کورونا سے جنگ: عالمی پیمانے پر ۲۷ ہزار ۳۶۵ اموات، چھ لاکھ متاثر

ہندوستان میں ابھی تک ۸۸۷ متاثرین میں سے ۷۳ افراد اسپتالوں سے صحت یاب ہوکر اپنے گھر پہنچے، مرنے والوں کی تعداد ہوئی ۲۰

ملک بھر کے مختلف مقامات سے اپنے گھروں کو لوٹ رہے مزدوروں کا برا حال، سرکاری محکموں میں تال میل کی کمی کے باعث حالات تشویش ناک، ریاستی حکومتوں نے سرکاری اسکولوں میں مفت کھانے پینے اور ٹھہرانے کا انتظام کیا

ڈاکٹر قمر تبریز –

نئی دہلی، ۲۸ مارچ: امریکہ اس وقت دنیا کا ایسا پہلا ملک ہے جہاں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، وہاں ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو اس وائرس نے اپنی چپیٹ میں لے رکھا ہے، حالانکہ مرنے والوں کی تعداد ابھی ۱۷۰۱ ہی ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دیگر ممالک کی طرح امریکہ میں ابھی تک ’لاک ڈاؤن‘ کا اعلان نہیں کیا ہے، جس کی وجہ سے وہاں کا دانشور طبقہ ان سے تھوڑا ناراض دکھائی دے رہا ہے۔ عالمی پیمانے پر کل اموات کی بات کریں تو ۹۱۳۴ کے ساتھ  اٹلی نمبر ایک پر، ۵۱۳۸ کی عدد کے ساتھ اسپین دوسرے، ۳۲۹۵ اموات کے ساتھ چین تیسرے، ۲۳۷۸ کے ساتھ ایران چوتھے اور ۱۹۹۵ اموات کے ساتھ فرانس پانچویں نمبر پر ہے۔ کل اموات کے معاملے میں امریکہ ابھی چھٹے نمبر پر ہے۔ وہیں برطانیہ میں ابھی تک ۷۵۹، نیدرلینڈ میں ۵۴۶، جرمنی میں ۳۵۱، بیلجیم میں ۲۸۹، سوئزرلینڈ میں ۲۳۱ اور سویڈن میں ۱۰۵ لوگ کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ روس نے اس وائرس پر کافی حد تک قابو پایا ہے جہاں کے کل ۱۰۳۶ متاثرین میں سے ابھی تک صرف ۴ افراد کی ہی موت ہوئی ہے، جب کہ جاپان کے کل ۱۴۹۹ متاثرین میں سے ۴۹ ہلاک ہوئے ہیں۔

سعودی عرب میں کووِڈ- ۱۹ کے کل ۱۱۰۴ متاثرین میں سے ۳ افرد کی موت ہوئی ہے، جب کہ ۳۵ صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔ وہاں پر بھی مکمل ’لاک ڈاؤن‘ اور کرفیو کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ گزشتہ ہفتہ کی طرح اس بار بھی کل جمعہ کی نماز لوگوں نے اپنے اپنے گھروں میں ہی ادا کی، مسجدوں سے صرف اذان ہوئی۔ عراق کے ۴۵۸ متاثرین میں سے ۴۰، متحدہ عرب امارات کے کل ۴۰۵ متاثرین میں سے ۲، مصر کے ۵۳۶ میں سے ۳۰، بحرین کے ۴۶۶ میں سے ۴، لبنان کے ۳۹۱ متاثرین میں سے ۸ افراد کی موت ہوئی ہے۔ افغانستان میں ۱۱۰ متاثرین میں سے ۴ کی موت ہو چکی ہے۔ ترکی میں ۹۲ افراد کی موت ہوئی ہے، جب کہ ۵۶۹۸ متاثرین ہیں۔ جنوبی افریقہ کے کل ۱۱۷۰ متاثرین میں سے ابھی تک صرف ایک کے مرنے کی اطلاع ہے۔

ہندوستان میں ابھی تک کورونا وائرس کی وجہ سے کل ۲۰ افراد موت کی آغوش میں جا چکے ہیں، جب کہ متاثرین کی کل تعداد ۸۸۷ ہے، جس میں ۷۳ افراد اپنا کامیابی کے ساتھ علاج کراکر گھر لوٹ چکے ہیں۔ حالانکہ اپنے گھروں سے سینکڑوں کلومیٹر دور جو مزدور بڑے یا چھوٹے شہروں اور قصبوں میں روزی روٹی کی تلاش میں گئے تھے، ایسے لاکھوں غریب اب پیدل ہی اپنے اپنے گھر، گاؤں کی طرف جا رہے ہیں، پیدل، سائیکل اور رکشہ سے بھی۔ راستے میں وہ جن ریاستوں سے ہوکر گزر رہے ہیں، وہاں کی پولس کے ذریعے انہیں پریشان کیا جا رہا ہے۔ یوپی حکومت نے کل ہی کہا تھا کہ ایسے پیدل چل رہے مزدوروں کے کھانے اور سرکاری گاڑیوں میں بیٹھا کر ان کے گھروں تک پہنچانے کا انتظام کیا جائے، لیکن کہیں پر یہ بات سنی گئی اور اکثر جگہوں پر ردّ کر دی گئی۔ دور دراز کے گاؤوں سے یہ اطلاع بھی مل رہی ہے کہ تمام صلاح و مشورہ اور نصحیت و فتووں کے باوجود کل مسلمانوں نے جمعہ کی نماز کے لیے مسجدوں کا رخ کیا، جس کی وجہ سے بعض جگہوں پر پولس کو سختی برتنی پڑی۔ البتہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ جو مزدور اپنے گاؤں پہنچ چکے ہیں، انہیں ان کے گاؤوں میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا ہے۔ کہیں کہیں پر مار پیٹ بھی ہوئی ہے۔ اس کا نوٹس لیتے ہوئے سرکاروں نے کہا ہے کہ جو لوگ باہر سے آ رہے ہیں اور جن کے اندر اس بیماری کے ہونے کا خطرہ ہے، انہیں اگلے ۱۴ دنوں تک ان کے گاؤں کے آس پاس کے ہی سرکاری اسکولوں میں ٹھہرایا جائے اور سرکار کی طرف سے ان کے لیے کھانے پینے کا انتظام کیا جائے۔ دہلی سے بھی ہزاروں کی تعداد میں مزدور اپنے گاؤں واپس لوٹنے لگے تھے، لیکن کل کجریوال حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ لوگ اپنے گھروں کو نہ جائیں، بلکہ دہلی میں ہی ٹھہرے رہیں، سرکار آج سے چار لاکھ ایسے لوگوں کے کھانے اور رہنے کا انتظام کرنے جا رہی ہے۔ یہ راحت کی بات ہے۔

اپنے پڑوسی ملکوں کی بات کریں تو پاکستان کے کل ۱۳۷۳ متاثرین میں سے ۱۱ کی موت ہو چکی ہے اور ۲۳ صحت یاب ہوکر اپنے گھر لوٹے ہیں۔ بنگلہ دیش کے کل ۴۸ متاثرین میں سے ۵ کی موت اور ۱۱ صحت یاب ہوئے ہیں۔ سری لنکا میں ابھی تک کسی کی موت نہیں ہوئی ہے، بلکہ صرف ۱۰۶ افراد کووِڈ ۱۹ پازیٹیو پائے گئے ہیں۔ میانمار میں بھی متاثرین کی تعداد ابھی تک صرف ۸ ہے اور کسی کی موت نہیں ہوئی ہے۔ نیپال کی بھی یہی حال ہے جہاں کل ۴ متاثرین میں سے ایک صحت یاب ہوکر گھر لوٹ چکا ہے اور کسی کے مرنے کی اطلاع نہیں ہے۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply