ہندوستان کی تفہیم کے لیے پریم چند کا مطالعہ ضروری: پروفیسر کریم

قومی اردوکونسل کے صدر دفترمیں پریم چند کے یوم پیدائش پر ایک مذاکرہ 
نئی دہلی: کسی بھی عظیم فنکار کو کسی خاص عہد یا زبان کے حصار میں نہیں رکھا جا سکتا ہے بلکہ ہر زمانے میں اس کی مقبولیت رہتی ہے اور مختلف زبانوں میں اس کے خیالات و نظریات پر خامہ فرسائی ہوتی رہتی ہے۔ منشی پریم چند کی بھی حیثیت کچھ ایسی ہی ہے کہ وہ ہر زمانے میں مقبول ہیں اور مختلف ترقی یافتہ زبانوں میں ان پر درس و تدریس کا کام بھی چل رہا ہے۔ اس حوالے سے اگر جائزہ لیا جائے تو پریم چند کی معنویت جتنی ان کے عہد میں تھی آج بھی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہے۔ یہ باتیں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کونسل کے صدر دفتر میں پریم چند کے 138ویں یوم پیدائش کے موقع پر منعقدہ مذاکرے میں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ پریم چند کی تخلیقات کا مطالعہ کیے بغیر ہندوستان کی تفہیم مشکل ہے۔ انہوں نے اس موقع پر پروفیسر عتیق اللہ کو حکومت مدھیہ پردیش کی جانب سے اقبال سمان سے نوازے جانے پر مبارک باد پیش کی اور کہا کہ پروفیسر عتیق اللہ اپنی علمی و ادبی خدمات کے باعث اس سے بھی بڑے اعزاز کے مستحق ہیں۔ مذاکرے کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر گنگا پرساد ومل نے کہا کہ پریم چند ایک عظیم فنکار ہیں ۔ آج بھی پریم چند کے کچھ ایسے گوشے باقی ہیں جن پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پریم چند کی 300کہانیوں کا انگریزی میں ترجمہ کرنے والے پروفیسر اسد الدین نے کہا کہ ترجمہ کا کام انتہائی پر خطر ہے لہذا ترجمہ نگار کو ہمیشہ انکساری اور عاجزی سے کام لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پریم چند کا یہ کمال ہے کہ اپنے معاشرے میں رہتے ہوئے دوسری قوموں کے مسائل اور پریشانیوں کو غیر جانبداری اور ایمانداری سے پیش کیا ہے۔انہوں نے کبھی بھی ان مسائل کو عصبیت کے آئینے سے دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ پروفیسر اسدالدین کے ذریعے پریم چند کی کہانیوں کے ترجمے کو پینگوئین بکس نے شائع کیا ہے۔ اس مذاکرے میں حصہ لیتے ہوئے پروفیسر عبد ل بسم اللہ نے کہا کہ کسی ادیب کا زمانے کے مطابق ہونا ٹھیک بھی ہے اور ٹھیک نہیں بھی ہے۔ پریم چند نے جن مسائل کو اپنی کہانیوں میں جگہ دی وہ مسائل آج بھی تازہ ہیں، بلکہ کچھ ایسے مسائل ہیں جو اس عہد سے زیادہ شدت اختیار کر گئے ہیں۔ یہی باتیں پریم چند کی عصری معنویت کو تقویت بخشتی ہیں۔ اس موقع پرپروفیسر عتیق اللہ نے کہا کہ پریم چند کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے عہد کے تمام امکانات کو اپنی تخلیقات میں شامل کر لیا ہے اور یہ کام ایک عظیم فنکار ہی کر سکتا ہے۔اس کے علاوہ پروفیسر اسلم جمشید پوری اور سندھی کونسل کے ڈائرکٹر روی ٹیک چندانی نے بھی اظہار خیال کیا۔
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *