کورونا سے جنگ: ۱۳ اموات، ۶۶۴ متاثر

  • این پی آر، مردم شماری کا کام ملتوی
  • پولس نے اگر سرکاری ہدایات پر سنجیدگی سے عمل نہیں کیا، تو عوام میں پھیل سکتا ہے انتشار

ڈاکٹر قمر تبریز

نئی دہلی، ۲۶ مارچ: وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، پورے ہندوستان کے عوام نے اکثر و بیشتر خود کو اپنے اپنے گھروں میں ’قید‘ کر لیا ہے۔ لیکن، پولس محکمہ کو شاید حالات کی نزاکت کا علم نہیں ہے، یا پھر ان کے اعلیٰ افسران انہیں صحیح ہدایات نہیں دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے پورے ملک سے یہ خبریں آ رہی ہیں کہ کھانا پکانے کے لیے ضروری ایل پی جی گیس، گوشت اور مچھلیاں، پھل اور اناج وغیرہ کی سپلائی کو پولس کے ذریعے زبردستی روکا جا رہا ہے۔ قومی راجدھانی دہلی میں پولس والے ان اشیاء کو بیچنے والی دکانوں کو زبردستی بند کروا رہے ہیں۔ پولس کی اس غیر ضروری سختی کی وجہ سے اب اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھنے لگی ہیں۔ اُدھر ملک بھر کے کسان پریشان ہیں، کیوں کہ گیہوں کی فصلیں کھیتوں میں پک کر تیار ہیں اور اب انہیں کاٹنے کا وقت ہے۔ بعض مقامات پر موسم خراب ہونے کی وجہ سے ان فصلوں کے خراب ہونے کا خدشہ ہے، وہیں کورونا کے سبب ’لاک ڈاؤن‘ کی وجہ سے بھی کسان اپنی فصلیں نہیں کاٹ پا رہے ہیں۔

ہندوستان کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والے مرض کی وجہ سے اب تک ملک بھر میں ۱۳ لوگوں کی جان جا چکی ہیں، جب کہ ۶۶۴ لوگ اس سے متاثر ہیں، جن کا علاج چل رہا ہے۔ کل تک مرنے والوں کی تعداد صرف ۱۰ تھی، لیکن آج مہاراشٹر (کل ۳) اور گجرات (کل ۲) میں ایک ایک مزید موت اور تمل ناڈو سے پہلی موت کی تصدیق وزارت صحت و خاندانی بہبود، حکومت ہند نے کر دی ہے۔ کل تک متاثرین کی تعداد صرف ۵۱۹ تھی، جس میں گزشتہ ۲۴ گھنٹوں کے اندر ۱۴۵ کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے اپنے اپنے گھروں میں ’قید‘ رہنا کتنا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں قومی راجدھانی دہلی کی ایک تازہ مثال آنکھ کھول دینے والی ہے۔ گزشتہ ۱۰ مارچ کو سعودی عرب سے ایک ۳۹ سالہ خاتون دہلی کے دلشاد گارڈن میں واقع اپنے گھر لوٹیں۔ کچھ دنوں بعد انہیں بخار اور پھر کھانسی و زکام ہو گیا، تو وہ ایک پرائیویٹ اسپتال میں دکھانے گئیں۔ اس اسپتال میں جس ۴۹ سالہ ڈاکٹر نے ان کی طبی جانچ کی، وہ اتفاق سے دہلی سرکار کے ذریعے مفت میں چلائے جا رہے ’محلہ کلینک‘ میں بیٹھتے ہیں۔

۱۸ مارچ کو پتہ چلا کہ سعودی عرب سے لوٹی خاتون کو ’کورونا وائرس‘ ہے۔ لہٰذا، دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں انہیں علاج کے لیے بھیج دیا گیا۔ اس کے بعد ڈاکٹروں کی ٹیم اور سرکاری محکمہ نے اگلے دن، یعنی ۱۹ مارچ تک تقریباً ۱۰۰ لوگوں کا پتہ لگایا، جو اُس خاتون کے رابطہ میں آئے تھے۔ اس کے بعد، ۲۰ مارچ کو پتہ چلا کہ اس خاتون کے ۳۵ سالہ بھائی اور ۶۵ سالہ ماں کو بھی ’کورونا وائرس‘ نے جکڑ لیا ہے، پھر ۲۱ مارچ کو اُس خاتون کی دونوں بیٹیاں بھی ’کورونا وائرس پازیٹو‘ پائی گئیں۔ اور آج یہ خبر مل رہی ہے کہ ’محلہ کلینک‘ کے جس ڈاکٹر نے اس خاتون کی طبی جانچ کی تھی، وہ بھی ۲۲ مارچ کو ’کورونا‘ سے متاثر پایا گیا۔ اور اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ کل، یعنی ۲۵ مارچ بروز بدھ کو اُس ڈاکٹر کی ۴۸ سالہ بیوی اور ۱۷ سالہ بیٹی کو بھی یہ مرض لاحق ہو چکا ہے۔ اور اب دہلی حکومت ہر اس شخص کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے، جو اُس خاتون اور ڈاکٹر کے رابطہ میں آیا تھا۔

’’یہ مثال ہر ہندوستانی کی آنکھ کھول دینے والی ہے۔ اس لیے، جو لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ انہیں یہ بیماری نہیں ہو سکتی یا ’کورونا وائرس‘ ان تک نہیں پہنچ سکتا، وہ غلط فہمی کے شکار ہیں۔ ہمارا ملک ہندوستان ۱۳۰ کروڑ کی آبادی والا ملک ہے۔ اسپین، اٹلی، امریکہ، چین جیسے ترقی یافتہ ممالک میں جہاں ایک دن میں سینکڑوں لوگوں کی موت ہو رہی ہے، خدانخواستہ یہ مرض اگر قابو سے باہر ہوگیا، تو نہ جانے ہمارے ملک کا کیا ہوگا۔ اس لیے ہر ایک فرد کے لیے احتیاط ضروری ہے کہ وہ حکومت کی اپیل پر عمل کرتے ہوئے اور خود اپنی جان کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے اپنے اپنے گھروں میں رہیں اور بلا وجہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔‘‘

اس درمیان، پورے ملک سے ایک افسوس ناک خبر یہ مل رہی ہے کہ پولس روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء کی سپلائی میں رخنہ ڈال رہی ہے۔ جو لوگ اپنے اپنے گھروں میں بند ہیں، اگر انہیں کھانے پینے کو نہیں ملے گا، تو حالات کنٹرول سے باہر ہو سکتے ہیں۔ اتنی معمولی سی بات پولس کو سمجھ میں آنی چاہیے۔ اس لیے دودھ، رسوئی گیس، اناج، پھل اور سبزیاں، گوشت اور مچھلیوں وغیرہ کی سپلائی کو ہرگز نہیں روکا جانا چاہیے۔ جو لوگ ان اشیاء کی سپلائی کا کام کر رہے ہیں، ان کے لیے بھی احتیاط برتنا ضروری ہے۔ وہ اپنے چہرے پر ماسک لگائیں، وقفہ وقفہ پر اپنے ہاتھ منہ دھوتے رہیں۔ جب کسی کے پاس جائیں، تو کم از کم ایک میٹر کا فاصلہ بنائے رکھیں۔ اپنے آس پاس کی صفائی کا پورا خیال رکھیں۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply