کلیات خواجہ احمد عبّاس کی ساتویں جلد پر حقّانی القاسمی کا تبصرہ

حقّانی القاسمی

کلیات کی ساتویں جلد سوانح اور سفرنامے پر مشتمل ہے۔ سوانح کے ذیل میں مسولینی فاشیت اور جنگ حبش، مولانا محمد علی جوہر، خروش چیف کیا چاہتا ہے ہیں تو سفرنامے کے تحت سرخ زمین اور پانچ ستارے، مسافر کی ڈائری شامل کیے گئے ہیں۔ خواجہ احمد عباس نے مسولینی کو ایک غیرمعمولی شخصیت قرار دیا ہے اور یہ لکھا ہے کہ اس وقت جس شخص کا دنیا میں سب سے زیادہ چرچا ہے وہ مسولینی ہے۔ وہ بہتوں کی نظر میں اٹلی کا نجات دہندہ تو کچھ لوگوں کی نظر میں وہ مطلق العنان حکمراں ہے۔ خواجہ احمد عباس نے مسولینی کی زندگی کے تعلق سے بہت اہم انکشافات کیے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ دنیا کے مشہور انسانوں کی طرح مسولینی کی پیدائش بھی ایک غریب گھرانے میں ہوئی۔ باون سال ہوئے اٹھارہ سو تراسی میں اٹلی کے صوبہ روما گنہ کے ایک گاؤں وارنوڈی کوسٹا میں لوہار کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا۔ لوہار کا نام مسولینی تھا۔ بچے کا نام بینی تیور رکھا گیا۔ کئی پشت سے مسولینی خاندان کے لوگ لوہار کا کام کرتے تھے لیکن کچھ عرصے سے بینی تیور کے باپ نے اپنا خاندانی پیشہ چھوڑ کر سرائے گیری شروع کردی تھی۔ اس غریب بھٹیارے یا اس کی بیوی کو کیا معلوم تھا کہ اس کا لڑکا آئندہ چل کر تمام اٹلی کا حکمراں ہوجائے گا‘‘ خواجہ احمد عباس نے ’فاشیت اور مسولینی‘ کے عروج کے تعلق سے بہت اہم معلومات بھی درج کی ہیں۔ مسولینی جارحانہ قوم پرستی، قومی غرور اور فاشیت پر یقین رکھتا تھا۔ اس لیے اس نے اپنی قوم کو جنگ کی تعلیم دی اور وہ امن کو دنیا کی ترقی میں ایک رکاوٹ خیال کرتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ فاشیت دنیامیں امن قائم کرنے کو ناممکن سمجھتی ہے اور ناکارآمد۔ اس لیے ہم عدم تشدد کے نظریے کو مسترد کرتے ہیں جو کمزوری اور بزدلی کا ثبوت ہے۔ صرف جنگ ہی انسانی خوبیوں اور قابلیتوں کو ظاہر کرتی ہے۔ خواجہ احمد عباس لکھتے ہیں کہ مسولینی نے بھی نفرت کے جذبے کو ترقی دے کر اسے اپنا آلہ کار بنایا ہے۔ ہر فاشی کا اعتقاد ہے کہ اس کی قوم دنیا کی بہترین قوم ہے اور دوسری تمام قومیں اٹلی کو نقصان پہنچانے کے در پے ہیں اور اس کے ملک کی حفاظت صرف فاشیت ہی کرسکتی ہے۔ یہ مضمون بہت اہم ہے۔ موجودہ عصری سیاسی تناظر میں بھی پڑھا جائے تو اس مضمون کی معنویت ظاہر ہوگی۔
شہید ملت رئیس الاحرار مولانا محمد علی مرحوم‘ کی مختصر سوانح حیات تحریر کی ہے جس میں انھوں نے محمد علی جوہر کے شخصی احوال کے علاوہ صحافتی اور سیاسی زندگی کے حوالے سے لکھا ہے مولانا محمد علی جوہر پر بہت بیش قیمت تحریر ہے جس میں ان کی دلیری اور حق گوئی کو خراج پیش کیا گیا ہے۔ ان کی شاعری وصحافت کے حوالے سے بھی بہت سی اہم باتیں تحریر کی گئی ہیں۔
’خروش چیف کیا چاہتا ہے‘ یہ بھی ایک اہم تحریر ہے جس کا آغاز ’کالینو کے کسان کا لڑکا‘ کے عنوان سے ہوا ہے۔ انھوں نے خروش چیف پر لکھتے ہوئے بڑی اہم بات لکھی ہے کہ خروش چیف کا کنبہ کسانوں میں سب سے غریب تھا۔سردی کے موسم میں خروش چیف کے والد یوکرین کے علاقے میں ڈوبناس کی کانوں میں کام ڈھونڈنے جایا کرتے تھے۔ یہ کام بھی وہ پولیس سے ڈر کر کیا کرتے تھے کیونکہ زار کے زمانے میں کوئی بھی کسان اپنا گاؤں چھوڑ کر نہیں جاسکتا تھا۔
خواجہ احمد عباس کی تحریر سے پتہ چلتا ہے کہ خروش چیف جو عظیم سوویت کا وزیراعظم تھا پندرہ سال کی عمر تک بھیڑ بکریاں اور جاگیرداروں کی گائے چرایا کرتا تھا۔ اس کے بعد ایک ایسے کارخانے میں کام کیا جس کے مالکان جرمن تھے۔ پھر ایک ایسی کان میں کام شروع کیا جو فرانسیسیوں کی ملکیت تھی۔ دواؤں کے پلانٹ میں کام کیا، جو بلجیم کے سرمایہ داروں کی ملکیت تھی۔ خروش چیف کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ وہ اپنے ہم پلہ سیاست دانوں کے مقابلے میں غریب تھا۔ ان کے ہمعصر سیاست داں آئزن ہاور امیر کاشت کار کے بیٹے تھے تو میک میلن کے والد برطانیہ کے بڑے امیر ناشر تھے مگر خروش چیف بہت ہی غریب کسان کنبے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد ایک غریب کسان تھے جو سردی کے موسم میں کوئلے کی کانوں میں محنت مزدوری کیا کرتے تھے۔ لڑکپن میں سوروں اور بھیڑوں کے ریوڑ چرایا کرتے تھے۔ پھٹے پرانے بوسیدہ کپڑے پہنتے تھے اور ننگے پاؤں گھومتے تھے اور یہی شخصیت جب سیاست میں آتی ہے تو بہت ہی بلند مقام پر فائز ہوتی ہے۔ خروش چیف کے تعلق سے خواجہ احمد عباس نے بہت اہم معلومات مہیا کی ہیں جس کے پڑھنے سے سوویت روس کے سماجی ، سیاسی اور اقتصادی نظام سے آگہی کے علاوہ سیاست کے کھیل بھی سمجھ میں آتے ہیں۔
اس کلیات میں سرخ زمین اور پانچ ستارے کے عنوان سے ان کا سفرنامہ چین بھی شامل ہے۔ اس سفرنامے میں چین کے سماجی ، سیاسی نظام اور دیگر احوال کے حوالے سے بہت اہم معلومات درج ہیں۔ انھوں نے چین کی خوبیوں کو اتنی خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ چین جسے لوگ غیرمہذب سمجھتے ہیں اور انگریزی ناولوں اور فلموں میں چین کا ایک منفی کردار پیش کیا جاتا ہے مگر یہ وہی چین ہے جہاں پانچ ہزار برس پہلے تہذیب اور تمدن نے جنم لیا۔ خواجہ احمد عباس لکھتے ہیں کہ آج سے ہزاروں برس پہلے جب یورپ کی آبادی کھال لپیٹے پھرتی تھی، چین، تہذیب، تمدن،آرٹ اور ادب کا مرکز تھا، مغرب والوں کو اپنی سائنس کی ایجادوں پر بڑا فخر ہے مگر در اصل انسانی زندگی کے لیے جتنی چیزیں چین میں ایجاد کی گئی ہیں وہ کسی او رملک میں نہیں ہوئیں۔ ریشم، لکھنے کا کاغذ، سِکّے سکّوں کے بجائے کاغذ کے نوٹ، چائے آتش بازی ان سب چیزوں کا استعمال مغرب نے چین سے سیکھا، بارود چین میں فقط تفریح کے لیے آتش بازی بنانے کے کام آتا تھا، یورپ والوں نے اس سے بندوق اور توپ اور بم جیسے خوفناک ہتھیار بنائے۔ چین کی تہذیب کا مقصد انسان کی سمجھ بوجھ کو ترقی دینا اور اس کی زندگی کی مشکلوں کو آسان کرنا تھا۔ اور مغربی تہذیب کا مقصد؟ دوسروں کو دھوکہ دے کر، ان پر ناجائزاثر ڈال کر، ڈرا کر، دھمکا کر، روپے کے زور سے، ہتھیاروں کے زور سے اپنی دولت اور اثر کو بڑھانا۔ ‘‘
خواجہ احمد عباس نے اس سفرنامے میں چین کی انقلابی شخصیات خاص طور پر ماؤ سے تنگ کا بھی ذکر کیا ہے۔ ’مسافر کی ڈائری‘ کے عنوان سے بھی ایک سفرنامہ ہے جس میں بمبئی سے شنگھائی تک کی داستان ہے۔ اس میں انھوں نے سترہ ملکوں کی سیاسی معاشرتی، اقتصادی اور تعلیمی حالت کا مطالعہ کیا ہے۔ اس میں اٹلی، کولمبو، سنگاپور، ہانگ کانگ، جاپان، شنگھائی اور دیگر علاقوں کا ذکر ہے۔ جاپان کا بھی ذکر ہے۔ ناگاساکی کا بھی بیان ہے، ٹوکیو کا بھی ذکر ہے اور جاپان کے سرکاری مذہب شنتو کے حوالے سے بھی اہم گفتگو ہے۔ اس مذہب کے حوالے سے خواجہ احمد عباس لکھتے ہیں کہ ہر جاپانی کے لیے خواہ وہ بدھ ہو یا عیسائی، لازمی ہے کہ وہ شنتو میں عقیدہ رکھتا ہو…… شنتو کی بنیاد جاپانی بادشاہوں اور اپنے آبا و اجداد کی روحوں کی پرستش پر ہے اس مذہب کے پیروؤں کا عقیدہ ہے کہ تمام جاپانی قوم سورج دیوتا سے پیدا ہوئی ہے۔ اسی لیے وہ اپنی قوم کو دنیا کی تمام قوموں سے بالا ترسمجھتے ہیں۔ جاپانیوں کا بادشاہ سورج دیوتا کا جانشین ہے اسی لیے شنتو کے بموجب اس کو تمام دنیا پر حکومت کرنے کا حق ہے۔ علاوہ بادشاہ کے وہ چاند تاروں، ہوا آسمان وغیرہ کی پرستش کرتے ہیں کونکہ یہ مظاہر قدرت بھی سورج سے پیدا ہوئے ہیں اور آبا واجدا دکی حیثیت رکھتے ہیں۔اسی سفرنامے میں انھوں نے امریکہ کے گاندھی اپٹن سنکلیر کا بھی ذکر کیا ہے جنھوں نے بقول خواجہ احمد عباس ساٹھ برس کی عمر میں پوری ساٹھ کتابیں لکھی ہیں جن میں سے ہر ایک میں (خواہ وہ ناول ہو، معاشیات پر کتاب ہو یا نظم) اس نے ظلم، جہالت، بے انصافی اور سرمایہ داری کے خلاف جہاد کیا ہے، یہ کتابیں لاکھو ں کی تعداد میں بکتی ہیں اور درجنوں زبانوں میں ان کے ترجمے شائع ہوئے ہیں۔ ہندوستان کی شاید ہی کوئی زبان ہو، جس میں اپٹن سنکلیر کی کتابیں شائع نہ ہوئی ہوں۔ ‘‘
شکاگو کے تعلق سے انھوں نے لکھا ہے کہ شکاگو کے ڈاکو دور دور تک مشہور ہیں۔ ان کے متعلق فلم بھی بنائی جاتی ہے مگر یہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ شکاگو اعلیٰ تعلیم خصوصاً سائنس کی تعلیم کا زبردست مرکز ہے۔ دنیا بھر میں جتنی ایجادیں ہوتی ہیں اور سائنس کے مختلف شعبوں کو ترقی ملتی ہے ان میں شکاگو کے پروفیسروں اور سائنس دانوں کا کافی حصہ ہوتا ہے۔انھوں نے نیویارک، نیگرو، بوسٹن وغیرہ کا بھی تذکرہ کیا ہے اور بیسویں صدی کے مشہور افسانہ نگار ہیمنگوے کے بارے میں بھی لکھا ہے۔ فرانس، پیرس کا بھی انھوں نے ذکر کیا ہے اور اسی ضمن میں انھوں نے مسٹر بروم فیلڈ کا بطور خاص ذکر کیا ہے جو ایک معروف مصنف اور ناول نویس ہیں۔ ان کے تعلق سے خواجہ احمد عباس لکھتے ہیں :
’’چھ برس پہلے میں ان سے علی گڑھ میں ملا تھا، جہاں وہ ہندوستان کی سیر کے دوران میں ہفتہ بھر کے لیے ٹھہرے تھے، اس کے بعد وہ ہندوستان کئی بار گئے اور کل ملا کر دو برس مختلف شہروں میں قیام کیا، ہر قسم کے ہندوستانیوں سے ملے اور ہر طبقے میں اپنے دوست بنائے۔ یہاں تک کہ بڑودہ میں خاص شہر کے وسط میں ایک مکان لے کر بالکل ہندوستانی طرز پر چھ مہینے تک رہے۔ اس کے بعد انھوں نے ایک ناول”THE RAINS CAME” کے نام سے لکھا جو ہندوستان کی ایک فرضی ریاست کے متعلق ہے۔ اس ناول کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بروم فیلڈ کو ہندوستان اور ہندوستانیوں سے کتنی ہمدردی ہے اور ان کے سماجی مسئلوں کا انھوں نے کتنی گہری توجہ سے مطالعہ کیا ہے۔
بروم فیلڈ پیرس سے پندرہ میل کے فاصلے پر ایک نہایت خوب صورت گاؤں اور سان لی SEN LHEISمیں رہتے ہیں۔ گو وہ امریکن ہیں مگر سال کا زیادہ عرصہ پیرس میں گزارتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب جی چاہتا ہے دنیا کا سفر کر آتے ہیں۔ بروم فیلڈ کے ایک ناول “THE RAINS CAME” ہی کی پچاس ہزار جلدیں فروخت ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ ا س کی فلم بھی بن گئی ہے اور اس کا کافی معاوضہ ملا۔ اس لیے بروم فیلڈ کافی آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں مگر میاں بیوی دونوں حد درجہ مہمان نواز اور ملنسار ہیں۔ تمام امریکنوں کی طرح صاف گو اور سادہ مزاج اور بے تکلف ہیں۔
مجھے دونوں نے پہچان لیا بلکہ اپنے البم میں ہم لوگوں کی وہ تصویریں بھی دکھائیں جو انھوں نے علی گڑھ میں لی تھیں۔ گھنٹوں ہندوستان کے متعلق باتیں کرتے رہے۔ ہمارے ملک سے ان دونوں کو بے حد محبت ہے۔ اس قدر کہ اپنے مکان کی دیواروں پر مسز بروم فیلڈ نے ہندوستان کے رنگین نظارے پینٹ کر رکھے ہیں۔ ‘‘
خواجہ احمد عباس نے پیرس، جینوا کے بارے میں بھی لکھا ہے۔ ان کے مطابق جینوا میں کشیدہ کاری کا کام بہت اچھا ہوتا ہے اور یہاں کی بنی ہوئی گھڑیاں دنیا بھر میں بکتی ہیں۔ مگر اس شہر کی شہرت ان وجوہات سے نہیں ہے بلکہ یہ اس لیے ہے کہ یہ انجمن اقوام یعنی League of nations کا صدر مقام ہے۔ پیرس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ:
’’پیرس وہ شہر ہے۔ جہاں:
* سڑکوں اور گلیوں کے نام نہ صرف بادشاہوں، وزیروں، جرنیلوں اور سیاست دانو ں کے نام پر رکھے جاتے ہیں بلکہ شاعروں، ادیبوں اور فلسفیوں کے نام پر بھی۔
* فحش تصویریں گر جوں کی سیڑھیوں پر بکتی ہیں۔
* لوگ بلا تکلف پولیس والے سے قحبہ خانوں کا پتہ دریافت کر سکتے ہیں۔
* کھانے کے ساتھ شراب مفت ملتی ہے۔ مگر پانی مشکل سے ملتا ہے اور اکثر اس کی قیمت دینی پڑتی ہے۔
* موٹریں اور گاڑیاں سڑک کے بائیں بازو کے بجائے دائیں بازو چلتی ہیں۔
* عام لوگ آپس کے میل ملاپ میں اتنا ہی تکلف برتتے ہیں جتنا کہ لکھنؤ والے۔
* لندن کی شام کے اخبار گھنٹہ بھر میں ہوائی جہاز سے یہاں پہنچ جاتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں فروخت ہوتے ہیں۔
* ہر تیسرا آدمی جو آپ کو سڑک پر نظر آتا ہے وہ انگریز ہوتا ہے یا امریکن۔
* ننگا ناچ دیکھنا یا سڑک پر بیٹھ کر شراب پینا عیب نہیں سمجھا جاتا مگر اتوار کو گرجا نہ جانا گناہ ہے۔
* شاہی محلوں کے باغات میں انقلاب پرستوں کے مجسمے نصب ہیں اور کالجوں کے برابر میں قحبہ خانے ہیں۔
* لمبے لمبے بالوں والے آرٹسٹ ہر جگہ بیٹھے نظر آتے ہیں اور بہانہ ملتے ہی آپ کے ساتھ کھانا کھانے یا شراب پینے کو تیار ہوجاتے ہیں۔
* بعض قہوہ خانوں میں سیکڑوں قیمتی اور نادر تصویریں لگی ہیں جو بھوکے مصوروں نے کھانے اور شراب کے عوض کوڑیوں کے مول بیچ دیں۔ پیرس کو پیرس والے پیرس نہیں کہتے’ پاری‘ کہتے ہیں۔ ‘‘
اٹلی، سوئٹرز لینڈ اور وینس کے بارے میں بھی معلومات ہیں۔ وینس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وینس کی بڑی تعریف سنی تھی۔ ’’ جو چیرا تواک قطرۂ خون نہ نکلا‘‘ پرانے، گندے، اندھیرے مکان، تنگ و تاریک گلیاں اور تمام شہر میں سبزی مائل گندے پانی کی نہروں کا ایک جال پھیلا ہوا ہے۔ شاید اسی کا نام شہری حسن ہو، مجھے تو غربت اور گندگی کا مظاہرہ معلوم ہوا۔ عام لوگوں کی حالت۔۔۔ ان کے پھٹے پرانے میلے کپڑے اور ان کے بوسیدہ مکان۔۔۔ دیکھ کر ہندوستان کا دھوکا ہوتا ہے۔ ‘‘
یہ سفرنامے معلومات سے معمور ہیں۔ مختلف قوموں اور ملکوں کی حقیقی تصویریں سامنے آجاتی ہیں۔ خواجہ احمد عباس نے تمام اہم ملکوں کی سیاحت کے بعد یہی نتیجہ نکالا کہ ہندوستان ایک ایساملک ہے جس کا ماضی بھی شاندار تھا اور مستقبل بھی شاندار ہوگا۔ ان ملکوں کی سیاحت کے بعد اپنے ملک سے اور محبت بڑھ گئی وہ لکھتے ہیں کہ ’’ہندوستان جو میرا وطن ہے ، جس کی خوبیاں میری خوبیاں ہیں اور جس کی برائیاں میری برائیاں ہیں، جو باوجود اپنی غلامی، غربت اور جہالت کے دنیا کے بہت سے ملکوں سے بہتر ہے۔ جہاں علم کی کمی ہے مگر عقل کی کمی نہیں، جہاں لوگ غریب ہونے کے باوجود مہمان نواز ہیں، جہاں عوام میں پتھر کی مورتیوں کی پوجا ہوتی ہے مگر سونے کے سکوں کی نہیں۔ جہاں ایک لنگوٹی پوش فقیر کی عزت راجاؤ ں اور سرمایہ داروں اور سپہ سالاروں سے زیادہ ہوتی ہے، ہندوستان جہاں دھوپ نکلتی ہے اور سورج نظر آتا ہے اور لندن کی طرح دن میں بھی اندھیرا چھایا نہیں رہتا۔‘‘
سوانح اور سفرنامے لکھنے کا بھی ایک الگ انداز ہے۔ خواجہ احمد عباس کے سفرنامے پڑھتے ہوئے دلچسپی اور لطف کا احساس ہوتا ہے اور ان کی تحریر میں اتنی کشش اور قوت ہے کہ آدمی شروع کرنے کے بعد آخری سطر پر ہی دم لیتا ہے۔ یہی حال ان کی سوانح عمری لکھنے کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خواجہ احمد عباس کی تحریروں میں وہ جادو ہے کہ قاری اس کے جادوئی اثر سے نکل نہیں پاتا۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *