کنہیا کی ضمانت ردّ کرنے کی سماعت ۲۸ اپریل تک ملتوی

Kanhaiya Kumar

نئی دہلی، ۲۳ مارچ (نامہ نگار): آج دہلی ہائی کورٹ نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار کو ملی عبوری ضمانت کو ردّ کرنے کی عرضی پر سماعت کو آئندہ ۲۸ اپریل تک کے لیے ٹال دیا۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ۱۵ مارچ کو یہ دلیل پیش کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ میں کنہیا کمار کی ضمانت کو ردّ کرنے کے لیے ایک عرضی داخل کی گئی تھی کہ کنھیا نے ہندوستانی مسلح افواج کے خلاف تنازع بیان دے کر ضمانت کی شرطوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ کنہیا کمار کو جے این یو کیمپس میں گزشتہ ۹ فروری کو ملک مخالف نعرے لگائے جانے کے الزام میں ۱۲ فروری کو گرفتار کرکے تہاڑ جیل بھیج دیا گیاتھا، جہاں سے اسے ۳ مارچ کو چھ ماہ کی عبوری ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔

جیل سے رہائی کے بعد کنہیا کمار نے جے این یو کیمپس پہنچ کر دوبارہ ’آزادی‘ کے نعرے لگائے، لیکن واضح طور پر کہا کہ اسے ’ملک سے نہیں، بلکہ ملک میں آزادی چاہیے‘۔ اس کے علاوہ کنہیا کمار نے عالم یومِ خواتین کے موقع پر اپنی ایک تقریر کے دوران کہا تھا کہ ’کشمیر میں ہندوستانی فوج کے ذریعہ عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے‘۔ اسی بیان کو لے کر کچھ تنظیمیں کنھیا کمار کو ملنے والی ضمانت کی مخالفت کر رہی ہیں۔

ہندوستان میں اس وقت ’بھارت ماتا کی جے‘ کو لے کر جس طرح ایک گروپ کی طرف سے خود کو سب سے بڑا حب الوطن ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس نعرہ کو نہ لگانے والوں کو ’ملک کا غدار‘ کہا جا رہا ہے، اس کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں پرزور الفاظ میں مذمت ہو رہی ہے۔ طلبہ یونین کے ذریعہ ہر دن شام کو تقریباً پانچ بجے ’نیشنلزم‘ کی کلاس لگائی جاتی ہے، جس میں ہندوستان بھر کی نامور شخصیات کو بلا کر اس موضوع پر بولنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ اس کلاس میں اب تک درجن بھر سے زیادہ افراد اپنی تقریر دے چکے ہیں، جن میں مشہور صحافی پی سائی ناتھ اور کانگریس لیڈر ششی تھرور وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *