کنھیا اور ویمولا کی حمایت میں جے این یو طلبہ کا پارلیمنٹ مارچ

Parliament march by JNU Students (2)

نئی دہلی، ۲ مارچ (نامہ نگار): جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ، طالبات اور اساتذہ نے آج دہلی کے منڈی ہاؤس سے پارلیمنٹ تک پیدل مارچ نکالا۔ یہ لوگ حکومت سے جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے صدر کنھیا کمار کے خلاف بغاوت کا مقدمہ ختم کرنے اور ’روہت ایکٹ‘ بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے، تاکہ ملک کے تعلیمی اداروں سے ذات پر مبنی بھید بھاؤ کو ختم کیا جا سکے۔

دوپہر میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ اور اساتذہ کا یہ گروپ منڈی ہاؤس سے پیدل مارچ کرتا اور حکومت کے خلاف نعرے لگاتا ہوا پارلیمنٹ کی طرف بڑھا، لیکن پارلیمنٹ اسٹریٹ پولس اسٹیشن کے قریب پولس نے انھیں روک لیا اور آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بعد وہ لوگ وہیں دیر شام تک بیٹھے رہے، تبھی اچانک کنھیا کمار کو عبوری ضمانت ملنے کی خبر آگئی۔ یہ خبر سن کر مارچ میں شامل سبھی طلبہ و طالبات خوشی سے جھوم اٹھے۔

Parliament march by JNU Students (3)

دوسری طرف کنھیا کے گاؤں سے بھی خبریں آنے لگیں کہ کنھیا کے والدین اور بھائی کے ساتھ گاؤں والوں نے بھی اس خوشی کی خبر پر ایک دوسرے کو گلال لگا کر ہولی منائی۔

اس مارچ میں جے این یو کے طلبہ کے ساتھ دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور امبیڈکر یونیورسٹی کے طالب علموں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

Parliament march by JNU Students

قابل ذکر ہے کہ دہلی پولس نے کنھیا کمار کو ملک سے بغاوت کا نعرہ لگانے کے الزام میں جے این یو کیمپس سے ۱۲ فروری کو گرفتار کیا تھا۔ پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیشی کے دوران چند وکیلوں نے کنھیا کمار کو بری طرح پیٹا بھی تھا، جس پر سپریم کورٹ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے پولس کو پھٹکار لگائی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *