یہ کیسا سماج ہم بنا رہے ہیں

عبدالحمید نعمانی

ہندو، مسلم اور دوسرے مذہب و فر قے والے بھارت میں ایک ساتھ کتنے دنوں سے رہتے آ رہے ہیں، لیکن کیا ساتھ ساتھ رہنے کے باوجود ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کی ہے؟ خاص طور سے دو بڑے فرقے، مذہب والے ہندو مسلمانوں نے؟ ہندو رہنماؤں اور مصنفین کی تحریروں میں توریت، انجیل اور مغرب و یورپ کے حوالے سے مباحث ملتے ہیں، جبکہ مسلم رہنماؤں اور مصنفین کی تحریروں میں بھی عیسائی، یہودی اور یونانی منطق فلسفہ کے تناظر میں مقالے پیش کیے گئے ہیں، دونوں فرقے کے اہل علم و رائے نے ایک دوسرے کے سماج اور عقیدہ و عمل کو عموماً نظر انداز کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے، جس کی وجہ سے غلط فہمیاں پھیلتی رہیں اور اب تک باقی ہیں۔ ایسی حالت میں ظاہر ہے کہ ایک دوسرے کو سمجھنے کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی ہے، خصوصاً اکثریت، جو بذات خود ایک طا قت ہوتی ہے، میں ضرورت سے زیادہ انانیت اور بے نیازی کا بول بالا ہے۔  خاص طور سے اس کے ان مخصوص افراد اور طبقات میں جو اسلام اور مسلمانوں کے وجود کو برداشت کر نے کے لیے تیار نہیں ہیں، ان میں دونوں سے نفرت اور دوری بنی ہو ئی ہے۔ اس کا وہ مختلف طریقوں سے اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی وجہ سے ہماری برہمن وادی تہذیب اور طبقاتی وجود معرض خطر میں ہے۔ اگر اقلیت، اکثریت کے متعلق زیادہ نہ جانے تو زیادہ بڑا مسئلہ نہیں ہے کہ وہ سماج پر اثرانداز ہونے کی زیادہ طاقت نہیں رکھتی ہے لیکن اگر اکثریت، اقلیت کو نہ جانے اور کچھ غلط فہمیوں کی وجہ سے نفرت اور دوری بنا نے کے ساتھ غلط رد عمل کرے اور منفی رویہ اپنائے تو سماج پر مضر و منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں کہ وہ اس پر اثراند از ہوتی ہے، اور اس کا  رد عمل، فرقہ پرستی کی شکل اختیار کرکے ماحول کو مکدر و کشیدہ کر دیتا ہے۔

آج ہمیں ملک کے مختلف حصوں میں اسی صورت حال کا سامنا ہے۔ پہلے ماضی میں دیگر طرح کے حالات تھے۔ پرتھوی راج چوہان سے لے کر 1977ء تک اور اس درمیان میں کچھ مدت تک، اٹل بہاری واجپئی کی سرکار اور 2014 تک یہ فرقہ پرست طبقات اقتدار سے باہر تھے۔ اس حالت میں ان کے اقدامات کی راہ میں کہیں نہ کہیں اقتدار رکاوٹ بن جاتا تھا، گرچہ انتظامیہ اور پولیس میں بھی فرقہ پرست عناصر آجاتے ہیں تو اکثریت اور اقتدار دونوں کی وجہ سے صورت حال بالکل بدل جاتی ہے۔

قتل و فساد ات کے الزمات میں ملوث افراد کی قدر افزائی یا حمایت ایک مہذب سماج کے لیے شرمناک اور تشویش کی بات ہے، اور جب عوام کے نمائندے دھرم اور فرقے کے پیش نظر عمل کریں گے تو انصاف کی فراہمی کا معاملہ بہت سنگین ہو جاتا ہے۔ فر قہ پرستی اس وقت سے ہے جب سے ملک میں مختلف مذاہب کے ماننے والے رہنے بسنے لگے تھے، لیکن فرقہ وارانہ ہم آینگی اور باہمی تعلقات مضبوط ہونے کی وجہ سے فرقہ پرستی کو اپنا بال و پر نکالنے کا زیادہ موقع نہیں ملا۔ اسے نہ تو عوام کی حمایت ملی نہ اقتدار کی، لیکن گزشتہ کچھ دہائیوں سے فرقہ پرستی کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا۔ اس میں ووٹ بینک کی سیاست اور زبردستی اپنے طرز حیات اور روایت کو دوسروں پر لادنے کی غلط خواہش و ذہنیت کا بڑا دخل ہے۔ حالانکہ آئین نے ملک کے تمام شہریوں کو اپنے اپنے عقیدے کے مطابق عمل کرنے اور زندگی گزارنے کی آزادی دی ہے، لیکن اسے نظر انداز کرکے منووادی اپنی بالاتری اور مفادات کے تحفظ کے لیے سماج میں اونچ نیچ، نفرت اور دوسری کمیونیٹز کے متعلق غلط فہمیاں پھیلا کر لوگوں کو اپنے ساتھ لانے کی مذموم کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ جب مشترک آبادی ہوتی ہے تو ایک دوسرے کو جاننے اور مختلف امور پر تبادلہ خیال اور اپنے موقف کا اظہار غیرفطری نہیں ہے، تاہم  بے بنیاد باتوں سے سماج میں نفرت پھیلانے اور اس کے اتحاد کو ختم کرنے کی کوششوں کی آزادی و اجازت نہیں دی جاسکتی ہے کہ اس سے ملک کا امن عامہ خطرے میں پڑجاتا ہے۔ قرآن کی آیات جہاد کو ان کے پس منظر سے کاٹ کر یہ باور کرانا کہ قرآن تمام طرح کے مشرکوں کو کھلے عام قتل کی تعلیم و ہدایت دیتا ہے، سراسر شرارت ہے۔ حالت جنگ اور میدان جنگ کی باتوں کو عام انسانی سماج اور عام حالات پر منطبق کرنا بدنیتی اور جہالت کو ثابت و ظاہر کرتا ہے، نہ کہ اظہار حقیقت کو۔ گیتا اور ویدوں میں بھی اپنے دشمنوں اور جنگ میں مقابل افراد کو قتل و صفائے کی باتیں ملتی ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سب کو قتل کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ مسلمان کسی قیمت پر غیر مسلموں کے وجود کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ تما م مسجدوں میں پانچ بار مسلمانوں کے ذہن میں ڈالا جاتا ہے۔ لاکھوں مدرسوں میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے اور محمدﷺ ہی صرف رسول ہیں۔ اس کا مطلب یہ کہ ہم ہندؤوں کے وجود کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ اس طرح کی اور بھی بہت سی بے تکی اور لایعنی باتوں سے غیر مسلم آبادی کو مشتعل کرکے مسلمانوں کے خلاف آمادہ پیکار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ افسوسناک کے ساتھ شرمناک بھی ہے کہ اتنی طویل مدت تک ساتھ ساتھ رہنے کے باوجود اکثریت کی ایک بڑی تعداد کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ کلمہ طیبہ لاالہ الااللہ الخ اور نماز کا مطلب و مقصد کیا ہے؟ مسلمانوں کے عام عقیدہ و عمل کے برعکس من گھڑنت معنی و مطلب بتا کر سماج کو گمراہ کرنے کی سعی بہت ہی شرمناک ہے، اور وہ بھی مذہبی شکل و صورت میں آکر، بھگوا رنگ اور لباس، ہندوستانی سماج میں تقدس اور ایثار و قربانی کی علامت ہے۔ کم از کم اس کا پاس و لحاظ کرنا ہی چاہیے۔ نماز مسلم سماج میں ایک مذہبی فریضہ اور عبادت ہے۔ اس کا کسی فرقے سے نفرت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ کلمہ طیبہ میں صرف یہ اعلان و اقرار ہے کہ پرستش کے لائق صرف اللہ کی ذات ہے، اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ ایسا بالکل نہیں ہے کہ مسلمان صرف حضرت محمدﷺ ہی کو رسول مانتے ہیں، ان کے لیے رسول پاک ﷺ کے علاوہ دیگر ایک لاکھ  سے زائد نبیوں، رسولوں اور کتابوں پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ مسلمان قرآن کی روسے یہ بھی مانتے ہیں کہ ہر قوم میں اللہ رب العزت کی طرف سے رہنما و ہادی ہوئے ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مسلمان آنحضرت ﷺ کوآخری نبی و رسول مانتے ہیں اور یہ ان کے ایمان کا ضروری حصہ ہے۔ صرف اللہ کو  قابل پرستش اور حضرت محمد ﷺ کو رسول ماننے سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ غیر مسلموں کے وجود کو ختم کردو۔ اسلام تو ایک دعوتی و تبلیغی دین ہے۔ اگر غیر مسلموں کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جائے گا تو دعوت و تبلیغ کا کوئی مطلب و معنی نہیں رہ جاتا ہے۔ اس سلسلے میں کسی طرح کی زور زبردستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جس طرح کا غلط پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اس کے مد نظر مشترک آبادی کے مختلف فرقوں کے افراد خصوصاً رہنماؤں و پیشواؤں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کو جانیں اور بتائیں، غلط فہمیوں، نفرت اور بے خبری کے ساتھ زندگی گزارنا کسی بھی مہذب سماج کے لیے زیبا نہیں ہے۔ ہم ایک انسانی سماج میں رہتے ہیں، نہ کہ دور وحشت کے جنگل میں۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *