ہندوستانی نوادرات چُرا کر بیرونِ ملک بیچے جا رہے ہیں: مہیش شرما

Mahesh Sharma

نئی دہلی، ۹ مارچ: ہندوستانی نوادرات کےچوری ہونے اور پھر انھیں ملک سے باہر بیچے جانے کا سننسی خیز انکشاف راجیہ سبھا میں وزیر ثقافت نے کیا ہے، جس سے خود حکومت کی لاپروائی کا پتہ چلتا ہے۔

ثقافت وسیاحت کے محکمے کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور شہری ہوابازی کے محکمے کے وزیر مملکت ڈاکٹر مہیش شرما نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ سال ۲۰۰۰ تک مرکز کے زیر حفاظت یادگاروں سے ۱۰۱ نوادرات چوری کئے جاچکے تھے۔ اس سلسلے میں سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن (سی بی آئی ) نے سال ۲۰۰۰ سے ۲۰۱۶ تک ہندوستانی نوادرات کی چوری اوربیرون ملک ان کی فروخت کا ایک مقدمہ دائر کیا ہے۔ مزیر برآں تمل ناڈو پولس کے آئڈل ونگ کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق ریاست کے اُن مندروں سے ۴۸ نوادرات چوری ہوچکے ہیں جو محکمہ آثار قدیمہ یعنی آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا کے زیر حفاظت نہیں ہیں۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق چوری کیے گئے نوادرات میں سے سات نوادر بیرون ملک دیکھے گئے ہیں۔

کونسلیٹ جنرل آف انڈیا، نیویارک کی فراہم کردہ اطلاع کے مطابق امریکہ کے امیگریشن اینڈ کسٹمز نامی ادارے نے فنون لطیفہ کے ۷۱۲ شاہکار ضبط کئے ہیں جن میں ہندوستانی نوادرات بھی شامل ہیں۔

جب بھی کسی دوسرے ملک میں ہندوستان سے چوری کی گئی نادر اشیأ دیکھی جاتی ہیں تو بیرون ملک واقع اپنے سرکاری مشن کے وسیلے سے انہیں واپس حاصل کرنے کی کوششیں شروع کردی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں کونسلیٹ جنرل آف انڈیا، نیویارک امریکہ کے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفارمیشن نامی محکمے سے پہلے ہی رجوع کرچکا ہے۔

واضح ہوکہ سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن کا اکنامک آفینسیز یونٹ VI نوادرات کی چوری کی جانچ کے کام انجام دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تمل ناڈو کی ریاستی سرکارنے بھی اس مقصد کے لئے آئیڈل ونگ – سی آئی ڈی کے نام سے ایک محکمہ قائم کررکھا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی وزارت ثقافت نے تعمیر شدہ وراثتوں اور نوادرات کی دستاویز سازی کے لئے نیشنل مشن آن مانومینٹس اینڈ اینٹی کوئٹیز کے نام سے ایک محکمہ قائم کررکھا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *