گدڑی کا لعل

استاد اور ادیب ایم عالم کی  یاد میں 

افروز عالم ساحل 

دنیا میں ایسے لوگ بہت کم  ہوتے ہیں جو بغیر کسی شہرت یا صلے کی تمنا کے بغیر  ایک کونے میں چپ چاپ  اپنا کام کئے جاتے ہیں ۔ ایسے گدڑ ی کے لعلوں کا جتنا کم نام ہوتا ہے ان کا کام اتنا ہی عظیم اور بڑا ہوتا ہے۔ وہ چھپے رہیں گے، شہرت ملنے کے وقت کسی دوسرے کو آگے کر دینگے۔ لیکن کام کرنے اور پریشانیوں کو جھیلنے کے لئے سب سے آگے دوڑ پڑینگے۔  میرے استاد محترم ایم عالم بھی ایسی ہی شخصیتوں میں سے ایک تھے، جو ۱۵ جولائی، ۲۰۱۸ کی شب اس دنیائے فانی  سے  ہمیشہ ہمیش کے لئے  کوچ کر گئے۔ ایم عالم صاحب بنیادی طور پر استاد تھے۔ انھوں  نے کتنے ہی بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا اور انھیں زندگی کے میدان میں اتر کر تیرنے  کا سلیقہ سکھایا ۔ وہ ایک مشفق ، مہربان اور بہترین استاد کے ساتھ ساتھ ماہر زبان و ادب بھی  تھے، جن کا انتقال ایک بڑا نقصان ہے ۔

آپ ان شخصیتوں  میں سے تھے جو کام کرنا جانتے تھے۔ انھوں نے کبھی بھی  اپنے نام  یا خاندان  کے بارے میں نہیں سوچا۔ وہ نام سے زیادہ کام کو ترجیح دینےکا کام ہی ان کا مشغلہ تھا، کام ہی ان کی زندگی، بلا تھکے، بلا رکے کام کرتے جاو کے وہ متمنی تھے۔ پڑھنے پڑھانے، اور لکھنے لکھانے کے علاوہ  انھوں نے سماجی اور رفاہی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔  ان کے خاندان سے وابستہ رہے لوگ بتاتے ہیں کہ  کئی مضامین انہوں نے ایسے ہی لوگوں کو  لکھ کر دے دیا، جسے  دوسرے لوگوں نے  خود کے نام سے شائع کرائیں اوراپنی تعریفیں بٹوری۔ انھیں نام و نمود کا شوق ہی نہ تھا۔ وہ جو بھی کام کرتے  کہتے :”میں اللہ کی رضا کے لئے کرتا ہوں ، جب مجھے ان سے ہی سب کچھ ملنا ہے تو میں کیوں کسی کے آگے جی حضوری کروں”۔

استاد محترم پروفیسر محمد عالم کا ادبی نام ایم عالم تھا،  ان کی پیدائش ۲ نومبر ۱۹۳۱ کو ایک تعلیم یافتہ اور زمیندار گھرانے میں ہوئی تھی ۔ آپکے والد کا نام الحاج محمد محمود عالم تھا۔  آپ نے ساری عمر تعلیم و تدریس کی خدمت انجام دی۔ آپ چمپارن کے ایم این ایم ویمنس کالج میں صدر شعبہ اردو رہیں اور بتیا کے مشہور اسکول  درس گاہ اصلاحی میں پڑھایا۔

زبان و ادب سے ان کو خاص لگاو تھا، انھوں نے ۱۹۵۳ء سے افسانے لکھنا شروع کیا اور بہت جلد اپنی شناخت بنا لی ۔  لیکن جلد ہی انھوں نے اس مشغلہ کو خیر آباد کہہ دیا اور تحقیق وتنقید کے میدان کو چن لیا اور  مسقل  تحقیقی اور تنقیدی مضامین لکھتے رہے۔ آپ کے افسانوں میں سماجی شعور، ذاتی احساسات وتجربات، سماج کا کرب  اور انفرادی مشاہدات کی جھلک دیکھنے کو  ملتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کچھ نام نہاد لوگ آپکے مظامین کی چوری کرکے صاحب کتاب ہوگئے، لیکن ایم عالم کی پہلی کتاب ‘ادب عکاسی حیات’ اب عنقریب ہی منظر عام پر آنے والی ہے۔ جس سے قارئین ان کے فن اور شخصیت سے متعارف ہو سکیں گے۔

آپ جہاں بھی اور جس جگہ بھی رہے، ہر جگہ اردو  کی جوت جگانے اور زبان و ادب کے فروغ کےلئے کوششیں کرتے رہے۔ ایک استاد کی حیثیت سے مجھ جیسے ہزاروں طلبہ ان سے فیضیاب ہو ئے۔ ان کا سب سے بڑا سرمایہ وہ نوجوان نسل ہے جس کے اندر انھوں نے اردو زبان کا شوق پیدا کیا اور ایک ادیب کی حیثیت سے مغربی چمپارن کے بتیا شہر  اور اس کے گرد و نواح کو  کئی ادیب  دئیے۔  جو اردو کی بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ اردو سے جڑنے والے ہر شخص کی آپ نے خوب حوصلہ افزائی کی، نئے اور نوجوان  شاعروں کے بارے میں بھی لکھ کر انہیں مشہور کیا اور انھیں آگے بڑھایا۔ لیکن  یہ  افسوس کی بات ہے کہ ان کے کسی بھی  شاگرد نے ان کے بارے  میں چند سطریں لکھنے کی زحمت گوارا نہ کی ۔

استاد محترم نے اردو ادب  کے تقریبا سبھی نثری اصناف پر طبع آزمائی کی اور بہت ساری بہترین تخلیقات اردو ادب کو دیں،  جو ہندوستان کے مختلف رسائل و جرائد میں شائع  مقبول عام ہوئیں۔  بہار کی ادبی  شخصیات پر  انھوں نے بے شمار مضامین بہار کے مختلف اخباروں و رسالوں میں لکھا اور چھپوایا۔ اس کے علاوہ مذہب، سیاست، معاشرہ، ادب، زندگی، انقلاب، فنون لطیفہ، قومی مسائل اور بین الاقوامی حالات پر بھی آپنے خوب لکھا۔ سچ کہیں  تو آپ کے لئے کسی صنف و موضوع کی قید نہیں رہی۔ ہمہ جہت،  مستقل مزاجی، اور کثیر  مطالعہ کے سبب ہر موضوع پر خامہ فرسائی کے لئے آپ کے پاس بھرپور مواد رہا ہے۔ایم عالم صرف اردو ادب کے ادیب ہی نہیں بلکہ اردو کے ساتھ ساتھ فارسی زبان پر بھی یکساں  گرفت تھی۔ آپ بہت اچھے مترجم بھی تھے۔ انگریزی زبان کے کئی افسانوں کو بھی آپ نے اردو و اور  فارسی زبانوں  میں ترجمہ کیا کئی مضامین انگریزی میں بھی لکھے۔

استاد محترم نے چمپارن کی ادبی تاریخ، چمپارن کی ادبی شخصیات اور چمپارن کے مجاہد آزادی و گمنام شخصیات پر کام کیا، اس پر کام کئے گئے ان کے تخلیقی سرمایوں کو دیکھنے سےاندازہ ہوتا ہے کہ  انھوں نے اس کے لئے کتنی محنت اور جد و جہد کی ہوگی۔ قومی سیاست  اور سماج میں  بھی آپکی اچھی نظر تھی۔ اسی لئے لوگ انھیں چاہتے اور عزت بھی دیتے تھے۔ ملی مسائل کے حل سے آپکی دلچسپی قابل داد ہے۔ آپ نے اپنی تخلیقات کے ذریعے ملک و ملت کو راہ راست پر لانے کی جو کوششیں کی ہیں، انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی جیالا آگے بڑھے اور ان کی بکھرے سمٹے سرمائے  کو جمع کرے۔  یہ کام ان کے شاگردوں کو ضرور کرنا چاہیے اگر یہ کام ہو جاتا ہے تو میں سمجھتا ہوں  کہ ایک استاد کو ان کے انتقال کے بعد ایک شاگرد کی جانب سے بہترین خراج عقیدت ہوگا۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *