کلیکٹر کو مہنگی پڑی نہرو کی تعریف

unnamed

نئی دہلی، ۲۷ مئی (حنیف علیمی): کلیکٹر اجے گنگوار نے فیس بک پر ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کی تعریف میں چند کلمات لکھ دئیے تھے جس کے بعد ان کا تبادلہ کلیکٹر کی پوسٹ سے سیکرٹریٹ میں نائب سیکریٹری کے طورپر کر دیا گیا ہے۔

بات مدھیہ پردیش کے ضلع بڑوانی کے کلیکٹر اجے گنگوار کی ہے۔ بدھ کو انہوں نے اپنے فیس بک پر ایک پوسٹ کیا تھا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ”ذرا غلطیاں بتا دیجئے، جو نہرو کو نہیں کرنی چاہئے تھیں، اگر انہوں نے ۱۹۴۷ میں آپ کو ہندو طالبانی راشٹر بننے سے روکا تو یہ ان کی غلطی تھی۔ وہ آئی آئی ٹی، اسرو، آئی آئی ایس بی، آئی آئی ایم، بھیل اسٹیل پلانٹ، باندھ اور تھرمل پاور لائے یہ انکی غلطی تھی۔‘‘

’’آسارام اور رام دیو جیسے انٹلیکچُول (دانشور) کی جگہ سارا بھائی اور ہومی جہانگیر کو سمان (عزت) اور کام کرنے کا موقع دیا یہ ان کی غلطی تھی۔ انہوں نے دیش میں گوشالا اور مندر کی جگہ یونیورسٹیاں کھولیں، یہ بھی انکی غلطی تھی“۔

ان کے اس پوسٹ پر کافی بحث و مباحثے ہوئے، اس لئے انہوں نے جمعرات کو یہ پوسٹ اپنے فیس بک پیج سے ہٹا لیا۔ جنرل ایڈمنسٹریشن منسٹر لال سنگھ آریہ نے اس پر اعتراض کیا تھا، اس کے بعد ہی سے یہ مانا جا رہا تھا کہ اجے گنگوار پر کوئی کارروائی کی جائے گی۔

لال سنگھ نے کہا تھا کہ ”سول سروس کے طرز عمل کے قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی جانی چاہئے۔ آزادی اظہار رائے سب کو حاصل ہے لیکن قوانین کا بھی لحاظ ہونا چاہئے“۔

اس سے پہلے نرسنگھ پور کے کلیکٹر سی بی چکریہ بتی نے تمل ناڈو میں جے للیتا کی انتخاب میں فتحیابی پر مبارک باد دے دی تھی، اس پر بھی کافی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا اور آخر میں انہوں نے بھی اپنا پوسٹ ہٹالیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *