کلیات خواجہ احمد عباس کی چوتھی، پانچویں اور چھٹی جلد پر تبصرہ

حقانی القاسمی

’کلیاتِ خواجہ احمد عباس‘ کی چوتھی، پانچویں اور چھٹی جلدیں ناولوں پر محیط ہیں۔ چوتھی جلد میں چار دل چار راہیں، شیشے کی دیواریں، بمبئی رات کی بانہوں میں اور چار یار شامل ہیں۔ پانچویں جلد میں انقلاب، دو بوند پانی جیسے ناولوں کو شامل کیا گیا ہے اور چھٹی جلد میں فاصلہ، تین پہیے، ایک اور پریم کہانی، جوالا مکھی (نامکمل جاسوسی ناول) کی شمولیت ہے۔ خواجہ احمد عباس ایک بڑے ناول نگار تھے ۔ فکشن تنقید میں بھی ان کے ناولوں کے حوالے سے گفتگو کم کم ہی سہی مگر ہوتی رہی ہے۔ خاص طور پر ان کا سوانحی ناول ’انقلاب‘ تذکروں میں اکثر شامل رہا ہے۔ اس ناول کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ خواجہ احمد عباس کا پہلا ناول ہے۔ ڈاکٹر ارتضیٰ کریم کا بھی خیال ہے کہ ’’یہ ناول 1975 میں ضرور شائع ہوا، لیکن یہ ان کی پہلی کوشش ہے۔‘‘ اس ناول کے تعلق سے خود خواجہ احمد عباس نے جو باتیں لکھی ہیں وہ بڑی اہم ہیں اور عبرت انگیز بھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردو ناولوں کے تئیں ہمارے ناقدین اور قارئین کا رویہ کیسا رہا ہے۔ خواجہ احمد عباس ’من کہ‘ کے تحت لکھتے ہیں کہ ’’سب سے مشہور ناول اردو میں ’انقلاب‘ تھا، پندرہ برس کے بعد جب اس کا روسی ایڈیشن ’سن آف انڈیا‘ (فرزند ہند) کے نام سے 90000 کی تعداد میں بک گیا، تب بھی جب کوئی پبلشر اتنی ضخیم کتاب چھاپنے کو تیار نہیں تھا، تب میں نے خود گیارہ سو کی تعداد میں اس کو اپنے خرچ سے چھاپا اور بیچنے کی کوشش کی۔ میں نے اس کے اجرا کی رسم اپنے ہی گھر پر کی۔ کوئی پچاس ساٹھ اردو کے ادیب، ایڈیٹر، شاعر، جرنلسٹ وغیرہ اکٹھے کیے۔ ہر ایک کو تحفتاً ایک ایک جلد دی۔ امید تھی کہ کچھ تو ان میں سے کچھ ’اچھا یا برا اس کے بارے میں لکھیں گے، مگر جب وہ لوگ لنچ کھا کر میرے گھر سے رخصت ہوئے تو (اس واقعہ کو سات برس گزر چکے ہیں) آج تک کوئی ریویو بھی کسی نے نہیں لکھا۔ میں کسی کی شکایت نہیں کر رہا ہوں۔ ایک واقعہ بیان کر رہا ہوں کہ اردو میں زیادہ ناول کیوں نہیں چھپتے۔‘‘

یہ عمومی صورت حال ہے جس کی طرف خواجہ احمد عباس نے اشارہ کیا ہے۔ جب خواجہ احمد عباس جیسے ناول نگار کے ساتھ یہ معاملہ ہے تو چھوٹے موٹے فکشن نگاروں کے ساتھ کیا رویہ رہتا ہوگا یہ سمجھ سے باہر نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ اردو میں اچھے ناولوں کی تعداد کم ہے اور اس سے بھی کم ناول تنقید ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ بقول خواجہ احمد عباس:
1958 میں یہ ناول سوویت یونین کی یوکرنین زبان میں شائع ہوا۔ پہلا ایڈیشن پندرہ ہزار کا چھپا۔ دوسرا ایڈیشن جو پچھلے سال چھپا ہے پچاس ہزار کا ہے۔
1958 ہی میں یہ ناول سوویت یونین ہی کی آذربائی جانین زبان میں شائع ہوا۔ جو مختصر سے علاقے کی زبان ہے۔ (تعداد اشاعت پندرہ ہزار)
1959 میں چیکو سلو واکیہ کی سلو واکین زبان میں شائع ہوا۔ (تعداد اشاعت تین ہزار)
1960 میں سوویت قذاقستان کے ایک ادیب ساتھی ہندوستان تشریف لائے اور ایک کاپی قذاق ترجمے کے ساتھ لیتے آئے جو 1959 میں وہاں شائع ہوا تھا۔ قذاق ایک نئی زبان ہے جو بہت کم لوگ بولتے ہیں۔ (تعداد اشاعت چھ ہزار)
1961 میں ہندی زبان میں میرے دوست اور بہنوئی منیش نرائن سکسینہ نے جو ہندی کے مستند ادیب اور مترجم ہیں، اس کا ترجمہ کیا اور راجپال اینڈ سنز نے شائع کیا۔ (تعداد اشاعت دو ہزار)
جب سے کوشش کرتا رہا کہ اُردو کا کوئی پبلشر اس ناول کو چھاپنے کو راضی ہو جائے لیکن لوگ اس کی ضخامت دیکھتے ہی’نہیں‘ کہہ دیتے تھے۔ پڑھنے کی تکلیف کسی نے نہ کی۔ جب کوئی تیار نہ ہوا تو اپنے اکسٹھویں سال میں میں نے اس کی خود کتابت کرائی، خود چھپوایا، اپنے خرچ سے خود شائع کیا۔ (تعداد اشاعت: ایک ہزار!!!) دیکھیں کتنے برس میں یہ بکے گا۔ ‘‘
ذرا سوچیے جب روسی زبان میں چھپا تو اس کی 90000 ہزار کاپیاں فروخت ہوگئیں جبکہ اردو کا معاملہ یہ ہے کہ یہاں ناول سو ڈیڑھ سو سے زیادہ نہیں بک پاتے ہیں۔ ’انقلاب‘ ان کا ایک ایسا ناول ہے جس میں انہوں نے ہندوستان کی قومی تاریخ کو پیش کیا ہے۔ اس میں وہ گاندھیائی فکر اور فلسفے سے بہت زیادہ متاثر نظر آتے ہیں۔ اس ناول کے حوالے سے C.R. Yaravintelimath نے The Journal of Humanaties Karnataka University Dharwar 1987 میں Inquailab a Novel of Revolution کے عنوان سے بہت عمدہ مضمون لکھا ہے۔
اسی جلد میں خواجہ احمد عباس کا ناول ’جوالا مکھی‘ بھی شامل ہے جس کو پروفیسر ارتضیٰ کریم نے ڈاکٹر سید یحییٰ نشیط کے ایوان اردو فروری 2015 میں چھپے ایک مضمون کے توسط سے دریافت کیا۔ یہ ناول ’طبی دنیا‘ دہلی میں قسط وار شائع ہو رہا تھا۔ ارتضیٰ کریم نے اس ناول کے حوالے سے ڈاکٹر یحییٰ نشیط کی یہ رائے بھی درج کی ہے:
’’اس ناول کی پہلی قسط ستمبر 1936 میں شائع ہوئی تھی۔ اسی سال انجمن ترقی پسند مصنّفین کا قیام عمل میں آیا تھا اور اس کا پہلا اجلاس منشی پریم چند کی صدارت میں ہوا تھا۔ لکھنؤ میں ہوئے اس اجلاس کے بعد سے گویا اس انجمن کو تحریک ملی، پھر بھیونڈی اور ممبئی میں اس کے جلسے ہوتے گئے اور ادب میں ایک مضبوط تحریک کے طور پر وہ کام کرنے لگی۔ خواجہ احمد عباس، کرشن چندر، علی سردار جعفری،عزیز احمد، سجاد حیدر یلدرم ،عصمت چغتائی وغیرہ فعال ادیبوں کے دم سے اس انجمن کی خوب ترقی ہوئی، مگر ’جوالا مکھی‘ لکھتے وقت خواجہ احمد عباس اکیلے تھے، ان کا کوئی ہم نوا تھا نہ کوئی ہمسر۔ یہی ایک ناول تھا جس میں اشتراکیت کی مدھم سی گونج سنائی دے رہی تھی۔ اس اعتبار سے بھی ’جوالا مکھی‘ کی کلیدی اور بنیادی اہمیت کو اردو ادب میں تسلیم کیے بغیر مفر نہیں۔
ان تمام خصوصیات کے سبب خواجہ احمد عباس کے ناول ’جوالا مکھی‘ کو اردو کا پہلا ترقی پسند ناول کہا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے گمشدہ ابواب کی بازیافت کے لیے کوشش کی جائے اور اسے مکمل صورت میں سامنے لانے کے جتن کیے جائیں ۔‘‘
اس جلد میں بھی جوالا مکھی کی صرف ایک قسط شامل کی گئی ہے۔ ضرورت ہے کہ اس ناول کی تمام قسطیں تلاش کی جائیں کیونکہ یہ ناول ان کی اشتراکی فکر اور نظریے کی عکاسی کرتا ہے۔
خواجہ احمد عباس نے بہت سے ناول لکھے مگر ہماری ناول تنقید کا المیہ یہ ہے کہ ان کے بہت سے ناولوں کو تنقیدی ڈسکورس میں شامل نہیں کیا گیا۔ بہت ممکن ہے کہ یہ ناول کمزور ہوں مگر ان کمزوریوں کا بیان بھی ضروری ہے۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے بھی فکشن ناقدین کے سامنے یہ سوال رکھا ہے کہ ’’آخر ان میں پلاٹ، کردار نگاری، مکالمہ نگاری، منظرنگاری یا ناول کے فن کے باب میں کتنے آنچ کی کسر رہ گئی ہے۔ اس پر بات تو ہونی ہی چاہیے تھی تاکہ ان کی فنی کمزوریوں کا اندازہ لگایا جاسکتا مگر ہمارے ناقدین نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔‘‘ ڈاکٹر ارتضیٰ کریم کا یہ سوال بہت معنی خیز ہے اور یہ سوال صرف خواجہ احمد عباس کے ناولوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اردو میں بہت سے ناولوں کے تعلق سے یہی سوال قائم کیا جا سکتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہماری ناول تنقید صرف چند ناولوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے جس کی وجہ سے بہت سے اہم ناول آج بھی تنقید نگاروں کی نگاہ گوہر شناس سے محروم ہیں اور اس کی وجہ سے فکشن تنقید کا دائرہ محدود ہوگیا ہے۔
اس پر ناقدین کو سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان تینوں جلدوں میں خواجہ احمد عباس کے جو ناول ہیں ان میں سے اکثر پر گفتگو نہیں ہوئی ہے اس لیے ہماری ہمعصر تنقید کا فریضہ ہے کہ ان ناولوں کو تنقید کا موضوع بنائے اور ان کی خوبیوں اور خامیوں کو واضح کرے۔ خواجہ احمد عباس نے موضوعی اوراسلوبی ہر اعتبار سے ناول کے کینوس کو وسیع کیا ہے۔ اس اعتبار سے ان کے ناولوں پر الگ سے تحقیقی مقالہ لکھا جانا چاہیے۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *