ہمیں اس گندگی سے باہر نکال لو، امانت اللہ صاحب!

Hanif Alimi

حنیف علیمی کی خاص رپورٹ

سوچھ بھارت ابھیان ملک بھر میں بڑے شور شرابے کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔ کہیں وزیر اعظم نریندر مودی خود جھاڑو لگاتے نظر آرہے تھے، تو کہیں امت شاہ۔ غرضیکہ ہر طرف صاف صفائی کا بڑا زور تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ جہاں بھی ہمارے ان سیاسی رہنماؤں نے جھاڑو لگائی تھی وہاں ہرے بھرے اور تازہ پتوں کا کوڑا ہوا کرتا تھا، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا کہیں ایسی جگہ بھی کبھی صفائی ہوئی جہاں صحیح معنوں میں گندگی تھی، یا ہے؟ ۲۰۱۶۔۱۷ کے بجٹ میں حکومت نے ۹ ہزار کروڑ روپے سوچھ بھارت ابھیان کے لئے پاس کئے تھے۔ کیا وہ پیسے ہندوستان کی صفائی پر خرچ ہوئے؟ ہوئے تو کہاں؟ نہیں تو کیوں؟ ایسا تو نہیں کہ وجئے مالیا یہی ۹ ہزار کروڑ روپے لیکر ملک سے فرار ہوگئے اس لئے صفائی نہیں ہوپائی؟

جب میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے تھوڑا آگے بٹلہ ہاؤس کی طرف بڑھا تو ایسے ہی کئی سارے سوالات وہاں کے حالت دیکھ کر میرے ذہن میں آتے چلے گئے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ یہاں رہنے والے لوگ زندہ کیسے ہیں۔ یہ صرف خداوند قدوس کی ذات ہے، جو اُن کو زندہ رکھے ہوئی ہے، ورنہ اس حالت میں زندگی کے آثار باقی نہیں رہتے۔ میں نے وہاں کے باشندوں سے بات کی۔ آپ بھی ان کی حالت زار کی داستاں سنئے اور مرثیہ پڑھئے، ان غریب لوگوں پر یا اپنی حکومت پر۔

Batla House (2)

بٹلہ ہاؤس کے ۲۰ فٹا کے جھگی علاقے میں لوگ بجلی، پانی، صفائی یہاں تک کہ راشن جیسی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ ہر طرف گندگی کے ڈھیر، مرے ہوئے چوہے، کتا، بلی، چھچھوندر کی بدبو آرہی ہے۔ جھگیوں کے سامنے گندہ نالہ کسی عذاب سے کم نہیں ہے۔ ایم سی ڈی والے پورے اوکھلا کا کوڑا یہاں کہیں بھی ڈال کر چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ کوڑے دان رکھے ہوئے ہیں، لیکن پورے اوکھلا کا کوڑا ہونے کی وجہ سے اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ وہ سارے راستے میں اور آس پاس، یہاں تک کہ جھگیوں کے دروازے تک پھیلا ہوا ہے۔ صرف کوڑا ہی نہیں، بلکہ مرے ہوئے کتے، بلی، چوہے،غرضیکہ وہ سب کچھ جو شہر سے کوڑے کے ساتھ آتا ہے اسی جگہ ڈالا جاتا ہے۔ اس وقت جب کہ گرمی اپنے شباب پر ہے کوڑے کے ڈھیروں میں سے اٹھتی ہوئی بدبو نہ صرف آنے جانے والوں کو پریشان کرتی ہے، بلکہ جھگیوں میں رہنے والوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ان جھگیوں میں رہنے والے زیادہ تر نہایت درجہ کے غریب لوگ ہیں، جو باہر سے آکر کسی طرح اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔ ان کی روزی روٹی کمانے کے ذرائع رکشہ چلانا، بیل داری کرنا، گھر گھر جاکر لوگوں کے دروازوں سے کوڑا اٹھا کر لے جانا ہے۔ تو کچھ دہاڑی پر مزدوری کرتے ہیں جو ہر دن دستیاب نہیں ہوتی، انہیں جھگیوں میں رہنے والی ایک خاتون شبانہ نے بتا یا کہ وہ لوگ بہار کے بیگو سرائے سے دہلی کمانے کے لئے آئے تھے۔ سوچا تھا کہ یہاں پر آکر بچے بھی پڑھ لکھ جائیں گے اور زندگی کے دن کچھ سکون میں بھی کٹ جائیں گے، لیکن یہاں تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ کوئی کام نہیں ملتا کرنے کے لئے۔ شوہر کبھی کبھی بیلداری کے کام پر چلے جاتے ہیں، جب ملتا ہے۔ گھر کا خرچ کیسے چلتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں کہتی ہیں کہ پانچ بچے ہیں۔ ایک اسکول جاتا ہے، چار کوڑا اٹھاتے ہیں، اسی سے خرچ چل جاتا ہے۔

حکومت نے کیا سہولیات دی ہیں؟ جھونپڑ پٹی ہی کے ایک باشندہ محمد میاں کہتے ہیں کہ حکومت ہماری طرف کوئی دھیان نہیں دیتی ہے، یہاں تک کہ جو ضروریات زندگی ہیں جیسے پینے کا پانی، راشن، بجلی جیسی چیزیں بھی جلدی دستیاب نہیں ہوتیں۔ جن لوگوں کے پاس راشن کارڈ ہے، ان کو مہینہ میں ایک بار پانچ کلو راشن ملتا ہے، چاہے گھر میں کتنے بھی لوگ ہوں راشن پانچ ہی کلو ملے گا۔ زیادہ تر لوگوں کے ووٹرآئی ڈی، راشن کارڈ وغیرہ جھونپڑ پٹی میں آگ لگنے کی وجہ سے جل گئے تھے، اب کچھ نہیں ہے ہمارے پاس۔ پینے کے پانی کا ٹینکر پندرہ دن میں ایک بار آتا ہے۔ کبھی کبھی ہفتہ میں بھی آجاتا ہے، مگر اس میں بھی کئی بار چھپکلی نکلتی ہے۔ یہی سیور کا پانی پیتے ہیں۔ بچے بوڑھے سب اس وجہ سے بیمار بھی ہو رہے ہیں۔ میری بیوی کو یہاں ہر وقت اٹھنے والے دھنواں سے دمّہ کی بیماری ہوگئی۔ بچے آپ کو صحت مند نہیں ملیں گے۔ لوگ مر رہے ہیں لیکن حکومت یا کوئی این جی او تک دیکھنے نہیں آتا۔ کئی کئی دن ایم سی ڈی والے کوڑا نہیں اٹھاتے۔ جب بدبو برداشت سے باہر ہو جاتی ہے تو پھر کوڑے میں آگ لگانی پڑتی ہے۔ برابر میں جمنا ہے، دو بچے بھی ڈوب کر مر چکے ہیں۔ اس سے بھی کافی پریشانی ہوتی ہے، لیکن کیا کریں سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

آپ نے کبھی یہاں کے مقامی لیڈر سے اس کی شکایت کی؟ اصغر علی کہتے ہیں کہ الیکشن کے وقت تو امانت اللہ خان دن میں کئی کئی بار آتے تھے اور وعدے کئے تھے کہ الیکشن کے بعد سب کی جھونپڑیاں پکی بنوا دی جائیں گی اور سب کے راشن کارڈ بھی بنیں گے، مگر جیتنے کے بعد وہ ایک بار بھی ادھر نہیں آئے اور نہ ہی کسی کا راشن کارڈ یا کوئی اور سہولت ملی۔ اس سے پہلے آصف محمد خان تھے۔ انہوں نے بھی کوئی خاص دھیان نہیں دیا۔ سب الیکشن کے وقت آتے ہیں اور بڑی بڑی باتیں کر کے چلے جاتے ہیں، مگر الیکشن کے بعد کوئی نہیں آتا۔

Batla House

جان محمد کہتے ہیں کہ اس سے پہلے میں سرائے کالے خاں میں رہتا تھا۔ وہاں بھی میری جھگی ہی تھی، لیکن ایک نیتا جی نے مجھ سے کہا تھا کہ تم پانچ ہزار روپے دو، ہم تمہاری جھگی پکی کرادیں گے۔ میں نے پانچ ہزار روپے دے دئے، لیکن آج تک نہ میرے پیسے واپس ہوئے ہیں، نہ ہی جھگی بنی ہے۔ اب میں جب بھی ان سے کہتا ہوں تو ٹال مٹول کرتے ہیں۔ کیا کریں، غریب لوگوں کو تو یہ نیتا لوگ لوٹ رہے ہیں۔ ہماری کوئی نہیں سنتا۔ جو پیسے والے ہیں، ان کے سارے کام ہاتھوں ہاتھ ہوتے ہیں۔ جان محمد آسام سے آئے ہیں اور یہاں کچرے میں سے کاغذ، پولیتھین اور گتا الگ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں پتا کہ یہ سب کہاں جاتا ہے اور اس کا کیا ہوتا ہے۔ ہمیں تو بس دن بھر کام کرنے کے ۷۰ یا ۸۰ روپیے مل جاتے ہیں۔ ہاں اتنا معلوم ہے کہ اس کچرے کے کاروبار کا زیادہ تر ٹھیکہ بڑے بڑے امیر لوگوں کا ہوتا ہے، جو ہم جیسے غریب لوگوں سے کم مزدوری میں کام کراتے ہیں۔ میرے تین بچے ہیں: دو لڑکیاں اور ایک لڑکا۔ تینوں میرے ہی ساتھ کام کرتے ہیں۔ یہ پوچھنے پر کہ آپ بچوں کو پڑھاتے کیوں نہیں ہیں؟ اصغر علی مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ صاحب پڑھنا لکھنا تو امیر لوگوں کا کام ہے، ہم غریب لوگ اگر پڑھیں گے تو کھائیں گے کیا؟ حکومت ہماری طرف کوئی توجہ نہیں دیتی، کوئی بھی سرکاری اسکیم آتی ہے تو وہ صرف امیر لوگوں اور ان کے بچوں کے لئے ہی ہوتی ہے۔ ہمارا کیا ہے، آج ہم اپنا اور اپنے بچوں کا اس گندگی سے پیٹ پال رہے ہیں کل یہ بچے اپنے بچوں کا بھی ایسے ہی پیٹ پالیں گے۔

نیوز ان خبر کے ذریعہ آپ یہاں کے ایم ایل اے سے کچھ کہنا چاہیں گے؟

جان محمد کہتے ہیں کہ ویسے تو کوئی امید نہیں ہے، کیوں کہ الیکشن سے پہلے ان کے وعدے اور الیکشن کے بعد ان کی بے توجہی کافی دنوں سے دیکھ رہے ہیں۔ پھر بھی کہنا چاہوں گا کہ ہو سکے تو ہمیں اس گندگی سے باہر نکال لو۔ کم سے کم ہماری ضروریات زندگی ہی مہیا کرادو۔ مثلاً جن لوگوں کے پاس راشن کارڈ نہیں ہیں، ووٹر آئی ڈی، پینے کا صاف ستھرا پانی، راشن اور پوری مزدوری جو آج کے وقت میں ہونی چاہئے کرا دو۔ اگر اتنا بھی ہو جائے گا تو بہت شکر گزار ہوں گے ہم امانت اللہ خان کے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *