ہندوپاک دشمنی میں کشمیریوں کا کوئی رول نہیں: محبوبہ

Mehbooba Mufti

سرینگر، ۹ مئی (ایجنسی): اتوار کے روز سول سکریٹریٹ سرینگر کے بالمقابل واقع ’کشمیر ہاٹ‘ جسے عرف عام میں نمائش گاہ بھی کہا جاتا ہے، میں کھادی نمائش کا افتتاح کرنے کے موقع پر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیری عوام ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ٹکراﺅ، منافرت، سفارتی و سرحدی کشیدگی کے نتیجے میں گزشتہ ۶۵ برسوں سے زبردست مشکلات اور مصائب کا سامنا کرتے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دشمنی یا ٹکراﺅ میں کشمیریوں کا کوئی رول نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان دہائیوں سے جاری منافرت کی سزا کشمیری ہی بھگت رہے ہیں۔

ریاست جموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے انڈین یونین کے ساتھ جموں وکشمیر کے الحاق کو حتمی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنے والد مرحوم مفتی محمد سعید کی طرح اسی نظریہ پر کاربند رہیں گی۔ محبوبہ مفتی نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کے فیصلے کو دانشمندی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کا مستقبل ہندوستان کے ساتھ محفوظ ہے۔ پاکستان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہاں لوگوں کو پھانسی دینا یا قتل کرنا عام سی بات ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تقسیم ہند کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان ٹکراﺅ کی سزا جموں وکشمیر کے عوام کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے میڈیا سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ دنیا کے سامنے جموں و کشمیر کی بہتر تصویر لائیں۔ پاکستان کی صورتحال کے بارے میں حالیہ دنوں کیے گئے اپنے اظہار خیال کا دفاع کرتے ہوئے محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ ’’کوئی پاکستان کی صورتحال کے بارے میں بات کرنے کی جرأت نہیں کرتا ہے، لیکن میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ وہاں لوگوں کو پھانسی پر لٹکانا یا قتل کرنا عام سی بات ہے۔‘‘ پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی مثال پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ موصوف کو تختہ دار پر لٹکایا گیا لیکن کسی نے بات تک نہ کی۔ لیکن ہندوستان میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ جب یہاں ایک کشمیری (افضل گورو) کو پھانسی پر لٹکایا گیا تو سماج کے مختلف طبقوں و حلقوں سے وابستہ لوگوں نے اس اقدام کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور مظاہرے بھی کئے۔

انہوں نے کہا کہ افضل گورو کو بھلے ہی کسی بھی وجہ سے پھانسی پر کیوں نہ لٹکایا گیا ہو لیکن ہندوستان میں اساتذہ، وکیل، سماجی کارکن اور دیگر لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے اس پھانسی کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا۔ محبوبہ مفتی نے اپنے والد کے نقش قدم پر کاربند رہنے کا عہد کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم مفتی محمد سعید اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ریاست کا انڈین یونین کے ساتھ الحاق حتمی ہے اور میں اپنے والد کے اس نظریہ کا احترام کرتی ہوں اور میں بھی مانتی ہوں کہ ہندوستان کے ساتھ جموں و کشمیر کا الحاق حتمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے میرے نظریہ میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *