کنھیا کے خلاف آئی بی جانچ کی عرضی خارج

Kanhaiya Kumar

نئی دہلی، ۱۵ مارچ: گزشتہ ۹ فروری کو جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں لگنے والے مبینہ ’ملک مخالف‘ نعروں کے سلسلے میں جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنھیا کمار کے خلاف انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ذریعے جانچ کرانے کے لیے دہلی ہائی کورٹ میں داخل کی گئی عرضی کو آج عدالت نے خارج کردیا۔

عرضی کو خارج کرتے ہوئے، جسٹس پرتبھا رانی سود نے کہا کہ ’’ہمارا لاء اینڈ آرڈر سسٹم اپنا خیال خود رکھ سکتا ہے۔ آپ جیسے سماجی کارکن کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سلسلے میں جانچ چل رہی ہے، لہٰذا میں اس عرضی پر غور نہیں کروں گی۔‘‘

عرضی گزار نے عدالت سے گزارش کی تھی کہ کنھیا کمار نے ہندوستانی فوج کے خلاف جو تقریر کی تھی، وہ چونکہ ملک سے بغاوت کے زمرے میں آتا ہے، لہٰذا اس کے خلاف ایس آئی ٹی کی جانچ ہونی چاہیے۔ قابل ذکر ہے کہ عالمی یومِ خواتین کے موقع پر یونیورسٹی کے اندر طلبہ کے ایک مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کنھیا کمار نے ہندوستانی فوج پر جموں و کشمیر میں عورتوں کی عصمت دری کرنے کا الزام لگایا تھا، جس کو لے کر بی جے پی اور اس کی ہم نوا تنظیموں نے کافی ہنگامہ برپا کر رکھا ہے۔

گزشتہ ۸ مارچ کو دی گئی اس تقریر میں کنھیا نے کہا تھا کہ ’’آپ ہمیں چاہیں جتنا بھی روکنے کی کوشش کریں، ہم حقوقِ انسانی کی خلاف ورزی کے خلاف بولتے رہیں گے۔ ہم ایفسپا کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔ ہم اپنے جوانوں کا بہت احترام کرتے ہیں، پھر بھی ہم اس حقیقت کے بارے میں بولنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے کہ کشمیر کے اندر سیکورٹی اہل کار عورتوں کی عصمت دری کرتے ہیں۔‘‘

عرضی گزار نے عدالت سے یہ بھی کہا تھا کہ کنھیا کو جن شرائط پر چھ ماہ کی عبوری ضمانت ملی ہے، اس نے اس کی خلاف ورزی کی ہے۔

پچھلے ہفتے جے این یو نے ۹ فروری کے واقعہ پر اعلیٰ سطحی جانچ کمیٹی کے ذریعہ اپنی رپورٹ جمع کرنے کے بعد آٹھ طلبہ کی برطرفی کے فیصلہ کو منسوخ کردیا تھا۔ برطرف کیے گئے ان طلبہ میں کنھیا کمار کے علاوہ عمر خالد، انربن بھٹا چاریہ، آشوتوش، راما نگا، اننت کمار، شویتا راج اور ایشوریہ ادھیکاری کے نام شامل ہیں۔ ان سبھی کو یونیورسٹی انتظامیہ نے کیمپس میں افضل گورو کی پھانسی کی تیسری برسی کے موقع پر احتجاجی پروگرام منعقد کرنے اور مبینہ طور پر ملک مخالف نعرے لگانے کی وجہ سے ۱۲ فروری کو برطرف کردیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *