کلیات خواجہ احمد عبّاس کی آٹھویں جلد پر حقانی القاسمی کا تبصرہ

حقانی القاسمی
کلیات خواجہ احمد عبّاس کی آٹھویں جلد ڈرامے اور مضامین پر محیط ہے۔ اس میں زبیدہ، انناس اور ایٹم بم، بارہ بج کر پانچ منٹ، لال گلاب کی واپسی جیسے ڈرامے شامل کیے گئے ہیں۔ خواجہ احمد عباس کا اپٹا سے تعلق رہا ہے۔ اس لیے ان کے ڈرامے اسٹیج بھی کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے ڈرامے میں عصری منظرنامے کو پیش کیا ہے۔ خاص طور پر وہ جس اشتراکی فکر کے حامل تھے اسی نظریے کی تبلیغ و تشہیر انہوں نے ڈراموں کے ذریعے کی ہے۔ انسانی مساوات اور معادلت پر ان کا یقین کامل تھا۔ اسی لیے ان کے بیشتر ڈرامے انسان دوستی اور اتحاد و اتفاق اور یکجہتی کے جذبات پر مبنی ہیں۔ یہ سارے ڈرامے مقصدی اور افادی ڈرامے ہیں جن سے سماج کو روشنی بھی ملتی ہے اور نئی راہ بھی۔
اسی جلد میں کچھ مضامین بھی شامل کیے گئے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر صحافتی نوعیت کی تحریریں ہیں۔ اس میں مختلف موضوعات اور مسائل کے حوالے سے انہوں نے اپنے بیباکانہ خیالات کا اظہار کیا ہے اور پرکشش عنوان کے ذریعے قاری کے ذہن کو بھی متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان مضامین میں الٰہ دین اور اس کا عجیب و غریب چراغ، ڈاکٹر انصاری اور مونچھیں اور انگلیاں، اقبال، وطنیت اور انقلاب، اور انسان مر گیا، غبار کارواں شامل ہیں۔ صحافت میں ان کی پوری عمر گزری تھی۔ وہ بمبئی کرانیکل سے بھی وابستہ رہے۔ بلٹز سے بھی ان کا تعلق رہا اور علی گڑھ میں جب وہ بی اے میں انگریزی کے طالب علم تھے تو اس وقت علی گڑھ اوپینین کے نام سے ایک اخبار بھی نکال رہے تھے۔ اس لحاظ سے ان کی بیشتر تحریروں پر حتیٰ کہ ناولوں پر بھی صحافت کے اثرات ملتے ہیں۔
اس کے علاوہ سونے اور چاندی کے بت کے عنوان سے فلموں کے حوالے سے کچھ تحریریں ہیں جو فلموں کے شائقین کے لیے بہت اہم ہیں۔ خواجہ احمد عباس فلموں کے اسکرپٹ رائٹر اور ڈائریکٹر بھی رہے ہیں۔ ان کی مشہور فلموں میں بوبی، آوارہ، شری 420، میرا نام جوکر وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے فلم کو ایک نیا بیانیہ دیا۔ ان کے فلموں کے حوالے سے Rashmi Doraiswamy  نے New Narratives for the New Age: The Cinema of K.A. Abbas کے عنوان سے بہت عمدہ مضمون لکھا ہے۔
فن اور فنکار کے تحت فلمی دنیا کی اہم ترین شخصیتوں میں شانتا رام، پرتھوی راج کپور، راج کپور، دلیپ کمار، مینا کماری، بلراج ساہنی، امیتابھ بچن، ساحر لدھیانوی، راجندر سنگھ بیدی، ستیہ جیت رے وغیرہ پر لکھا ہے۔ فلمی شخصیات پر جو تحریریں ہیں وہ اس اعتبار سے اہم ہیں کہ بیشتر شخصیات سے ان کی ملاقاتیں رہی ہیں اور شب و روز کا رشتہ رہا ہے۔مینا کماری کے حوالے سے انہوں نے بہت ہی جذباتی مضمون لکھا ہے۔ پڑھ کر آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ فلم اسٹار مینا کماری کے علاوہ ایک اور مینا کماری کو انہوں نے دریافت کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’اس مینا کماری کے اندر کئی اور مینا کماریاں چھپی ہوئی تھیں۔ ایک اداکارہ تو مینا کماری تھی جو فلم کی جھوٹی اوپری دنیا میں بھی اپنے رول میں اتنی کھو جاتی تھی کہ پھر اسے دنیا کی کسی بات کی سدھ بدھ نہیں رہتی جو اچھی ایکٹنگ اس لیے نہیں کرتی تھی کہ اسے لاکھوں روپے ملیں گے، نہ اس لیے کہ اس کے فن کی تعریف ہوگی بلکہ اس لیے کہ اس کی اداکاری سے اس کی روح کو خوشی ہوگی، من کو شانتی ملے گی اور اس اداکارہ مینا کماری میں ایک حساس، نازک مزاج شاعرہ موجود تھی جو چھپ کر اپنی تسکین قلب و روح کے لیے شعر کہتی تھی اور جس نے زندگی کے آخری سال میں اپنی غزلوں کو خود گا کر ریکارڈ کرایا۔ اور اس رومانی مزاج کی شاعرہ کے اندر وہ بچّی چھپی ہوئی تھی جسے ماں باپ نے مہ جبیں کا نام دیا تھا اور جس نے کبھی بڑی غریبی کا بچپن بتایا تھا اور جو گڑیا کھیلنا چاہتی تھی اور ہنڈولے میں بیٹھنا چاہتی تھی اور ہنڈکلیا پکانا چاہتی تھی، شادی کر کے گود میں بچوں کو کھلانا چاہتی تھی لیکن جسے گھر کی اقتصادی مشکلات نے بچپن کی خواہشوں امنگوں اور آرزوؤں کو خیر باد کہہ کر سات برس کی عمر میں فلم ایکٹنگ کو اپنا ذریعۂ معاش بنانے پر مجبور کر دیا تھا۔
اور آج جبکہ وہ اس دنیا میں نہیں ہے تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ساری عمر مینا کماری اسی مہہ جبیں کو تلاش کرتی رہی۔ وہ معصوم بچی جو اس کے من کے اندھیرے میں چھپی بیٹھی رہی اور جس بچی کے من میں نہ جانے کتنے سپنے، کتنی آرزوئیں، کتنی امنگیں چھپی تھیں اور شاید مینا کماری کی روح کی بے چینی، اس کی شاعرانہ بادہ خواری، اس کی غم انگیز تلخ مسکراہٹ، اس کی اداکاری میں جو گہرائی، سنجیدگی اور ٹھہراؤ تھا وہ سب اسی تلاش کی دین تھی۔
مگر آج وہ تلاش ختم ہو گئی ہے۔
مینا کماری اور مہ جبیں مر کر ایک ہوگئی ہیں۔
صرف ایک افسانہ باقی رہ گیا ہے اور چند دلکش افسردہ یادیں!‘‘
اسی طرح انہوں نے امیتابھ بچن کے حوالے سے لکھا ہے:
’’تھوڑے دنوں میں امیت اردو کا ماہر بن گیا اور اپنی مشہور آواز میں اردو کے شعر تو ایسے پڑھتا تھا کہ کوئی بھی داد دیے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ فلم ’’کالیا‘‘ میں اس نے کس خوبی کے ساتھ مکالمے اور اردو شاعروں کے شعر ادا کیے ہیں کہ مجھے خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ ’سات ہندوستانی‘ میں ہماری محنت رائیگاں نہیں گئی۔‘‘
یہاں خاطر نشاں رہے کہ آج کے سپر اسٹار امیتابھ بچن کو فلم میں اداکاری کا سب سے پہلا موقع خواجہ احمد عباس نے اپنی فلم ’سات ہندوستانی‘ میں دیا تھا۔ ان سے قبل امیتابھ بچن کو لمبا، بے ڈول اور کارٹون کہہ کر رد کردیا گیا تھا۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے Ahmad Abbas: The Man who gave us Amitabh bacchchan, The Hindu June 11, 2016)
اس جلد میں عصمت چغتائی کی چوتھی کا جوڑا، دروازہ کھول دو، کرشن چندر کی کہانی، بلور کا بنا ہوا آدمی، آرٹ اور روپیہ اور فلم، چار سو تیس فلمیں یا چار سو بیس فلمیں وغیرہ جیسی تحریریں بھی شامل ہیں۔ بلور کا بنا ہوا آدمی مولانا آزاد کے حوالے سے ہے جس میں انہوں نے مولانا سے ملاقات کا حال لکھتے ہوئے ان کی نفاست اور وضع داری پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اتنا صاف شفاف آدمی میں نے اور نہیں دیکھا ہے۔ جب بھی ملو لگتا تھا کہ ابھی ابھی نہا دھو کر نکلے ہیں۔ یہ صفائی اور نفاست جسم یا شریر کی ہی نہیں دل کی آتما کی بھی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ آدمی گوشت پوست کا نہیں بلور کا بنا ہوا ہے جس میں علم کا نور اور گیان کی روشنی جھلکتی ہے۔‘‘
آٹھ جلدوں پر مشتمل اس کلیات میں خواجہ احمد عباس کی بیشتر تحریریں شامل ہوگئی ہیں مگر بہت سی تحریریں اب بھی ایسی ہیں جنہیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ خواجہ احمد عباس اپنے عہد میں تو مقبول تھے اور اس زمانے میں ان کی تحریریں بڑی دلچسپی اور ذوق وشوق سے پڑھی جاتی تھیں۔ ان تحریرو ں کی خوبی یہ ہے کہ یہ زمانی اور مکانی حصار سے ماورا ہیں اور آج کے عہد میں سیاق و سباق کی ذراسی تبدیلی کے ساتھ یہ تحریریں اور بھی معنویت کی حامل ہوگئی ہیں کیونکہ یقین کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ آج کے عہد میں خواجہ احمد عباس کی طرح لکھنے والا کوئی نہیں ہے اور نہ ہی ہمارا عہد دوسرا خواجہ احمد عباس پیدا کرسکتا ہے۔ ان کی تحریروں میں دوامیت کے نقوش ہیں اور کہیں ایسا نہیں لگتا کہ وہ تحریریں ایک خاص عہد کے لیے لکھی گئی ہیں، ان تحریروں کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان میں آفاقی اقدار ہیں اور انہی آفاقی قدروں کی وجہ سے یہ تحریریں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ یہ صرف تحریریں نہیں ہیں بلکہ وہ روشنی اور اجالے ہیں جو خواجہ احمد عباس کے ذہن سے نکل کر تحریروں میں بکھر گئے ہیں اور یہ صرف ان کے ذہن کی نہیں بلکہ روح کی بھی روشنی ہے۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے خواجہ احمد عباس جیسی متنوع اور جامع الکمالات شخصیت کی تحریروں کو یکجا کر دیا ہے۔ نگارشات خواجہ احمد عباس کی یہ بازیافت یقیناً ایک بڑا کام ہے۔ اس کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے کیونکہ آج کے دور میں وسائل کی فراوانی کے باوجود ان تمام تحریروں تک رسائی آسان نہیں، ارتضیٰ کریم نے خواجہ احمد عباس کی تحریروں تک براہِ راست رسائی کی جو صورت نکالی ہے اس سے یقیناً پورا اردو معاشرہ کسب فیض کرسکتا ہے۔
کلیات پر ان کا بیش قیمت مقدمہ ہے جو کلیات کی ضخامت کے اعتبار سے مختصر ضرور ہے مگر جامع ہے۔ خواجہ احمد عباس کے تعلق سے ان کا تحقیقی کام صرف کلیات تک محدود نہیں ہے بلکہ انہوں نے ہفت روزہ ’بلٹز‘ ممبئی میں شائع ہونے والا خواجہ احمد عباس کا مقبول ترین اور طویل مدتی کالم ’آزاد قلم‘ بھی مرتب کیا ہے جو جلد ہی منظر عام پر آئے گا۔ آخری صفحے پر شائع ہونے والے ’آزاد قلم‘ کو مرتب کرنے کی ضرورت اس لیے بھی تھی کہ یہ ایک ایسا کالم تھا جس کا قارئین بے چینی سے انتظار کرتے تھے۔ آٹھ جلدوں میں کلیاتِ خواجہ احمد عباس کی اشاعت جہاں پروفیسر ارتضیٰ کریم کا ایک قابل قدر کارنامہ ہے وہیں ’آزاد قلم‘ کا انتخاب بھی خواجہ احمد عباس کو ایک سچا اور اچھا خراج عقیدت !
قومی اردو کونسل سے شائع شدہ آٹھ جلدوں پر مشتمل پورے سیٹ کی قیمت:1935 روپے ہے۔
کلیات خواجہ احمد عباس حاصل کرنے کے لیے درج ذیل پتے پر رابطہ کریں:
شعبۂ فروخت: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، ویسٹ بلاک 8، ونگ 7، آرکے پورم، نئی دہلی ۔ 66
فون: 011-26109746
E-mail.:sales@ncpul.inHaqqani Al-Qasmi
Cell.: 9891726444
Email: haqqanialqasmi@gmail.com

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *