ہوائی سفر کے دوران کنھیا کمار کی گلا دبانے کی کوشش

Kanhaiya Kumar

ممبئی، ۲۴ اپریل (ایجنسیاں): جواہر لعل نہرو طلبہ یونین کے صدر کنھیا کمار پر ایک بار پھر حملہ ہوا ہے۔ کنھیا پر یہ حملہ اس وقت ہوا، جب وہ جیٹ ایئرویز کی فلائٹ سے ممبئی سے پُنے جا رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق، ہوائی جہاز میں ان کی بغل کی سیٹ پر بیٹھے ایک مسافر نے اچانک ان کا گلا دبانے کی کوشش کی، لیکن ہنگامہ ہوتے دیکھ سیکورٹی اہل کاروں نے حملہ آور کو فوراً دبوچ لیا۔ خبر یہ بھی آ رہی ہے کہ جیٹ ایئرویز نے حملہ آور سمیت کنھیا کمار کو بھی ہوائی جہاز سے نیچے اُتار دیا۔

فی الحال حملہ آور کو ممبئی پولس کے حوالے کر دیا گیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ حملہ آور کا نام مانس جیوتی ڈیکا بتایا جار ہا ہے۔ اس حملے کی خبر سب سے پہلے خود کنھیا نے ٹوئیٹ کرکے دی۔ کنھیا کا الزام ہے کہ جیٹ ایئرویز کی فلائٹ میں ان کے اوپر حملہ کیا گیا، جس کے بعد ایئرلائنس کے اہل کاروں نے حملہ آور کے خلاف کسی طرح کی کارروائی نہیں کی۔

جے این یو طلبہ یونین کے صدر نے ایئرلائنس پر نشانہ لگاتے ہوئے اپنے ٹوئیٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’’ایئرلائن حملہ کرنے والے اور جس پر حملہ ہوا ہے، دونوں کے درمیان کے فرق کو بھی نہیں سمجھ سکتی۔ اگر آپ شکایت کریں، تو آپ کو جہاز سے اتر جانے کے لیے کہا جائے گا۔‘‘

حملہ آور کے بارے میں کنھیا نے اپنے ٹوئیٹ میں لکھا کہ ان پر حملہ کرنے والے شخص کا نام مانس جیوتی ڈیکا ہے، جو سوفٹ ویئر کمپنی ٹی سی ایس (ٹاٹا کنسلٹینسی سروِس) میں کام کرتے ہیں اور بی جے پی کے حامی ہیں۔

اس معاملے میں جیٹ ایئرویز نے صفائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیکورٹی کے مد نظر ممبئی سے پُنے جانے والی فلائٹ میں سے کچھ مسافروں کو اتار دیا گیا ہے۔ ایئرلائن نے یہ بھی کہا ہے کہ ’جیٹ ایئرویز کے لیے اس کے مہمانوں اور کریو کی حفاظت ترجیحی ہے‘۔ دوسری جانب سی پی آئی کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے کنھیا کمار پر پہلے بھی حملہ ہو چکا ہے۔ حیدرآباد میں وہ جب یونیورسٹی سے لوٹ رہے تھے، تب بھی دو موٹر سائیکل سواروں نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ جب سے جے این یو میں ملک مخالف نعرے بازی کی بات سامنے آئی ہے، تب سے کنھیا پر کبھی جوتا پھینکا گیا، دہلی کے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں وکیلوں کے ذریعہ پٹائی کی گئی اور اب ہوائی سفر کے دوران ان کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *