’ہمدرد‘ خاندان دو حصوں میں تقسیم

ڈاکٹر قمر تبریز

ہندوستان میں یونانی طریقہ علاج کے شعبہ میں ’ہمدرد‘ کے نام سے جو ایک پودا حکیم عبدالحمید مرحوم نے لگایا تھا، ایسا لگتا ہے کہ اب وہ مرجھانے والا ہے۔ ’ہمدرد‘ کے بینر تلے ہم نے گزشتہ کئی دہائیوں میں ’ہمدرد نیشنل فاؤنڈیشن، ہمدرد دواخانہ، جامعہ ہمدرد، سنکارا، روح افزا، جوشینہ، سوالین، صافی‘ وغیرہ کے نام سے مختلف اداروں اور مصنوعات کو پھلتے پھولتے اور بغیر کسی تفریق کے پوری انسانیت کی خدمت کرتے دیکھا تھا۔ لیکن، ۱۹۹۹ میں حکیم صاحب کے انتقال کے بعد، ہندوستان کے دیگر خاندانوں کی طرح ہی، اب ’ہمدرد خاندان‘ بھی ایک ساتھ رہنے کو تیار نہیں ہے۔ اس لیے حکیم عبدالحمید صاحب اپنے پیچھے جو دو بیٹے چھوڑ گئے تھے، ان کے بیٹوں نے (یعنی حکیم صاحب کے پوتوں نے) دادا کی پوری پراپرٹی کو دو حصوں میں تقسیم کر لیا ہے۔

یہاں پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس حصے بخرے کے بعد جامعہ ہمدرد یا ہمدرد یونیورسٹی کا کیا ہوگا؟ یہ سوال اس لیے ضروری ہے کہ حکیم صاحب مرحوم نے یہ پودا پوری قوم (ہر ہندوستانی) کے لیے لگایا تھا، صرف اپنی اولادوں کے لیے نہیں۔ اس کی پہلی مخالفت حکیم صاحب کی زندگی میں ان کے ہی بڑے بیٹے عبدالمعید نے جب کی تھی، تو حکیم صاحب نے اسی وقت یہ واضح کر دیا تھا کہ یہ پوری پراپرٹی ان کے خاندان کی نجی پراپرٹی (وقف علی الاولاد) نہیں ہوگی، بلکہ پوری قوم کی ہوگی جہاں مذہب یا ذات کے نام پر کسی سے کوئی بھید بھاؤ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ان کے بعد ان کے خاندان کے لوگ اس پراپرٹی سے کچھ اقتصادی فائدہ اٹھانا چاہیں، تو انہیں اس میں نوکری کرنی ہوگی۔ عبدالمعید اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ والد محترم نے بڑی تمناؤں اور خواہشوں کے ساتھ انہیں اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک بھیجا تھا اور چاہتے تھے کہ بیٹا جب وہاں سے پڑھ کر واپس لوٹے، تو اس پورے ادارہ کو مزید بلندیوں تک لے جانے میں ان کی مدد کرے۔ لیکن، بدقسمتی سے بیٹے کو مغربی تہذیب کی ہوا لگ گئی، جہاں انسانوں کی خدمت کے مقابلے اپنی خدمت پر زیادہ دھیان دیا جاتا ہے۔

عبدالمعید بالکل بھی نہیں چاہتے تھے کہ ہمدرد یونیورسٹی نام کی کوئی چیز بنے۔ اس لیے، والد کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنے آگے پیچھے ایسے لوگوں کو جمع کیا جو اسے پرائیویٹ یونیورسٹی بنانے میں ان کی مدد کر سکیں۔ اسی مقصد کے تحت جموں و کشمیر سے ڈاکٹر جی این (غلام نبی) قاضی کو جامعہ ہمدرد کا وائس چانسلر بناکر لایا گیا۔ قاضی کے آنے سے پہلے جامعہ ہمدرد اس منصوبہ پر کام کر رہا تھا کہ کیمپس میں ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اینڈ ریسرچ (ایچ آئی ایم ایس آر) کے نام سے ایک نیا ادارہ بن جائے، جو تمام جدید سہولیات سے لیس ہو۔ لیکن، جی این قاضی نے آتے ہی یہ بھانپ لیا کہ یہ میڈیکل کالج آنے والے دنوں میں موٹی کمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس لیے انہوں نے جامعہ ہمدرد کا وائس چانسلر رہتے اسے پرائیویٹ میڈیکل کالج بنانے کے لیے ہر جائز و ناجائز چیزوں کا سہارا لیا۔ کورٹ کچری سے لے کر نیتا اور منسٹر تک کو سیٹ کیا۔ اور، آخر میں کامیاب بھی ہوئے۔ قاضی نے عبدالمعید کی مدد سے، پوری پلاننگ کے ساتھ حکیم عبدالحمید صاحب کے ذریعے ۱۹۸۳ میں دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) سے تعلیمی مقاصد کے لیے پٹّہ پر لی گئی ۱۱۹۲۴۷ مربع میٹر زمین کے ۷۰ فیصد حصہ کو کاروباری استعمال کے لیے منظور کرا لیا۔ اس طرح سے ہمدرد یونیورسٹی کے پاس صرف ۱۹۵۵۷ مربع میٹر زمین ہی بچی۔

اب تازہ صورتحال یہ ہے کہ حکیم صاحب کے خاندان میں پوری طرح سے بٹوارہ ہو چکا ہے۔ کہانی تھوڑی لمبی ہے، لیکن ہماری تشویشوں کو بھی بڑھاتی ہے۔ ہمدرد دواخانہ کے لیبل کے ساتھ پہلے بریکٹ میں جو ’وقف‘ لفظ لکھا ہوتا تھا، وہ کچھ سال پہلے ہٹایا جا چکا ہے۔ ہمدرد کی دوائیں بنانے میں استعمال ہونے والا اترپردیش کے غازی آباد کا پلانٹ حکیم صاحب کے بڑے بیٹے، عبدالمعید کے دونوں بیٹوں کے حصے میں گیا ہے، جب کہ ہریانہ کے مانیسر میں واقع پلانٹ چھوٹے بیٹے، حماد احمد کے حصہ میں۔ ویسے مانیسر میں ۱۱ ایکڑ میں پھیلا ایک باٹینکل گارڈن بھی ہے، جو عبدالمعید کے دونوں بیٹوں – اسعد معید اور مجید ثانی کو دیا گیا ہے۔ مہاراشٹر کے اورنگ آباد میں واقع ۳۰۰ ایکڑ زمین حکیم صاحب کے چھوٹے بیٹے، حماد احمد کو دی گئی ہے۔ دہلی کے اوکھلا انڈسٹریل ایریا میں ۱۰ ایکڑ زمین کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ اُدھر ہمدرد میڈیکل کالج (پرائیویٹ) معید صاحب کے بیٹوں کے نام کر دیا گیا ہے، جس کے ڈائرکٹر جنرل کے عہدہ پر جی این قاضی اسی دن سے براجمان ہیں جس دن وہ جامعہ ہمدرد سے بطور وی سی ریٹائر ہوئے تھے۔ ہمدرد یونیورسٹی حماد احمد کے حصہ میں آئی ہے۔ لیکن، ابھی ایک پیچ پھنسا ہوا ہے۔

جامعہ ہمدرد کے موجودہ وائس چانسلر (وی سی)، پروفیسر سید احتشام حسنین، جنہیں جی این قاضی اس لیے لے کر آئے تھے کہ وہ یہاں کے سبھی جائز و ناجائز کاموں میں ان کا ساتھ دیں گے، اس بٹوارے کے بعد خود کو خالی ہاتھ پاکر تھوڑا ناراض چل رہے ہیں، اور میڈیکل کالج کو یونیورسٹی سے الگ ہونے کے لیے ضروری این او سی (نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ) دینے کو تیار نہیں ہیں۔ پروفیسر نجمہ اختر، جن کے پاس کسی زمانے میں کچھ لوگ یہ فریاد لیکر گئے تھے کہ وہ جامعہ ہمدرد کو برباد ہونے سے بچانے میں ان کی مدد کریں، تو انہوں نے چھوٹتے ہی جواب دیا تھا، ’’تمہارے باپ کی یونیورسٹی ہے، جو تمہیں درد ہو رہا ہے۔‘‘ شاید انہیں سب وجہوں سے آج وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر بنی ہوئی ہیں۔ لیکن، گزشتہ دنوں کیمپس میں سی اے اے قانون کے خلاف احتجاج کر رہے طلبہ و طالبات پر پولس نے جب ڈنڈے برسائے اور پھر پروفیسر نجمہ اختر نے اپنے بیانوں سے جس طرح سرکار اور پولس کو ناراض کیا، اس کے بعد ایسا لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کی وی سی والی کرسی بھی چھننے والی ہے۔

بہرحال، ان سب کی پوری تفصیل اگلی قسطوں میں بیان کی جائے گی، تب تک انتظار کریں اور کووڈ- ۱۹ سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے سرکاری احکام کی پیروی کریں۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply