کورونا وائرس سے جنگ: ذہنیت بدلیں، گھروں میں رہیں

ڈاکٹروں، نرسوں، صفائی ملازمین، پولس اور دیگر سرکاری عملہ کے ساتھ اچھے سے پیش آئیں

ڈاکٹر قمر تبریز

نئی دہلی، ۲۵ مارچ: وزیر اعظم نریندر مودی نے کل رات ۸ بجے قوم کے نام اپنے خطاب میں پورے ہندوستان بھر میں آئندہ ۲۱ دنوں تک کے لیے مکمل ’لاک ڈاؤن‘ کا اعلان کر دیا ہے۔ اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ عالمی سطح پر پھیل چکے اس وبائی مرض، ’کورونا وائرس‘ کو اپنے ملک میں پھیلنے سے روکنے کے لیے ان کی باتوں پر عمل کریں۔

کورونا وائرس سے متاثرین کی تازہ ترین تعداد اس وقت پورے ہندوستان میں ۵۱۹ ہو چکی ہے، حالانکہ دوپہر ۳ بجے تک ٹی وی چینل ۵۶۲ کے متاثر ہونے کا دعویٰ کر ہے ہیں، جب کہ اب تک اس مرض سے ۹ لوگوں کی موت بھی ہو چکی ہے (وزارتِ صحت و خاندانی بہبود، حکومت ہند کی طرف سے آج ۲۵ مارچ ۲۰۲۰ بروز بدھ کو صبح سوا نو بجے تک کے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق)۔ کل رات سے ہی یہ کہا جا رہا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے دہلی میں ایک اور شخص کی موت ہوئی ہے، لیکن بعد میں وزارت صحت نے وضاحت پیش کی ہے کہ دسویں شخص کی موت اس وائرس سے نہیں ہوئی ہے، بلکہ اسے جانچ میں کووِڈ ۱۹ نگیٹو پایا گیا تھا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ ملک بھر میں ابھی تک کورونا کی وجہ سے جو ۹ موتیں ہوئی ہیں، ان میں سے بہار، دہلی، گجرات، کرناٹک، ہماچل پردیش، پنجاب، مغربی بنگال میں ایک ایک، جب کہ مہاراشٹر میں دو لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ منی پور میں یہ وائرس کل تک نہیں تھا، لیکن آج وہاں بھی لندن سے آئی ایک خاتون کی وجہ سے یہ وائرس پہنچ چکا ہے۔

اب جب کہ پورا ملک ایک طرح سے ’اپنے گھروں میں قید‘ ہو گیا ہے، بطور صحافی ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم انہیں موجودہ وسائل کے توسط سے دیس دنیا کی تازہ ترین خبریں پہنچاتے رہیں۔ ’نیوز اِن خبر‘ کی طرف سے ہماری یہ ایماندارانہ کوشش ہوگی کہ ہم آپ کو اس وبائی مرض سے متعلق تازہ ترین معلومات پہنچاتے رہیں۔ چوبیس گھنٹے میں کم از کم دو بار، صبح اور شام کو آپ روزانہ اپڈیٹ دیکھ سکتے ہیں۔

اسمارٹ فون، وہاٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام وغیرہ کے اس دور میں جہاں یہ چیزیں ہم صحافیوں کے لیے غنیم رحمت ہیں، وہیں کم تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے یہ جھوٹی باتیں اور افواہیں پھیلانے کا ایک زبردست آلہ بھی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ہمارے ملک ہندوستان میں اس کی وجہ سے کافی جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ لیکن، اب وقت آ گیا ہے کہ کم از کم اس وبائی مرض کو دیکھتے ہوئے ہی ہم آپسی نفرت و کداوت کو چھوڑ کر ہندوستانی معاشرہ کو مضبوط بنائیں۔

ابھی تین روز قبل، اتوار کے روز وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کے ۱۳۰ کروڑ عوام سے ’جنتا کرفیو‘ کی اپیل کی تھی۔ لوگوں نے ان کی بات مانی۔ لیکن وزیر اعظم کی صلاح پر ہی اُس دن لوگ شام ۵ بجے اپنے گھر کی چھتوں، بالکنی اور یہاں تک کہ سڑکوں پر اتر کر ’تالی، تھالی اور گھنٹیاں‘ بجانے لگے۔ حالانکہ وزیر اعظم نے ایسا کرنے سے پہلے ایک بات اور کہی تھی، جس پر کسی نے دھیان نہیں دیا۔ وزیر اعظم مودی نے ’تالی، تھالی اور گھنٹی‘ بجانے کے لیے اس لیے کہا تھا، تاکہ اپنے اس عمل کے ذریعے ہم ان سینکڑوں، ہزاروں لوگوں کی حوصلہ افزائی کر سکیں، جو اپنی جان جوکھم میں ڈال کر ہماری صحت کو یقینی بنانے کے کاموں میں مصروف ہیں۔ مثال کے طور پر صفائی ملازمین، طبی عملہ جس میں ڈاکٹر اور نرسیں شامل ہیں، پولس اور دیگر سرکاری محکمہ کے لوگ۔

لیکن بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ اتوار کو ’تالی، تھالی اور گھنٹیاں‘ بجانے والے لوگ اب مذکورہ عملہ کی حوصلہ افزائی نہ کرکے ان کی بے عزتی کرنے پر آمادہ ہیں، بلکہ انہیں اپنے اپنے علاقوں سے بھگانے کی فراق میں ہیں۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ بیرونِ ملک میں ہندوستان کی اچھی خاصی آبادی رہتی ہے۔ یہ ہندوستانی شہری چین، ایران، امریکہ، لندن یا کہیں اور یا تو روزگار کی تلاش میں جاتے ہیں یا پھر تعلیم حاصل کرنے۔ لیکن، ان ملکوں میں اس وائرس کے پھیل جانے کے بعد حکومت ہند کو ایئر انڈیا کے طیارہ کو بھیج کر وہاں سے اپنے باشندوں کو ملک واپس لانا پڑا ہے۔ لیکن، بڑی بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ایئر انڈیا کے ہی اسٹاف کو اب حکومت سے یہ شکایت کرنی پڑی ہے کہ وہ جن علاقوں میں کرایے کے مکانوں میں رہتے ہیں، وہاں کے لوگ انہیں وہاں سے بھگا دینا چاہتے ہیں۔ حد تو تب ہو گئی جب کل ہی دہلی کے ریزیڈنٹس ڈاکٹر ایسوسی ایشن (آر ڈی اے) کو مودی حکومت سے یہ شکایت کرنی پڑی ہے کہ بعض علاقوں میں لوگ ایمس جیسے مشہور و معروف اسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کو اپنی سوسائٹی میں گھسنے نہیں دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، دہلی کے مکھرجی نگر علاقے میں کل ایک منی پوری عورت پر ایک موٹر سائیکل سوار تھوک کر نکل گیا اور اسے ’کورونا وائرس‘ ہونے کی گالی دی۔ بعد میں اس خاتون کو پولس چوکی جاکر شکایت درج کرانی پڑی۔

بہرحال، ہمیں اپنی ذہنیت بدلنی ہے اور آپس میں مل جل کر اس موذی مرض سے لڑنا ہے۔ آخر میں آئیے ایک نظر ڈال لیتے ہیں کہ پوری دنیا میں اس وائرس کے کیا اثرات ہو رہے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) کے مطابق، کورونا وائرس دنیا کے ۱۸۶ ممالک میں پہنچ چکا ہے اور اس سے متاثر ہونے والوں کی کل تعداد ۴ لاکھ ۲۰ ہزار ہو چکی ہے۔ وہیں پوری دنیا میں اس وائرس نے ابھی تک ۲۰ ہزار سے زائد لوگوں کو موت کی آغوش میں پہنچا دیا ہے۔ اٹلی میں کل یعنی منگل کے روز ۷۴۳ لوگوں کی موت ہو گئی، جب کہ اسپین میں گزشتہ ۲۴ گھنٹے کے اندر ۵۱۴ لوگ مر گئے۔ برطانیہ میں اس وائرس کی وجہ سے ابھی تک ۴۲۲ لوگوں کی موت ہو جانے کے بعد وہاں کی حکومت نے ہندوستان کی طرح ہی پورے ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے۔ البتہ، صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ’لاک ڈاؤن‘ کا اعلان نہ کرنے کی ضد کی وجہ سے امریکی باشندے تھوڑی تشویش میں مبتلا ہیں، کیوں کہ امریکہ میں کل یعنی منگل کے روز ۱۳۰ لوگوں کی جانیں اس وائرس کی وجہ سے جا چکی ہیں اور پورے ملک میں ۱۶ ہزار سے زیادہ لوگ اس وائرس سے متاثر ہیں۔ ہمارے پڑوسی ملک پاکستان میں اب تک ۱۰۳۶ لوگ اس وائرس کی چپیٹ میں آ چکے ہیں، جب کہ بنگلہ دیش نے جیل میں بند وہاں کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کو اس وائرس کی وجہ سے آئندہ ۶ مہینوں کے لیے رہا کر دیا ہے، جیسا کہ کل ہمارے یہاں مودی حکومت نے بھی جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو رہا کر دیا تھا۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply