ہندوستانی زراعت کو جدید بنانا چاہتے ہیں پی ایم مودی

PM Modi at PUSA

نئی دہلی، ۱۹ مارچ: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج دہلی کے پوسا انسٹی ٹیوٹ میں ’کرشی اُنّتی میلہ‘ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کاشت کاری کے طریقوں کو جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں زمین کی صحت سے متعلق کارڈ بنانے کی پہل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کسانوں کو کافی فائدہ پہنچے گا۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’ہندوستان میں تبدیلی گاؤں سے اور کسانوں سے ہوکر آئے گی۔ زرعی طور طریقوں کو جدید بنانے اور مزید ٹکنالوجی کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ میلہ اسی سمت میں اٹھایا گیا ایک قدم ہے۔‘‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کے مشرقی خطوں سے دوسرا سبز انقلاب شروع کرنے اور دیہی اقتصادیات کو درست کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مودی نے کہا کہ ’’پہلا سبز انقلاب ان جگہوں پر شروع ہوا، جہاں پانی کی فراہمی کافی تھی، لیکن دوسرا سبز انقلاب ٹکنالوجی اور جدیدکاری سے آئے گا۔ پہلا سبز انقلاب مغربی اور شمالی خطوں پر مشتمل تھا۔ اب، دوسرا سبز انقلاب مشرق سے آنا چاہیے۔ ہماری کوشش ہے کہ دوسرا سبز انقلاب مشرقی خطے سے شروع کیا جائے۔‘‘

Krishi Unnati Mela

وزیر اعظم نے کہا کہ لوگوں کی طاقتِ خرید کو بڑھانے کی ضرورت ہے، جو تبھی ممکن ہے جب دیہی اقتصادیات کو مضبوط کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اس سال کے بجٹ کی بڑے پیمانے پر تعریف ہوئی ہے، کیوں کہ یہ غریبوں، دیہی باشندوں اور کسانوں کا بجٹ ہے۔ ہم جس وقت آزادی کا ۷۵واں سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہوں گے، کیا ہم اُس وقت کسانوں کی آمدنی کو دو گنا کر سکتے ہیں؟ اگر ہم ساتھ مل کر کام کریں، تو ایسا کرنا ممکن ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے پانی کو بچانے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کسانوں کو مشورہ دیا کہ وہ آبپاشی کے لیے ڈرِپ سسٹم کا استعمال کریں، جس میں پانی کی کافی بحت ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *