کیا یہی ہے سرکاری اسکول کا مقصد

نکہت پروین،پٹنہ
تم بڑی ہو کر کیا بننا چاہتی ہو؟. جیسے ہی یہ سوال 7 سالہ بچی مدھو سے کیا، اس کی معصوم آنکھیں مجھے دیر تک گھورتی رہی،دراصل مدھو بہار کے ضلع سیتامڑھی کے کوشیل گاؤں میں اپنی بیوہ ماں کے ساتھ رہتی ہے،گاؤں میں ہی واقع سرکاری مڈل اسکول کی چوتھی جماعت میں زیر تعلیم ہے۔
میری ملاقات مدھو سے اس وقت ہوئی جب میں اور میری کچھ ساتھی اس کی ماں سے بات چیت کر رہی تھیں . گفتگوکے دوران جیسے ہی مدھو کی ماں کی زبان پر مدھو کا نام آیا وہ گھر کے اندر داخل ہوئی، ابھی تمہاری ہی بات ہو رہی تھی۔کہاں سے آ رہی ہو مدھو؟ یہ پہلا سوال تھا جو مدھوکو دیکھنے کے بعد میری زبان سے نکلا. اسکول سے مدھو نے جواب دیا. کس وقت اسکول جاتی ہو؟ 10 بجے۔ اچھا اور آتی اب ہو،میں نے پھر پوچھا. اس نے اشارے میں جواب دیا ہاں۔، وہ مزید مسکراتے ہوئے بتاتی ہے کہ اسکول سے ہمیں ظہرانہ ضرور ملتا ہے مگر برتن اپنے گھر سے لے جانا پڑتا ہے میں نے حیرانی کے عالم میں سوال کیا کہ برتن کیوں لے کر جاتی ہو،اس نے بڑی معصومیت سے جواب دیا کہ اسکول کے سارے بچے ایساہی کرتے ہیں۔میرا اگلا سوال تھاکہ اسکول کے کھانے میں کیا کیا ملتا ہے؟. اس نے فوراً ہی جواب دیا دال چاول اور سبزیاں۔میرے سوال پر کہ اور انڈے کب ملتے ہیں؟ آنکھوں کے

اپنی کتاب دکھاتے ہوئے مدھو
اپنی کتاب دکھاتے ہوئے مدھو

اشاروں سے اس نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھاتے دال ملتا ہے، کسی کسی دن کھچڑی بھی ملتی ہے۔
کتنے دنوں سے تعلیم حاصل کررہی ہو اور اسکول کا ڈریس پہن کر اسکول کیوں نہیں جاتی ہو؟ مدھونے جواب دیا 3 سال سے، اور اسکول کے تمام بچے گھر والے کپڑے ہی پہن کرآتے ہیں۔اچھا، دو چوٹی بنا کر، ربن لگا کر نہیں جاتی تم، جواب پھر وہی آیا نہ. اور کتاب کون کون سی پڑھ تی ہو، دکھاؤ۔ایک اچھے بچے کی طرح اس نے فوراً ایک کتاب کھولی جس کا نام تھا” ہماری قومی زبان ہندی” کتاب کھولتے ہوئے اس نے کہا یہی کتاب میں اسکول میں پڑھتی ہوں، میں نے اسے کتاب کھولنے کے لئے کہا، اور پوچھا کون سی کلاس میں ہو تم،اس نے فوراً جواب دیا چوتھی جماعت میں، . پھر پہلی نظم سامنے آئی. یاد تمہاری آتی ہے. تمہیں یاد ہے یہ نظم یا اور کچھ؟ اس کا جواب آتا رہا نہ نہ اور صرف نہ۔
کیوں ٹیچر تم کو کچھ پڑھاتی نہیں ہے،جواب دیا نہیں،خالی حاضری بنادیتی ہیں۔ اچھا اسکول میں کتنے گھنٹے رہتی ہو؟س کا کوئی جواب نہیں ملا،. تو ابھی تم پلیٹ لینے گھر آئی ہو پھر اسکول جاؤ گی؟ ہاں اس نے آہستہ سے کہا. پھر کھانا کھاکے پڑھائی کرو گی؟ نہیں کھانا کھا کے ہم گھر آجائیں گے،دن میں دو مرتبہ حاضری ہوتی ہے اور اس کے بعد ہم لوگ اپنے اپنے گھر آجاتے ہیں۔میرا پھر سوال تھا کہ تم سارا دن اسکول میں کیا کرتی ہو؟ لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔
تمہیں ہندی کا ابجد آتا ہے؟ ہم ٹیوشن بھی پڑھتے ہیں،گاؤں کے ہی ایک سر ہیں جن کا نام سوجئے ٹھاکر ہے، انہوں نے ہمیں ایک سے بیس تک کی گنتی اور اے بی سی ڈی بھی سیکھایا ہے مگر اے بی سی ڈی ٹھیک سے یاد نہیں ہے اگر ہم نے آپ کو سنایا تو میں گڑبڑا جاؤں گی، اچھا تو تم ہندی کا حروف تہجی ہی سنادو، اس نے جواباً کچھ سنایا،میں نے پھر سے سوال کیا کہ یہ تم کو اسکول کی میڈم نے سیکھایا ہے یا ٹیوشن کے سرنے؟ سرنے،میڈیم توکچھ بھی نہیں سیکھاتی۔تم ان سے پڑھانے کے لئے نہیں بولتی ہو؟ اگر میں نے اس تعلق سے کچھ بولا تو میری پیٹائی ہوجائے گی، اسی ڈر سے کچھ بھی نہیں بولتے ہیں۔
اور پھر اخیر میں وہی پہلا سوال کہ تم بڑی ہو کر کیا بننا چاہتی ہو؟ کچھ دیر اس نے خاموشی سے میری طرف دیکھا اور پلیٹ لے کر اسکول کی طرف چل پڑی، وہ چلی گئی لیکن میں غور وفکر کے سمند ر میں غوطہ زن ہوگئی کہ کیا مستقبل ہوگا مدھو کا؟ اور اس جیسی دیہی ہندوستان میں بسنے والی ہزاروں لڑکیوں کا جو تعلیم کے ایسے مندر میں جا رہی ہیں جہاں تعلیم کے علاوہ سب کچھ مل رہا ہے. کھیلنے کا پورا وقت، ایک وقت کا کھانا اور بے فکری کے ساتھ اسکول آنے جانے کی اجازت،مگر سوال ابھی بھی برقرار ہے کہ کیا یہی ہے ہمارے ملک کے دیہی علاقوں میں واقع اسکولوں کے مقاصد؟؟؟(چرخہ فیچرس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *