عالمی یوم بیت الخلااور ہندوستانی سماج

محمد انیس الرحمٰن خان
محمد انیس الرحمٰن خان

اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری مسٹر بانکی مون نے عالمی یوم بیت الخلا یعنی 19نومبر 2013کے موقع پر ایک جملہ کہاتھا کہ “ہمیں فوری طور پر چھواچھوت کی رسم کو ختم کردینا چاہئے” اکثر قارئین کے ذہن میں ایک سوال ضرور آتا ہے کہ پوراسال جب دیکھوتو کوئی نہ کوئی دن کسی نہ کسی دن کے ساتھ مخصوص کردیا جاتا ہے، مثال کے طور پر عالمی یوم ماد، عالمی یوم آب،عالمی یوم ارض،عالمی یوم خواتین وغیرہ۔ جواب بہت ہی آسان ہے کہ دورِ جدید میں دنیا انسانوں سے بھری پڑی ہے مگر انسانوں میں انسانیت کہیں گم ہوتی جارہی ہے،ہم انسانوں کے ذریعہ بنائی گئی مشینوں کے اتنے عادی ہوتے جارہے ہیں کہ ہمیں اپنے قرب وجوار کی بھی خبر نہیں ہوپاتی ہے، مثال کے طور پر اگر آپ کے گھر میں کوئی مہمان آتا ہے تو وہ بھی اور آپ بھی ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو کرنے کے بجائے اپنے اپنے سمارٹ فون میں کھو جاتے ہیں، حالانکہ اگر آپ اپنے بچپن کو یاد کریں تو معلوم ہوگا کہ کس شاندار طریقے سے مہمان نوازی ہوا کرتی تھی، آنے والا شخص بھی اپنی پریشانیوں اور کامیابیوں کو آپ کے سامنے رکھ کر خوش ہوجایا کرتا تھااور آپ بھی موقعہ کی نزاکت کے مطابق اس کا بھر پور جواب دیا کرتے تھے، مگر اب معاشرہ اتنا بدل گیا ہے کہ لوگ اپنی پریشانی یا خوشی اپنے والدین کو بتانے کے بجائے واٹس اپ اور فیس بک کا سہارا لیتے ہیں، میں ذاتی طور پر جدید تکنالوجی کے استعمال کا قائل ضرور ہوں مگر ضرورت کی حد تک جنون کی حدتک نہیں۔آپ نے بھی اکثر خبروں میں دیکھا اور پڑھا ہوگا کہ سیلفی لینے کے چکر میں جان سے ہی ہاتھ دھوبیٹھے۔ یا کان میں ہیڈ فون لگاکر گانا سننے میں ریلوے لائین یا سڑک پار کرتے ہوئے اتنے محو

 کیپشن:۔ کشمیر کے ایک گاؤں میں نہ قابل استعمال عوامی بیت الخلا کی چھت پر مقامی خواتین کپڑے دھوتی ہوئی۔
کیپشن:۔ کشمیر کے ایک گاؤں میں نہ قابل استعمال عوامی بیت الخلا کی چھت پر مقامی خواتین کپڑے دھوتی ہوئی۔

ہوگئے کہ کسی ٹرین یا دیگر گاڑیوں کا شکار ہوکر اپنی جان قربان کربیٹھے۔
ان حالات میں لوگوں میں سیاسی،سماجی،معاشرتی اور دنیوی ودینی بیداری کے لئے ہی سال میں کسی دن کو خاص کردیا گیا ہے تاکہ کم از کم اس دن لوگوں کو اس کی اہمیت کا احساس ہوجائے، ٹھیک اسی طرح ہر سال 19نومبر کو” عالمی یوم بیت الخلا”کے طور پر منایا جاتا ہے۔ تاکہ لوگوں کواپنی صحت وتندرستی،صاف صفائی اور گندگی وپاکیزگی کے درمیان فرق کو سمجھایا جاسکے۔ کیوں کہ ہمارے ملک میں آج بھی بہت سارے لوگ ہیں جن کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ گھر کے اندر ہی بیت الخلا بھی تعمیر کرایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گھر تو بہت ہی شاندار بناتے ہیں مگر اپنے گھروں میں بیت الخلاء کی گنجائش نہیں رکھتے۔اس ضمن میں راجستھان کے ضلع بیکانیر میں ارمول سیمانت نامی ایک این جی او کے ساتھ کام کرنے والے موہن لہری کہتے ہیں کہ “میں بنیادی طورپر یوپی کے متھرا کا باشندہ ہوں بی ایڈ،ایم اے کرنے کے بعد تلاش معاش کے سلسلہ میں راجستھان کے ریگستان میں چلاآیا، میں آپ کو بیت الخلا کے تعلق سے انتہائی دلچسپ بات یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب ساٹھ کی دہائی میں میری شادی ہوئی تو میری بیوی تعلیم یافتہ تھی اس کے گھر میں بیت الخلاموجود تھا، چنانچہ اس نے یہاں بھی بیت الخلا کی مانگ کی،میں نے سوچا کہ گھر کی چہار دیواری میں ہی کہیں کسی کونے پر ایک بیت الخلاتعمیر کرادوں، مگر میرے داداجی اور بابوجی اس بات کے لئے بالکل بھی تیار نہیں ہوئے، داداجی کاکہنا تھا کہ تم جس گھر میں رہتے ہواسی گھر میں بیت الخلا کی گندگی پھیلاؤگے، تمہیں شرم نہیں آتی،تم نے کیا پڑھاہے؟نتیجہ یہ ہوا کہ میں روزانہ صبح اپنی بیوی کو موٹر سائیکل پر بیٹھاکر دو سے تین کلو میٹر دور شہر کے عوامی بیت الخلا لے جاتا رہا اور یہ کوئی ایک دن کی بات نہیں ہے بلکہ کئی برس تک یہی معمول رہا جب تک ہمارے داداجی زندہ رہے اور میں گھر پر رہا، جب میں راجستھان آگیا تو سب کچھ بدل گیا، یہاں اور ملک کے دوسرے شہروں میں تو ایک چہاردیواری تو دور کی بات ہے بس ایک پردہ جیسی دیوار بارچی خانہ اور پاخانہ کے درمیان حائل کردی جاتی ہے”۔دہلی کے جامعہ نگر علاقے میں رہنے والی ایم اے اردو کی طالبہ اور وقتاًفوقتاً سماجی مسائل پر اخبارات کے لئے مضامین تحریر کرنے والی محترمہ فوزیہ رحمٰن کے مطابق “ہمارے مسلم معاشرے میں تو ہمیشہ سے ہی پردے کا خیال رکھا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ برسوں سے ہمارے معاشرے کے گھروں میں بیت الخلا کو گھر کی چہار دیواری میں رکھنے کو ہی اہمیت دی جاتی رہی ہے، اس بات کو انتہائی معیوب سمجھاجاتا ہے کہ کوئی بھی پردہ نشین خاتون گھر کے باہر قدم رکھے اور وہ بھی رفع حاجت کے مقصد سے؟ اس بات کو ہمارا غیور معاشرہ ہر گز برداشت نہیں کرتا ہے، زمانہ قدیم میں بھی لوگ اس کا خاص خیال رکھا کرتے تھے”ٹی وی پر آنے والے ایک اشتہار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ مزید کہتی ہیں کہ “اور آج دور جدید تو یہ ہے کہ پش کروخوش رہو،آج کل بیت الخلا انتہائی صاف ستھرے ہوتے ہیں بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ دہلی جیسی کثیر آبادی والے شہروں میں بیت الخلا کے ساتھ ہی غسل خانہ بھی ہوتا ہے جہاں لوگ یکسوئی کے ساتھ فون پر نہ صرف باتیں کرتے ہیں بلکہ آرام سے بیٹھ کر اپنی پسندیدہ ناول کا بھی لطف اُٹھاتے ہیں “۔ بنیادی طور پر کیرالہ سے تعلق رکھنے والی محترمہ سجاتا راگھون کہتی ہیں کہ “میرا بچپن تو دہلی میں ہی گزرا ہے مگر آج سے تقریباً چالس سال قبل ہمارے یہاں کیرالہ کے کچھ مالدار گھرانوں میں جن کے بڑے بڑے مکانات اور ان کی بڑی بڑی چہار دیواریوں میں کہیں ایک کونہ میں ایک چھوٹا سا بیت الخلا تعمیر کردیا جاتا تھا، مگر اس میں بھی پانی کا کوئی انتظام نہیں ہوتا تھا۔ آج زمانہ بدل گیا ہے حکومت کی مہربانیوں اور لوگوں کی بڑے شہروں اور ملکوں میں آمد ورفت کی وجہ سے کلچر بدل گیا ہے اب وہاں بھی ہر گھر میں بیت الخلا آسانی سے مل جاتا ہے”۔ فی الحال دہلی میں رہائش پزیر مسٹر ماریو نرونہ جن کا تعلق مدھ پردیس کے جبل پور سے ہے وہ اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ “میرے گھر میں تو شروع سے ہی بیت الخلا تھا،مگر میرے علاقے میں جن کے گھروں میں بیت الخلا نہیں تھا ان کے بچے اور مرد باہر میدان میں رفع حاجت کے لئے جاتے تھے،جب کہ خواتین سرکاری بیت الخلا میں جایا کرتی تھیں، مگر اب حالات بہت بدل چکے ہیں حکومت نے انہیں مالی مدد دی ہے جس کے بعد اب تقریباً سارے لوگوں کے ہی گھروں میں بیت الخلا ہے اور اس کا بخوبی استعمال بھی کیا جارہا ہے”۔
دراصل عالمی یوم بیت الخلا 19نومبر کو ہر سال اس لئے بھی منایاجاتا ہے کہ عوام میں اس کی بیداری لائی جائے اور جس نے اس مسئلے پر اپنی عادت میں تبدیلی لائی ہے اس کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ ایک صحت مند معاشرہ کو فروغ حاصل ہوسکے، اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2.4ارب افراد اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے جدوجہد کررہے ہیں، اور صرف افراد ہی نہیں بلکہ سرکاری غیرسرکاری تنظیمیں بھی اس حساس مسئلے پر لگاتا رکام کررہی ہیں،جس کی سرپرستی اقوام متحدہ اور حکومت ِہند بھی کررہی ہے۔لوگوں کو بیدار کرنے کے لئے طرح طرح سے بیت الخلا کو انسانی زندگی کے تمام شعبوں سے جوڑنے کی کوشش جاری ہے اسی لئے اس سال کا موضوع”صاف صفائی کس طرح آپ کی معاشی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے ” بیت الخلا ایک شہری کی زندگی اور معاشی حالت پر ایک اہم رول ادا کرتا ہے،اسی طرح آپ کی اور آپ کے بچوں وخواتین کی صحت وتندرستی اور عزت وقار کابھی ضامن بن جاتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ اس کو حکومت کی جانب سے چلائی جارہی ایک اسکیم تصور کرنے کے بجائے اپنی زندگی کا اہم حصہ اور ترقی کا پہلا زینہ تسلیم کیا جائے۔(چرخہ فیچرس)
نوٹ:۔درج بالا مضمون این ایف آئی کے ذریعہ دی گئی فیلوشپ کے تحت تحریرکیا گیاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *