ہم روہت ویمولا کو انصاف دلاکر رہیں گے: کنھیا

Kanhaiya Kumar

حیدرآباد، ۲۳ مارچ (نامہ نگار): جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے صدر کنھیا کمار نے آج حیدرآباد یونیورسٹی کا دورہ کیا، جہاں گزشتہ دنوں دلت طلبہ روہت ویمولا نے چند شر پسندوں کی طرف سے تنگ کیے جانے کے سبب خودکشی کر لی تھی۔ کنھیا نے اس کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ کی جم کر تنقید کی اور کہا کہ کوئی بھی طاقت انھیں روہت ویمولا کو انصاف دلوانے سے نہیں روک سکتی۔

کنھیا کمار نے اس موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں یہاں جے این یو سے روہت ویمولا کے لیے آیا ہوں۔ میں بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کے شہید دیوس پر یہاں آیا ہوں۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ہم ان تینوں مجاہدین آزادی کو یاد کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں روہت ویمولا کے خوابوں کو پورا کرنا ہوگا۔ ہمیں ملک میں سماجی انصاف لانا ہوگا۔‘‘

کنھیا نے مزید کہا کہ ’’بڑے افسوس کی بات ہے کہ موجودہ حکومت ملک کے طلبہ کی آوازوں کو نہیں سن رہی ہے۔ آج، ایک طالب علم کو یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ میں انتظامیہ اور پولس کی مذمت کرتا ہوں۔ ہماری یہ لڑائی ملک کو بچانے کے لیے ہے، جمہوریت کو بچانے کے لیے ہے اور روہت ویمولا کو انصاف دلانے کی لڑائی ہے، ہم روہت ویمولا ایکٹ کو لانے کی پوری کوشش کریں گے۔‘‘

جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنھیا کمار نے روہت ویمولا کی ماں، رادھیکا ویمولا کا موازنہ بھی بھگت سنگھ سے کیا۔

قابل ذکر ہے کہ ۲۶ سالہ روہت ویمولا نے گزشتہ جنوری ماہ میں حیدرآباد یونیورسٹی میں خودکشی کر لی تھی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اسے بھارتیہ جنتا پارٹی کی طلبہ شاخ اے بی وی پی کے ایک لیڈر پر مبینہ طور پر حملہ کرنے کی پاداش میں پچھلے سال اگست میں یونیورسٹی ہوسٹل سے نکال دیا تھا، جس کی وجہ سے ویمولا کافی پریشان تھا۔

ویمولا کی خودکشی کے بعد کیمپس میں بڑھتے تناؤ کو دیکھتے ہوئے وائس چانسلر اَپّا راؤ لمبی چھٹی پر چلے گئے تھے، لیکن کل جیسے ہی وہ دوبارہ کیمپس میں واپس آئے، تو ان کے خلاف طلبہ نے جم کر ہنگامہ کیا۔ وائس چانسلر کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ و طالبات پر پولس نے جم کر لاٹھی ڈنڈے چلائے، جس کی وجہ سے بہت سے طلبہ و طالبات زخمی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *