواجہ احمد عباس کی تحریروں کو تحقیق و تنقید کا موضوع بنایا گیا ہے۔ ان کے فکر و فن پر انگریزی میں صرف مضامین نہیں لکھے گئے بلکہ کتابیں بھی لکھی گئیں جن میں درج ذیل کتابیں قابل ذکر ہیں :
(1) Ahmad Hasib, The Novels of Khawja Ahmad Abbas: A Study in His Art and Vision (Delhi: Seema Publications, 1987)
(2) Chandalia, H.S., Ethos of Khwaja Ahmad Abbas (Jaipur: Bohra Prakashan, 1996)
اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان کی تحریروں میں لوگوں کو اپیل کرنے کی یا مہمیز کرنے کی پوری قوت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ خواجہ احمد عباس کی کہانیوں کو جتنی مقبولیت اردو میں ملی اتنی ہی مقبولیت ہندی اور انگریزی میں ملی اور کسی بھی تخلیق کار کے لیے یہ بہت بڑا اعزاز ہوتا ہے کہ اس کو پسند کرنے والا طبقہ مختلف لسانی اور تہذیبی معاشرے سے تعلق رکھتا ہو۔ یہ ان کی آفاقی نظر کو بھی واضح کرتا ہے کہ ان کے افسانوں کا تخاطب کسی خاص طبقے یا سماج سے نہیں تھا بلکہ پوری انسانیت سے تھا اور ایسے ہی انسانی افکار و اقدار کی ترسیل کی وجہ سے خواجہ احمد عباس کو مختلف ذہن اور مزاج رکھنے والے افراد نے قبول کیا ہے۔
خواجہ احمد عباس کے جگر میں سارے جہاں کا درد تھا۔ ان کا بنیادی رشتہ انسانیت سے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ :
“Every writer, should be a humanist.”
انہوں نے ’غبارِ کارواں میں لکھا ہے:
انسانیت اور سوشلزم کے ناتے سے میرے رشتہ دار ساری دنیا میں روس میں، امریکہ میں، انگلستان میں اور چین میں پھیلے ہوئے ہیں اور جو کچھ ہوتا ہے وہ مجھ پر (اور ہر شخص پر) اثرا نداز ہوتا ہے۔ کیونکہ جیسا ایک یوروپین شاعر جان ڈان (John Donne) نے کہا ہے۔
’’کوئی انسان جزیرہ نہیں ہے‘‘
’’ہر انسان سمندر میں ایک قطرہ ہے‘‘
ہر انسان زمین کا ایک ذرہ ہے‘‘
’’ہر انسان کی موت میری موت ہے کیونکہ میں اور انسانیت جدا نہیں ہیں‘‘
خواجہ احمد عباس کمیونزم اور مارکسزم سے بہت متاثر تھے۔ ترقی پسند تحریک سے ان کی وابستگی رہی مگر وہ Dogmatic Communist کبھی نہیں رہے۔ وہ non-confirmist تھے۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *