کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

آج کل ہرجگہ اتحادِ بین المسلمین کا چرچا ہے، کبھی محسوس ہوتاہے کہ سب کے دلوں کی آوازہے لیکن خوف یہ ہوتاہے کہ یہ بھی ایک نعرہ نہ بن جائے۔

Safdar Imam Qadri
صفدر امام قادری

دنیا بھر میں صفِ اغیار کے لیے مسلمان ایک ہیں۔ امریکیوں کی نظر ہو یا آر ایس ایس کا ایجنڈا ہو، مسلمان لفظ کا معنیٰ وہی کلمہ گوجماعت ہے جس نے ایک خدا، ایک رسول اور ایک کتاب پر اپنے ایمان کا اعلان کیا۔ جب جب مسلمانوں پر ظلم اور زیادتی کی تاریخ کا مطالعہ کیا جاتا ہے، اس وقت بھی مسلم جماعت کو اکائی کے طور پر سمجھنے کی دنیا کو عادت رہی ہے۔ لیکن غیروں کی یلغار میں جب مسلم قوم کی حقیقی صورتِ حال کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں، توایسا محسوس ہوتاہے کہ اس سے زیادہ بٹی ہوئی قوم اور زیادہ سے زیادہ خانہ بندیوں کی طرف دار کوئی دوسری جماعت ہے ہی نہیں۔ کمال یہ ہے کہ وقت کا ظلم تو ساتھ سہتے ہیں لیکن اپنی شناخت کے علاحدہ پیمانے وضع کرنے میں دنیا کے مسلمان اتنے مستعد ہیں کہ ہر ملک اور بڑی آبادی کا داخلی تجزیہ کیا جائے تو سینکڑوں اور ہزاروں قبائل یا حلقہ بندیاں سامنے آجائیں گی۔

یہ ہماری غلط فہمی ہے کہ ایسی خانہ بندیاں صرف ہندستان میں ہی ہیں۔ اس سے بھی سہل تجزیہ کرکے بعض لوگ اطمینان کی سانس لے لیتے ہیں کہ یہ بُرائیاں ہم میں ہندستان کی ہندو جماعت سے دَر آئی ہیں۔ غالب کے لفظوں میں کہیں تو ’دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے‘۔ مسلم ممالک میں ایران اور عراق کے حالات یہ واضح کرتے ہیں کہ داخلی انتشار کی جڑیں کتنی گہری اور مضبوط ارادے کے ساتھ قائم کی گئی ہیں۔ بنگلہ دیش اور پاکستان کی خانہ بندیوں پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ مسلمان بڑے منظم طریقے سے آپسی اختلاف کا کاروبار پوری مستعدی کے ساتھ چلاتے ہیں۔عرب ممالک کی دولت اور مادّی ترقیوں کو ایک طرف دیکھیے اور ان کی اجتماعی قوّت کا مقابلہ کیجیے تو محسوس ہوگا کہ عالمی سیاست اور معیشت میں بہر طور وہ حاشیے پر ہی رہنے پر مجبور ہے۔

ہندستانی سیاست اور سماج میں رہ رہ کر یہ سوال اُٹھتا ہے کہ مسلمانوں میں آپسی اتفاق کیوں نہیں ہے۔اس سوال کے پسِ پشت یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے بیچ ایسے اختلافات ہیںجنھیںایک خدا، ایک رسول اور ایک کتاب کے اصول پر ابھی تک حل نہیں کیا جا سکا ہے۔ یہ ہر زمانے میں ایک مثالی بات رہے گی کہ ہر قوم ایک جھنڈے کے نیچے آجائے۔ مطلب صاف ہے کہ ایک قیادت بہ الفاظِ دیگر ایک ملّی قیادت انھیں میسر آئے۔جمہوری نظام اور بدلتی ہوئی دنیا میں یہ خواب شاید دن میں ستارے دیکھنے جیسا ہی ہو۔ آزاد ہندستان میں کوئی یہ بتا دے کہ کوئی ایس ملّی قیادت قائم ہوئی ہو یالوگوں نے اُسے قبول کیا ہو۔ابوالکلام آزاد سے لے کر موجودہ عہد کے قائدین میں سے کسی کے بارے میں یہ بات نہیں کہی جا سکتی۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ تاریخی طور پر ہم نے جمہوری نظام میں ملّی قیادت کا کوئی ایسا ڈھانچہ قائم نہیں کیا جس کی واضح شکل سامنے آئی ہو اور اس کی قیادت کے قائل بالعموم نظر آتے ہوں۔

ہندستان میں مختلف مشہور اور غیر مشہور مسلکوں اور جماعتوں کا ریلا پیلا ہے۔ اُن کے نام کچھ ایسے ہوتے ہیں جن سے طرح طرح کے اشتباہات اور دھوکے پیدا ہوتے ہیں۔ کچھ کے ناموں سے یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ یہ مسلک سو دو سو سال پہلے ہی وجود میں آئے یعنی انھیں آخرایسی کون سی ضرورت کہ ہندستانی معاشرے میں نئے نام سے مسلمانوں کی جماعت کھڑی کرنی پڑی۔ کبھی کبھی ایسا لگتاہے کہ اِن ناموں کے پیش کرنے میںکچھ عوام کا جوش، قائدین کی ہڑبڑی اور دوسروں کے تئیں عدم رواداری کے معاملات ملحوظِ نظر رہے ہوں گے۔ یہ بات سوچنے کی ہے کہ یہ جماعتیں یگانہ چنگیزی کے لفظوں میں کیوں ایسا حکم نامہ جاری کرتی ہیں : سب ترے سِوا کافر، آخر اس کا مطلب کیا؟

بیسویں صدی کی غالباً تیسری دہائی کا آغاز تھا جب ملک کے ایک بہت بڑے عالم کی وفات پر عظیم آبادکے مشہور اخبار ’الپنچ‘ میں جو تعزیتی خبر شائع ہوئی اس میں یہ بات بھی شامل کی گئی کہ ” اِن کی وفات سے یہ لازمی فائدہ ہوگا کہ ہر سال جو سینکڑوں مسلمان دائرۂ اسلام سے خارج کیے جاتے تھے، اُن کا سلسلہ بند ہوگا۔“ سو برس پہلے کی یہ بات طرح طرح سے اپنی صداقت کے اشارے آج بھی ہمارے سامنے پیش کرتی ہے۔ اتحاد اور اختلاف کے امور پر گفتگو کے دوران ایسے سوالوں پر نظر رکھنی چاہیے ۔

مسئلہ یہ ہے کہ مذہبی قائدین بھی اُسی انداز میں اپنے کاموں کو پیش کرنا چاہتے ہیں جیسے سیاست داں حضرات کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں دیوبند میں جمیعة العلما کے سربراہ سے ملنے کے لیے بریلی سے ایک عالمِ دین تشریف لے جاتے ہیں۔یہ ایک عام واقعہ بھی ہو سکتا تھا لیکن اس کی تشہیر کچھ اس انداز سے ہوئی کہ ہندستان کے دو مسلکوں کے افراد کے بیچ تمام اختلافات ختم ہو گئے اور ہندو مذہب کی اصطلاح کا استعمال کریں تو ”بھرت ملاپ“ ہو گیا۔ ہمیں اِس ملاقات سے رَتّی برابر اختلاف نہیں اور اسے نیک قدم ماننے میں کوئی جھجھک بھی نہیں لیکن کیا کوئی یہ بتائے گا کہ کم از کم ان دو مسلکوں کے درمیان کون کون سے بنیادی اور فروعی اختلافات پیدا ہوئے اور ان علماے کرام نے آپس میں بیٹھ کر اُن کے تدارک کے لیے کون سی صورتیں پیدا کیں۔ ذاتی اور نجی انداز کی ملاقات ہو تو زیادہ بحث نہیں کرنی ہے لیکن اگر ملک کے بیس کروڑ مسلمانوں کے ذہن و دِل کے سوالوں کے جواب تلاش کرنے کا مقصد اُس ملاقات میں پنہاں ہے تو دنیا کو یہ جواب ضرور چاہیے کہ سیاسی حکمرانوں کی طرح بند کمرے کی ملاقات اور اس کی حد درجہ تشہیر کیا حقیقی نتائج سامنے لانے کی طرف کوئی کوشش ہے؟ ہمارا ماننا ہے کہ یہ کوشش اگر ایک آغاز ہے تو زیادہ غور وفکر کے بغیر یہ سلسلہ شروع ہوا ہے جسے منزل تک پہنچنے میں ہزار مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مسلمانو ں کے آپسی اختلافات حقیقت میں کئی جہات سے قابلِ توجہ ہےں۔ بعض اختلافات اس لیے ہیں کہ اُن کے قائدین کی الگ الگ دکان داریاں ہیں۔ عالم کاری کے زمانے میں آسانی سے کوئی اپنی دکان سمیٹ نہیں سکتا۔ خاص طور سے جب مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہو تب یہ کیسے ممکن ہو کہ کوئی اپنی قیادت کو سامنے سے ہٹا لے یا اپنے برابر کے دوسرے قائد کی ٹیم میں خود کو ضم کر لے۔شاید آر۔ایس۔ایس کے طاقت ور لوگ بھی یہ ہرگز نہیں چاہیں گے کہ سو اور ہزار حلقوں میں بٹے مسلمان کسی ایک قائد پر آمنّا و صدّقنا کہیں اور اپنے مسائل کے لیے یک آواز ہو کر جمہوریت میں ایک طاقت بن جائیں۔

ہندستانی مسلمان طبقوں اور برادریوں میں بھی بٹے ہوئے ہیں۔ اُن کے اداروں پر عوامی چندہ اور مختلف اداروں اور ملکوں کی طرف سے پیسے برستے ہیں۔ آج تک اُن قائدین کی نگرانی میں چلنے والے اداروں کی عوامی جانچ پڑتال نہیں کی گئی۔بیس پچیس اور پچاس سال سے مسلمانوں کے قائدین اپنی پوزیشن پر اس طرح قائم ہیں جیسے خدا نے انھیں اِسی کام کے لیے بنایا۔ ملک کا وزیرِ اعظم تو پانچ برس کے بعد دوبارہ آنے کے لیے کیا کیا نہ کرتا ہے اور لاکھوں سوالوں کے بعد بھی منھ کی کھانی پڑتی ہے لیکن مسلمانوں کے قائدین اپنی جگہوں پر مستحکم ہیں۔ بہ قولِ اقبال   یہ بُتانِ عصرِ حاضر جو بنے ہیں مدرسوں میں

مسلمان ایک ہیں اور انھیں ہونا ہی چاہیے لیکن ا س جمہوری نظام میں آپ پر ہزاروں آنکھیں ٹِکی ہوئی ہیں۔ یہ آسان نہیں کہ کسی سازش یا کھیل تماشے سے آپ مؤثر قیادت سامنے لا سکیں۔ دور وہ ہے کہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر صاف صاف گفتگو کی جائے۔ ہم بتائیں کہ تاریخی طور پر ہمارے جو اختلافات تھے اُن میں کہاں کہاں ہم ایک دوسرے سے مفاہمت کی راہیں نکال سکتے ہیں۔ ان کا علمی اعتبار سے کون سا طریقہ ہو سکتا ہے۔ایک دوسرے کے خلاف ہزاروں کی تعداد میں جو کتابیں لکھیں گئیں اور علماے کرام نے ایک دوسرے کے اندازِ فکر کو طرح طرح سے نشانہ بنایا، آخر اِن کا انصاف پسندانہ جائزہ لیے بغیر نقلی میل محبت کے اعلانات سیاسی اور دنیاوی اعتبار سے توجہ کا باعث ہوسکتے ہیں لیکن ان کے اثرات لازمی طور پر دیر پا نہیں ہوں گے۔ ہمیں مسلمانوں کے اختلافات کے خاص خاص امراض کی نشان دہی کرنی ہوگی اور آپس میں مل بیٹھ کرنیک نیتی سے اپنے اور اپنے اسلاف کے بتائے اور بنائے اصولوں کا منصفانہ اور عالمانہ جائزہ لینا ہوگا۔ اِن کاموں کے بعد ہی اتحادِ بین المسلمین کے امور حقیقی زمین پر اُتر سکیں گے۔

(مضمون نگار شعبۂ اردو، کالج آف کامرس کے استاد ہیں۔)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *