یوپی ایس سی امتحانات میں مسلمانوں کا گھٹتا فیصد

غور کیجئے، کہیں قصور اپنا تو نہیں!

حکیم نازش احتشام اعظمی
حکیم نازش احتشام اعظمی

آزاد ہندوستان میں جب ہم اپنی معاشی تعلیمی صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں تو جہاں حکومت کی عدم تو جہی اوراقلیتوں کے ساتھ متعصبانہ ذہنیت کا پتہ چلتا ہے، وہیں ہماری اپنی کمیاں بھی ہم مسلمانوں کی ترقی کیلئے ذمہ دار نظرآ تی ہیں۔ گزشتہ ۱۰ مئی کو یو پی ایس سی کے نتائج سامنے آ ئے ہیں۔ اس کی تفصیل کا سرسری مطالعہ ہمیں اپنی عدم دل چسپی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اب اسے قبول کیا جائے یا نہیں، مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مذکورہ نتائج میں جہاں کل ۱۰۵۸ کامیاب ہونے والوں میں سے مسلم امیدواروں کی تعداد محض ۳۷ ہے، یعنی کل امیدواروں کا صرف 3.7 فیصد۔ جب ہم اس اہم مقابلہ جاتی امتحان شامل ہونے والے مسلم امیدواروں کی تعداد پر غور کریں تو اور بھی زیادہ چونکا دینے والے حقائق ہمارے سامنے آ تے ہیں۔ گزشتہ دس برسوں میں یو پی ایس سی میں شامل ہونے والوں میں مسلم امیدواروں کا فیصد ۳ سے ۵ فیصد کے درمیان ہی رہا ہے۔ حالانکہ سچر کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات کو آ ئے ہوئے بھی لگ بھگ ۱۲ برس ہونے کو آ رہے ہیں۔ اس طویل مدت میں ہمارے قائدین نے اس موضوع پر تعمیری کام تقاضوں کے مطابق نہیں کیا ہے، البتہ اس موضوع پر سیاسی روٹی سینکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ گزشتہ ماہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر نے یہ تجویز منظور کی تھی کہ ۱۴۰۰ نئے آئی پی ایس افسروں کی بھرتی کے لئے یوپی ایس سی محدود سطح پر محکمہ جاتی امتحان منعقد کرے گا، جس میں ڈی ایس پی اور دفاعی افواج کے میجر/کیپٹن درجہ کے افسران ہی حصہ لے سکیں گے۔ اس تجویز پر ہمارے کئی ملی قائدین نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح بھرتی کے نتیجہ میں آئی پی ایس کے زمرہ میں مسلمانوں کی نمائندگی اگلی تین چار دہائیوں کے لئے اور بھی کم ہوجائے گی، کیونکہ مسلح افواج میں مسلمانوں کا تناسب آئی پی ایس سے بھی کم ہے اور ڈی ایس پی کے عہدے پر بھی مسلمان برائے نام ہیں۔ پی ایم او کی اس تجویز پر ہمارا شکال بجاطور پر درست ہے۔ ہمیں قبول کرنا پڑے گا کہ یقینا اس طریقے سے مسلمانوں کا فیصد گھٹنے کا اندیشہ باقی ہے۔ مگر مقابلہ جاتی امتحانوں میں شمیولیت کے لئے کسی بھی مذہب و قوم کیلئے کوئی بندش نہیں ہے۔ کیا ہماری ذمہ داری اتنی بھی بنتی تھی کہ مسلم امیدواروں کو ان مقابلہ جاتی امتحانات میں بیٹھنے کیلئے تیاری کرانے کے انتظامات کو وسعت دی جاتی۔ آپ ملک کی دیگر اقلیتوں کی تنظیموں کی جانب سے اپنی قوم کیلئے کی جانے والی تعلیمی کوششوں کا جائزہ لیجئے۔ آپ یہ جان کر حیرت زدہ رہ جائیں گے۔ وہی کام اپنی قوم کے بچوں کو آگے لانے اور ان کے مستقبل کوسنوارنے کیلئے دیگر قومیں فراخ دلی کے ساتھ ایمانداری سے انجام دے رہی ہیں۔ مگر ہمارے اقدامات میں ذاتی منفعت کا پہلو اورتجارتی مقصد ہمیشہ نمایاں رہتا ہے۔

ہمیں کسی کی نیت پر شک کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ مگر گزشتہ ماہ ہی مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نجمہ ہیپت اللہ نے میڈیا کے سا منے یہ بات کہی تھی کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کے اعدادو شمار کے بارے میں تفصیل طلب کی ہے۔ وزیر اقلیتی امور کا کہنا ہے کہ انڈیا میں مسلمانوں کی پسماندگی کے لیے بی جے پی نہیں، بلکہ سابقہ حکومتیں ذمہ دار ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ کہ بی جے پی میں شمولیت سے قبل محترمہ خود بھی کانگریس پارٹی کی قدآور لیڈر رہی ہیں۔ اگر مسلمانوں کی معاشی پسپائی کیلئے سابقہ حکومتیں ہی ذمہ دار ہیں تو آپ کو بھی بتانا چاہئے کہ آپ جب کانگریس کاحصہ ہوا کرتی تھیں اس زمانے جس ملت کی بدحالی کا آج آپ ماتم کر رہی ہیں اس کیلئے آپ نے کیا کارہائے نمایاں انجام دیے تھے، یہ بتانا بھی محترمہ نجمہ کا فرض ہے۔

محترمہ نے کہاکہ ’نریندر مودی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر سرکاری ملازمتوں اور سروسز (فوج) میں مسلمانوں سمیت اقلیتی برادریوں کے کتنے لوگ کام کر رہے ہیں۔‘ حالانکہ مودی کے معنی خیزی استفہام کو سمجھنے والے دانشوران یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ سرکاری خاص طور پر سول سروسز اور فوج میں مسلمانوں کے اعدادو شمار کا مودی کے ذریعہ پوچھانا منفی پالیسی کا حصہ بھی ہوسکتا ہے۔ نجمہ ہیپتت اللہ کے مطابق ’مودی یہ جاننا چاہتے ہیں مسلمانوں کی کم نمائندگی کی آخر وجہ کیا رہی ہے؟ کئی دہائیوں تک کانگریس پارٹی سے وابستہ رہنے والی رہنما اور اب بی جے پی کی سنیئر وزیر کا خیال ہے کہ انڈیا کے اقلیتی فرقوں پر جتنی توجہ دی جانی چاہیے تھی اس سے کہیں کم دی گئی ہے۔ مگر این ڈی اے سرکار کے حالیہ ڈھائی برسوں میں مسلمانوں کی زبوں حالی دور کرنے کیلئے کیا کیا جا رہا ہے، یہ بات بھی سامنے آنی چاہئے۔

انھوں نے کہاکہ ’میرے پاس وزارت حج بھی ہے اور میری مشکل کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ میں گذشتہ کئی دنوں سے ایک جوائنٹ سیکریٹری جیسے سنیئر افسر کی تلاش میں ہوں، کیونکہ حج کا معاملہ ہے جس کے لیے وہاں آنا جانا بھی ہوگا اور اس لیے مجھے ایک مسلمان افسر چاہیے جو کہ مجھے تلاش کرنے پر بھی نہیں مل پا رہا ہے۔‘ مجھے نہیں لگتا کہ محترمہ نجمہ ہیپت اللہ کا یہ بیان سیاسی مصلحت پسندی سے زیادہ اپنے اندر کوئی سچائی رکھتا ہے۔ البتہ انہیں کسی ایسے مسلم افسر کی تلاش یقیناً ہوسکتی ہے جو ذہن وفکر کے اعتبار سے زعفرانی نظریات کا پکا حامی ہو، ایسی سوچ کے حامل مسلم افسران کی کمی ان کے پاس ضرور ہوگی۔

۲۰۰۶ میں پیش کی جانے والی سچررپورٹ کے مطابق بیوروکریسی میں مسلمانوں کا فیصد صرف 2.5 تھا جبکہ اس وقت ہندوستان کی آبادی میں ان کا حصہ ۱۴ فیصد سے بھی زیادہ تھا۔ اس رپورٹ کے آٹھ سال بعد جے این یو کے پروفیسر امیتابھ کنڈو کی قیادت میں ایک دوسری کمیٹی کا قیام ہوا تھا جس نے اکتوبر ۲۰۱۴ میں اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔ ملک میں اقلیتی برادری کے حالات کا تجزیہ پیش کرنے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے بعد اقلیتوں پر سرکاری توجہ میں اضافہ ہوا ہے لیکن ابھی بھی وہ ناکافی ہے۔ اب اس ناکافی کی تلافی کرنے کیلئے بی جے پی میں شامل ہمارے سیاسی نمائندے کیا کررہے ہیں اس کا بہتر جواب وہی دے سکتے ہیں۔ البتہ مختلف مواقع پر غیر سماجی عناصر کی جانب سے اقلیتوں پر روا رکھی جانے والی شرانگیز حرکتوں اور اسکولوں میں مسلم بچوں کے داخلوں میں پیدا کی جانے والی مشکلات پر ان کی گنگ زبانی کئی قسم کے شبہات کو تقویت دیتی نظرآ رہی ہے۔ یہ ناقابل تردید سچائی ہے کہ اعلیٰ عہدوں تک رسائی کیلئے ابتدائی تعلیم میں مسلمانوں کی بہتر نمائندگی سب سے زیادہ ضروری ہے۔ مگر اسی مرحلے میں غریب ونادار اور متوسط طبقہ کے اقلیتی بچوں کیلئے اسکول میں داخلوں کے مسائل حل کرنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ مگر اس مسئلہ کوحل کرنے کی جب بھی بات کی جاتی ہے یا اس موضوع پر ہمارے سیاسی نمائندوں سے تعاون کی گہار لگائی جاتی ہے تو وہ اپنے دروازوں پر مسلح دربان بٹھا دیتے ہیں، تاکہ عام مسلمان اپنی مشکلات لے کران لیڈروں کے سامنے پہنچ ہی نہ سکیں۔ یہ صحیح ہے کہ اس معاملے میں صرف بی جے پی میں شامل مسلم نمائندے ہی قصور وار نہیں ہیں، بلکہ تمام سیاسی جماعتوں میں شامل مسلمان نام کے لیڈروں کی حالت یہی ہے۔ اقتدار ملتے ہی ان کے دروازوں پر دربان بٹھا دیے جاتے ہیں اور عام مسلمانوں کے درد کوسمجھنا ان کے دکھ کو ان کی زبانوں سے سننے کو وہ اپنی ہتک سمجھنے لگتے ہیں یا پھٹے چٹے اور گندے کپڑوں میں ملبوس بیچارے مسلمانوں کے وجود سے انہیں گھن آنے لگتی ہے۔ جب تک ہمارے ملی قائدین اور سیاسی رہنما خود کواس خول سے باہر نہیں نکلتے اس وقت تک یہ کہنا مشکل ہے کہ مسلمانوں کی مسیحائی ممکن ہوسکے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *