کیا مراٹھواڑہ ریگستان میں تبدیل ہو جائے گا؟

Marathwada

نئی دہلی، ۲۰ اپریل (نامہ نگار): ہم سب جانتے ہیں کہ مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ اور وِدربھ علاقے میں زبردست خشک حالی کا عالم ہے۔ پینے تک کا پانی د ستیاب نہ ہونے کی وجہ سے لوگ بڑی تعداد میں دوسرے علاقوں کی طرف کوچ کر رہے ہیں۔ جو تھوڑا بہت پانی بچا ہے وہ صرف مراٹھواڑہ بند میں بچا ہے۔ ایسے میں پانی کے ماہر پردیپ پورندارے نے آگاہ کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مراٹھواڑہ کا پورا علاقہ ریگستان میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے پورندارے نے بتایا کہ ’’مراٹھواڑہ ریکستان بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ اگر موجودہ صورتِ حال بنی رہی، تو اس پورے علاقے کے ریگستان میں تبدیل ہو جانے کے امکانات ہیں۔ خاص کر عثمان آباد، بیڈ اور لاتور میں حالات نازک ہیں۔ پانی کے چھ ذرائع پوری طرح خشک ہو چکے ہیں۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’مراٹھواڑہ بند میں پانی کی سطح تین فیصد کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ چکی ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں حکومت نے مغربی مہاراشٹر کے میراج سے خصوصی ٹرینوں میں پانی بھر کر مراٹھواڑہ کے لاتور علاقے میں پہنچایا ہے۔ آج صبح کو ایسی ہی ایک ٹرین ۲۵ لاکھ لیٹر پانی لے کر لاتور پہنچی۔

علاقے کے ۱۱ میں سے ۸ بڑے بندوں (ڈیمس) میں پانی تقریباً ختم ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے ان میں سے پانی بہہ کر نہیں نکل سکتا، بلکہ کھینچ کر نکالنا پڑتا ہے۔

Water Train

خشک سالی کی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے مہاراشٹر حکومت نے ۲۰۰ فیٹ سے نیچے کنویں کھودنے پر پابندی عائد کر دی ہے، تاکہ زیر زمین پانی کی سطح کو مزید کم ہونے سے بچایا جا سکے۔

اس کے علاوہ ریاستی حکومت نے صنعتی اکائیوں کو کی جانے والی پانی کی سپلائی میں بھی کمی کی ہے، خاص کر اورنگ آباد علاقے میں۔

گزشتہ پانچ سالوں کے دوران مراٹھواڑہ میں خشک سالی کا یہ چوتھا برس ہے۔ یہاں کے کل ۸،۵۲۲ گاؤوں میں سے دو برسوں سے تقریباً ہر ایک گاؤں خشک سالی کی مار جھیل رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *