ہریش راوت کا اسٹنگ آپریشن، استعفیٰ کی مانگ

ہریش راوت، وزیر اعلیٰ اتراکھنڈ، تصویر: بشکریہ انڈین ایکسپریس
ہریش راوت، وزیر اعلیٰ اتراکھنڈ، تصویر: بشکریہ انڈین ایکسپریس

نئی دہلی، ۲۶ مارچ (نامہ نگار): اتراکھنڈ کی کانگریس سرکار اپنے ۹ ممبرانِ اسمبلی کے باغی ہو جانے کی وجہ سے پہلے سے ہی بحران کی شکار تھی۔ آج وزیر اعلیٰ ہریش راوت کے اسٹنگ آپریشن کی وجہ سے اسے مزید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سی ڈی میں وزیر اعلیٰ ہریش راوت کو باغی ممبرانِ اسمبلی کو خریدنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اسٹنگ آپریشن کی سی ڈی ٹی وی چینلوں پر چلائے جانے کے بعد جہاں ایک طرف اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہریش راوت اسے پوری طرح فرضی بتا رہے ہیں، وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان کے استعفیٰ اور اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

باغی کانگریس لیڈر ہرک سنگھ راوت نے آج اسٹنگ آپریشن کی سی ڈی جاری کرکے الزام لگایا کہ کانگریس کے ۹ باغی ممبرانِ اسمبلی سمیت بی جے پی ممبرانِ اسمبلی کو بھی خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہرک سنگھ نے یہ بھی کہا کہ ہریش راوت نے اُن ممبرانِ اسمبلی کو دھمکی بھی دی ہے۔

دریں اثنا، بی جے پی لیڈر کیلاش وجے ورگیہ نے اس پورے واقعہ پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہریش راوت کی اسٹنگ ویڈیو دیکھ کر انھیں کوئی حیرانی نہیں ہوئی ہے۔ تاہم، انھوں نے فوری طور پر ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔

نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے وجے ورگیہ نے کہا کہ ’’ہمیں اس سے حیرانی نہیں ہوئی۔ یہی اُن کا (کانگریس کا) کردار ہے۔ ہم نے یہ بات گورنر سے بھی کہی ہے کہ اگر آپ ان کو زیادہ وقت دیں گے، تو خرید و فروخت ہوگی۔ انھوں نے (ہریش راوت نے) نہ صرف ہمارے ایم ایل ایز کو خریدنے کی کوشش کی، بلکہ اپنے ممبرانِ اسمبلی کو خریدنے کی بھی کوشش کی۔‘‘

وجے ورگیہ نے مزید کہا کہ ’’یہ ان کی اندرونی لڑائی ہے۔ اس ویڈیو کو بنانے یا اسٹنگ کرنے میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں آج ہم صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کریں گے۔ اب، سچائی سب کے سامنے ہے۔ لہٰذا، ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کو فوراً ہٹایا جائے اور ریاست ممیں صدر راج نافذ کیا جائے۔‘‘

حالانکہ اس سی ڈی کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے، تاکہ اس نے اتراکھنڈ کی سیاست میں ایک نیا طوفان برپا کر دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اتراکھنڈ اسمبلی اسپیکر گووند سنگھ کنجوال نے کانگریس کے ان سبھی ۹ باغی ممبرانِ اسملبی کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا تھا، جسے ان باغیوں نے اتراکھنڈ میں چیلنج کیا تھا۔ لیکن کورٹ نے ان باغی کانگریس لیڈروں کی عرضی کو خارج کر دیا تھا۔ تاہم، ریاست کے گورنر نے وزیر اعلیٰ ہریش راوت کو آئندہ ۲۸ مارچ کو اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کا وقت دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *