گؤ کشی کے ملزمین پر این ایس اے کا اطلاق؟

فیصل فاروق
مدھیہ پریش کے کھنڈوا میں گؤ کشی کے مبینہ معاملہ میں تین افراد کو این ایس اے کی دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ مدھیہ پریش میں برسر اقتدار آنے والی کانگریس حکومت بھی یوپی کی یوگی سرکار کے نقش قدم پر چلتی نظر آرہی ہے۔ کمل ناتھ حکومت نے گؤ کشی کے تین ملزمین ندیم، شکیل اور اعظم پر قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کا اطلاق کیا ہے۔ اس سے پہلے بی جے پی کی شیوراج سنگھ حکومت میں گؤ کشی کے معاملہ میں ۲۲؍افراد کو این ایس کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

این ایس اے دہشت گردی اور شاطر مجرموں کو جرم کرنے سے قبل روکنے کے کام آتا ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ مبینہ گؤ کشی معاملہ میں این ایس اے جیسے سخت قانون کا استعمال کیوں کیا گیا؟ اس سوال کا جواب دینے کے بجائے کانگریس ترجمان حکومت کا بچاؤ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکومت گائے کے تحفظ کے سلسلے میں سنجیدہ ہے اور گایوں کی حفاظت کے لیے صحیح کام کرے گی جو کہ پچھلی حکومت نے نہیں کیا۔ آئندہ چند مہینوں میں لوک سبھا انتخابات ہونے جا رہے ہیں، لہٰذا کانگریس کو یہ مسئلہ کچھ خاص نظر آ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پورا سسٹم اتنا مستعد ہے۔

مدھیہ پردیش میں اقتدار میں تبدیلی کے باوجود حکومت کے طور طریقے بدلتے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ گؤ کشی کے الزام میں گرفتار کیے گئے تین مسلم نوجوانوں کے خلاف این ایس اے کے تحت کارروائی کی وجہ سے شدید تنقیدیں ہو رہی ہیں۔ مگر تمام تر تنقیدوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مدھیہ پردیش پولیس نے’غیر قانونی طور پر‘گائے لے جا رہے دو نوجوانوں پر این ایس اے لگا دیا۔ ایسے معاملات میں دیکھا گیا ہے کہ بے قصوروں (خصوصاً دلتوں اور مسلمانوں) کو بلا وجہ پریشان کیا جاتا ہے اور بغیر کسی جانچ یا لیب ٹسٹ کے گوشت کو گائے کا مان لیا جاتا ہے۔

دوسرے معاملے میں کوتوالی پولیس اسٹیشن کے انچارج اجیت تیواری نے بتایا کہ دو ملزمین محبوب خان اور رودومل مالویہ جو بالترتیب اجین ضلع کے لمبی کھیڑ اور اگرمالوا کے رہنے والے ہیں، کو گائے کی اسمگلنگ اور عوامی نظم و نسق کو خراب کرنے کی پاداش میں این ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ یہ لوگ اپنی گاڑی میں مویشیوں کو غیر قانونی طور پر لے جا رہے تھے جس کے خلاف عوام نے احتجاج کیا اور حالات کشیدہ ہونے کے بعد پوری مارکیٹ بند ہو گئی تھی۔ خبروں کے مطابق یہ دونوں گؤ کشی نہیں کر رہے تھے بلکہ جانوروں کو تجارت کے لیے لے جا رہے تھے۔

حالیہ دنوں کانگریس کے رویہ میں آنے والی تبدیلی ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ کیا یہ قدم محض اس لیے اٹھایا جا رہا ہے تاکہ اس کا فائدہ سیدھے طور پر لوک سبھا انتخابات میں اٹھایا جا سکے؟ کیا کانگریس بھی بی جے پی کی راہ پر چل رہی ہے؟ کیا ایسا کر کے کانگریس ہندوؤں کو اپنے قریب لانے کا موقع تلاش رہی ہے؟ کیا کانگریس ایسا کرنے میں کامیاب ہو پائے گی؟ ان سبھی سوالوں کے درمیان دلچسپ پہلو یہ ہے کہ گؤ کشی کے الزام میں مسلم نوجوانوں پر این ایس اے کے تحت کارروائی کے خلاف خود کانگریس پارٹی میں آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

نئی دہلی میں کانگریس اقلیتی سیل کے ایک پروگرام میں مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی عارف نسیم خان نے اس معاملہ کو پوری شدت سے اٹھایا تھا۔ وہیں راجیہ سبھا ایم پی اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے ملزمین کے خلاف این ایس اے لگائے جانے کو غلط بتایا۔ اس سے پہلے مدھیہ پریش میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ دگ وجے سنگھ نے این ایس اے کے اطلاق کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزمین پر گؤ کشی کے لیے بنے قانون کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے تھی، این ایس اے نہیں لگانا چاہیے تھا۔ عارف نسیم خان کے اعتراض کو کانگریس ہائی کمان نے نہایت سنجیدگی سے لیا ہے۔

بہرحال کمل ناتھ حکومت کے حالیہ فیصلہ سے بہت زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اپنی انتخابی ریلیوں میں انہوں نے مدھیہ پردیش کی ہر پنچایت میں گؤشالہ کے قیام جیسے اعلانات سے یہ بات ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی کہ’’گؤونش‘‘کے تحفظ میں کانگریس پارٹی کسی طرح بی جے پی سے پیچھے نہیں ہے۔ اگر کانگریس کو این ایس اے کا اطلاق کرنا ہی ہے تو ان لوگوں پر کرنا چاہیے جو گائے کے نام پر کھلے عام نفرت اور تشدد پھیلاتے ہیں۔
(مضمون نگارممبئی میں رہائش پذیر کالم نِگار اور صحافی ہیں)

Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published.