بجٹ 17۔2016 پارلیمنٹ میں پیش، زراعت اور کسانوں کی بہبود پر توجہ مرکوز

کل اخراجات 19.78 لاکھ کروڑ روپےکا تخمینہ

بجٹ پیش کرنے سے قبل وزیر خزانہ ارون جیٹلی
بجٹ پیش کرنے سے قبل وزیر خزانہ ارون جیٹلی

نئی دہلی، 29فروری:مرکزی وزیر خزانہ جناب ارون جیٹلی نے آج عام بجٹ 17۔2016 لوک سبھا میں پیش کیا۔ بہت سی نئی اسکیموں کے اعلان اور مختلف شعبوں کے لئے مختص رقم میں اضافے کے ساتھ جناب جیٹلی نے واضح کیا کہ حکومت مالی خسارے کو کم کرنے کے تئیں عہد بند ہے اور ترقی کے ایجنڈے پر کوئی سمجھوتہ کئے بغیر اسے لاگو کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 17۔2016 میں مالی خسارے کا ہدف 3.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ آئی ایم ایف نے بھارت کو عالمی معیشت کی سست روی کے درمیان ایک تابناک مقام قرار دیا ہے، وزیرخزانہ نے کہا کہ مجموعی گھریلو پیداوار(جی ڈی پی)کی شرح نمو 7.6 فیصد ہوگئی ہے جو پچھلی حکومت کے آخری تین برسوں میں 6.3 فیصد تھی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی سال 16۔2015 اور 17۔2016حکومت کے اخراجات کے لئے انتہائی چیلنج بھرے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مالی سال میں ساتویں مرکزی تنخواہ کمیشن کی سفارشات اور دفاع کے او آر او پی کی وجہ سے مزید بوجھ بڑھے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کمزور طبقے کی مدد کے لئے تین بڑی اسکیمیں شروع کرے گی جن میں پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا پہلے ہی شروع کی جاچکی ہے۔ جناب جیٹلی نے اعلان کیا کہ صحت بیمہ اسکیم کے ذریعہ بھارت کی آبادی کو اسپتال کے اخراجات سے تحفظ حاصل ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت بی پی ایل کنبوں کو ایل پی جی کے کنکشن فراہم کرنے کے لئے ایک نئی اسکیم شروع کررہی ہے۔
جناب جیٹلی نے کہا کہ حکومت قانون تیار کرنے جیسے اہم صلاحی اقدامات کرے گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ حکومت کے تمام فوائد مستحق لوگوں کو ہی پہنچے۔ حکومت آدھار پلیٹ فارم کو قانونی حمایت دے رہی ہے۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ اگلے سال کا ایجنڈا اس سلسلے میں بھارت میں یکسر تبدیل ہوگا۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ بجٹ تجاویز تبدیلی کے اس ایجنڈے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہیں جن میں نو اہم ستون ہیں۔ ان میں زراعت اور کسانوں کی بہود، دیہی سیکٹر، حفظان صحت سمیت سماجی سیکٹر، تعلیم، تربیت اور روزگار کی فراہمی، بنیادی ڈھانچہ اور سرمایہ کاری، مالی سیکٹر کی اصلاحات، حکمرانی اور بزنس کرنے میں آسانی، مالی ڈسپلن اور ٹیکس اصلاحات شامل ہیں۔
جناب جیٹلی نے اعلان کیا کہ حکومت 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کی خاطر کھیتی اور غیر کھیتی کے شعبوں میں اپنے اقدامات پر نظر ثانی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ زراعت اور کسانوں کی بہبود کے لئے کل 35984 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔
وزیرخزانہ نے نبارڈ میں 20000کروڑ روپے کے ابتدائی فنڈ سے طویل مدتی آبپاشی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا۔ اس مقصد کے لئے 12517 کروڑ روپے بجٹ امداد کے ذریعہ اور باقی مارکیٹ سے قرض کے ذریعہ حاصل کئے جائیں گے۔

جناب جیٹلی نے کہا کہ مٹی کی زرخیزی سے متعلق کار ڈ اسیکم مارچ 2017 تک تمام 14 کروڑ کھیتوں کا احاطہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کیمیاوی کھاد کی کمپنیوں کی 20 ہزار ماڈل دکانیں آئندہ تین برسوں کے دوران کھولی جائیں گی جن میں مٹی اور بیج کا ٹسٹ کرنے کی سہولیات دستیاب ہوں گی۔ وزیرخزانہ نے اعلان کیا کہ پرداھان گرام سڑک یوجنا کے تحت مختص رقم بڑھا کر19 ہزار کروڑ روپے کردی گئی ہے اور اس کے تحت 2019 تک 65 ہزار اہل بستیوں کو جوڑنے میں کام آئے گی۔
دیہی سیکٹر کے بارے میں جناب جیٹلی نے اعلان کیا کہ گرام پنچایتو ں اور میونسپلٹیوں کے لئے امداد گرانٹ کے طور پر 2.87 لاکھ کروڑ روپے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت یکم مئی 2018 تک سو فیصد گاؤوں میں بجلی لگانے کے لئے عہد بستہ ہے۔ سووچھ بھارت مشن کے بارے میں جناب جیٹلی نے کہا کہ اس کے لئے 9000 کروڑ روپے فراہم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دیہی بھارت میں مزید چھ کروڑ کنبوں کو تین سال کے اندر احاطہ کرنے کے لئے ایک نئی ڈیجیٹل خواندگی مشن شروع کیا گیا ہے۔
وزیرخزانہ نے اعلان کیا کہ غریب کنبوں کی خاتون ممبروں کے نام پر ایل پی جی کنکشن فراہم کرنے کے لئے ایک بڑا مشن شروع کیا گیا ہے جس کے لئے 2000 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے 17۔2016 میں خط افلاس سے نیچے رہنے والے 1.50 کروڑ کنبوں کو فائدہ ہوگا۔
جناب جیٹلی نے اعلان کیا کہ اقتصادی طور پر کمزور کنبوں کے لئے ایک نئی صحت تحفظ اسکیم کے تحت ہرکنبے کو ایک لاکھ روپے فی کنبے کا بیمہ فراہم کیا جائے گا۔

تعلیم کے شعبے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ سرو شکشا ابھیان کے تحت مختص رقم میں اضافہ کیا جائے گا۔ 62 نئی نوودیہ ودیالیہ کھولے جائیں گے۔اس کے علاوہ عالمی سطح کی تدریس اور تحقیق کے لئے دس سرکاری اور دس پرائیویٹ اداروں کو امداد فراہم کی جائے گی۔
جناب جیٹلی نے کہا کہ منظم سیکٹر میں نئے روزگار پیدا کرنے میں مراعات دینے کی خاطر حکومت ای پی ایف او میں شامل ہونے والے تمام نئے ملازمین کے لئے ان کی ملازمت کے پہلے تین سال تک 8.33 فیصد ایمپلائیز پیشن اسکیم میں تعاون کرے گا۔

وزیر خزانہ نے بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری پر خصوصی زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑک تعمیر کے عمل میں تیزی لائی گئی ہے۔ سڑکوں اور شاہراہوں کے لئے بجٹ میں 55000 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ این ایچ اے آئی کے بانڈ کے ذریعہ مزید 15000 کروڑ روپے حاصل کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 17۔2016 کے دوران پی ایم جی ایس وائی سمیت سڑک کے شعبے میں 97000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوگی۔
بندرگاہ کے سیکٹر میں وزیر موصوف نے کہا کہ ساگر مالا پروجیکٹ پہلے ہی شروع کیا جاچکا ہے اور حکومت نئے گرین فیلڈ بندرگاہیں تیار کرنے کا منصوبہ بنارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کے اس مقصد کے لئے 800 کروڑ روپے فراہم کئے گئے ہیں۔ شہری ہوابازی کے سیکٹر میں استعمال نہ ہونےوالے اور بہت کم استعمال ہونے والے ہوائی اڈوں کی تجدید کا پروگرام مرتب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 160 ہوائی اڈے اور ہوائی پٹیاں ہیں جنہیں 50 سے 100 کروڑ کی لاگت سے بحال کیاسکتا ہے۔ بجلی کے شعبے میں انہوں نے کہا کہ حکومت نیوکلیائی بجلی کی پیداوار میں سرمایہ کاری کو بڑھاوا دینے کے لئے اگلے 15 سے 20 سال کے لئے ایک جامع منصوبہ تیار کررہی ہے۔

وزیر موصوف نے ایف ڈی آئی پالیسی، انشورنس اور پنشن ، اثاثوں کی تعمیر نو کی کمپنیوں اور اسٹاک ایکسچنج وغیرہ کے شعبے میں ایف ڈی آئی پالیسی میں اصلاحات کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ خوردنی اشیا اور بھارت میں پیدا ہونے والی دوسری اشیا کی ایف آئی پی بی کے ذریعہ مارکیٹنگ میں سو فیصد ایف ڈی آئی کی اجازت دی جائے گی۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ حکومت اچھی حکمرانی پر سب سے زیادہ زور دے رہی ہے۔ جناب جیٹلی نے کہا کہ مختلف وزارتوں میں انسانی وسائل کو معقول بنانے کے لئے ایک ٹاسک فورس تیار کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خودمختار اداروں کو معقول بنانے اور ان کا جامع جائزہ لینے کا کام بھی جاری ہے۔

جناب جیٹلی نے اعلان کیا کہ ایک بھارت شریشٹھ بھارت پروگرام جلد ہی شروع کیا جائے گا۔ ملک میں مالی صورتحال کے بارے میں وزیر موصوف نے کہا کہ مالی 16۔2015 میں مالی خسارہ 3.9 اور 17۔2016 میں 3.5 فیصد پر محدود کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہ اس سال کے بجٹ کی خصوصیت یہ ہے کہ ریونیو کے خسارے کا ہدف بہتر بنایا گیا ہے اور یہ جی ڈی پی کا 2.8 فیصد سے گھٹاکر 2.5 فیصد کیا گیا ہے۔
17۔2016 کے بجٹ کے لئے کل اخراجات کا تخمینہ 19.78 لاکھ کروڑ روپے ہے جس میں 5.50 لاکھ کروڑ روپے منصوبہ جاتی اخراجات کے لئے اور 14.28 لاکھ کروڑ غیر منصوبہ جاتی اخراجات کے لئے ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *