ترقی کی راہ پر دوڑنے کے لئے سڑک تو دو

محمد ریاض ملک صدر انجمن دیہی قلمکاران منڈی،پونچھ
محمد ریاض ملک
صدر انجمن دیہی قلمکاران منڈی،پونچھ

ریاست جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات سے قبل یہ نعرے لگائے جارہے تھے کہ اگر مرکز وریاست میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہوگی تو ترقیاتی کاموں کا سیلاب آجائے گا۔ مگر انتخابات کے بعد جب حکومت بنی تو یہاں کے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہ آیا، اس ترقی یافتہ زمانہ میں ہم پہاڑی باشندگان کو جتنی سڑکوں کی ضرورت ہے. اتنی کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے، سڑک نہ ہونے کی سزا قریب 15000 ہزار نفوس پر مشتمل سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کا اڑائی گاؤں بھگت رہا ہے۔نہ اسکولوں میں اساتذہ کی بروقت حاضری، نہ طلبہ کی متواتر حاضری، جس کا نتیجہ زندگی بھر جہالت کی تاریکی اور غلامی کی زنجیر ہی نصیب ہوتی ہے. محکمہ پی ایچ ای، بجلی، ہیلتھ، ہارٹیکلچر، ایگریکلچر،محکمہ دیہی ترقیات غرض کسی بھی محکمہ کا اعلی آفیسر سڑک نہ ہونے کی وجہ سے آنا گوارہ نہیں کرتا . جس کی وجہ سے یہ گاؤں دن بدن پسماندگی کی طرف رواں دواں ہے۔جبکہ ریاست جموں وکشمیر کے خوبصورت گاؤں کا اگر کہیں تذکرہ آئے تو ضلع پونچھ کا گاؤں آڑائی ان خوبصورت گاؤوں میں سرفہرست ہوگا. یہاں کے لوگ اپنے ملک ہندوستان کے شروع سے وفادار رہے ہیں . مرد تو مرد یہاں کی خواتین نے بھی دشمنوں کے مقابلا میں اپنی فوج کا شانہ بشانہ ساتھ دیا ہے. جس میں سر فہرست مسلم خاتون مالی دیدی ہے. جس کو ملک کی وفادری کا ایوارڈ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ہاتھوں دیا گیا تھا. یہاں کے مردوں نے ہراہم. جنگوں میں تمام پوسٹوں پر اپنی فوج کے لیے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر خرد ونوش کا سامان پہنچا کر ملک کے ساتھ وفاداری کا. ثبوت دیا ہے۔ مگر img_20161130_123747-1افسوس ان ساری وفاداری کا بدلہ یہ ہے کہ آج تک اس گاؤں کو سڑک کی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔
آزادی ہند کے 31 سال بعد 1978 ء میں گاؤں آڑائی کو منڈی اور دوسرے شہروں کے ساتھ جوڑنے کاکام کیاگیا۔ 55 سالہ حاجی محمد اشرف کے مطابق ” پہلی بار 1978 ء میں اس سڑک کا کام آڑائی کٹھہ سے شروع کیا گیا تھااور قریب 38 سال کام وقفہ وقفہ سے چلتا رہا، آخر کار سال 2011میں ملک کی آزادی کے 64 سال بعد گاؤں اڑائی کو تحصیل کے صدر مقام سے رابطہ نصیب ہوا۔ لوگوں میں بڑا جوش و جزبہ دیکھنے کو ملا. بڑے خوش ہوئے کیوں کہ ان لوگوں نے بالکل ایک الگ تھلگ اور ہر طرف سے کٹی ہوئی دھرتی میں اپنا ماضی گزاراتھا ایک امید بر آئی گویا اب زندگی کا نیا دور شروع ہوا “۔ ایک دیگر 70 سالہ بزرگ حاجی خواجہ مہتاب الدین بانڈے کہتے ہیں کہ ” گاؤں آڑائی قریب دوسو سال سے بھی قدیم گاؤں ہے. جس کی خوبصورتی اور آبشار وں، لالہ زاروں کی حسین سریلی آوازیں اپنی مثال آپ ہیں،مگر افسوس اس کی خوبصورتی سے بے وفائی ہی ہوتی رہی ہے اس کے مکینوں کو ہمیشہ سے ہی نظر انداز کیا جاتا رہا ہے 1977-78 میں منڈی لورن روڈ پر آڑائی کھٹہ کے مقام سے سڑک کے کام کا آغاز کیا گیا۔جہاں سے ایک موڑ منڈی راجپورہ میاں شہالو صاحب کی بیٹھک کے پاس سے ہوتا ہوا آڑائی تنگ کٹھہ، جس کو عام لوگ سووڑا کٹھا کے نام سے یاد کرتے ہیں . جہاں اس روڈ کو ایک بڑی پہاڑی سے گزرنا تھا. جس کے بعد آڑائی گاؤں کی شروعات ہوتی ہے عوام کی نظریں روڈ کے انجام پراور ٹھیکداروں کی نظریں صرف دام پر تھیں . آخر کار ٹھیکدار نے محکمہ کو اس بات سے ڈرایا کہ یہاں سڑک نکلے میں ایک سخت مشکل یہ درپیش ہے کہ یہاں پہاڑی میں کوئی بڑی آفت یعنی جِن ہے. جو دو مطالبات کررہا ہے. ایک یہ کہ ریت کا رسہ دوسرے ایک انسان کا سر مجھے دیا جائے اس کے بعد ہی میں یہاں پہاڑی سے اپنا گھر بدلوں گا اگر ایسا نہ کیا تو یہاں سے پہاڑی کاٹ کر سڑک نہیں نکلنے دی جائے گی۔ بظاہر ٹھکیداروں کی اس بناوٹی تجویز کا حل نکلنا سخت دشوار تھا. نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں پر ہی کام بند کردیا گیا. اور ٹھیکیداروں نے محکمہ کے اراکین کے ساتھ تال میل سے طے شدہ رقم ہڑپ کر لی . اس طرح گاؤں آڑائی کو ایک بار پھر پستی میں دھکیل دیا گیا.دوسرا دور 1990ء کی دہائی میں ایک سروے سے شروع کیا گیا جسکا کام بھی بڑی شد و مد سے جاری رہا،ایک سال تک چلنے کے بعد یہ کام بھی ٹھیکداروں اور وقتی عہدداروں کی روزی روٹی ہی بنا۔ انتخابات سے چند دن قبل مشین کو آڑائی کٹھا میں لا کر کھڑا کر دیا جاتا اور جوں ہی ووٹ پڑ جاتے مشین بھی واپس ہو جاتی تھی یہ سلسلہ کئی برسوں تک جاری رہا آخر کار محکمہ پنچایت کی کوششوں سے بڑی جاں فشانی کے بعد ایک چھوٹی سی پگڈنڈی اس دشوار گزار پہاڑی میں بنانے میں کامیابی ملی. لوگوں میں امید کی ایک کرن جاگی کم سے کم لوگوں نے منڈی بازار کا منہ تو دیکھا. اسی سال 2007 میں محکمہ پی ڈبلیو ڈی نے اسی پگڈنڈی کو اپنے سروے کے لئے آمد ورفت کے طور پر استعمال کیا اور دریا کے کنارے سروے کرواکر روڈ کا کام شروع کر دیا۔ 2007 سے 2008 تک محکمہ پی ڈبلیو ڈی کی نگرانی میں کام چلتا رہا 2008 میں اس کام کو محکمہ پی ایم جی ایس وائی کی زیر نگرانی کر ایا گیا. جس نے تین سال کے عرصہ میں چارکلو میٹر سڑک آمدو رفت کے قابل بنا ئی۔ جو 2011 سے 2016تک عوام آڑائی کے لیے کاآمد ثابت ہوئی لیکن جب اچانک قہر خداوندی کا نزول ہوا تو اس گاؤں کی جنگل کی زمین پر بادل پھٹنے سے دریا میں اس قدر تغیانی آئی کہ اس

خستہ حال سڑک کا علاقے کے ایم ایل اے اور دیگر افسران معائیہ کرتے ہوئے ۔
خستہ حال سڑک کا علاقے کے ایم ایل اے اور دیگر افسران معائیہ کرتے ہوئے ۔

نالے کے قریب کی تین کلو میٹر سڑک دریا کی نذرہوگئی. اس طرح گاؤں آڑائی کے باشندوں کو ایک بار پھر آزمائش سے دوچار ہونا پڑا۔
جولائی 2016 میں جب سیلاب والا یہ واقعہ پیش آیاتو اس میں سڑ ک کے ساتھ ساتھ پانچ گھراٹ (پن چکی) ایک مکان، دو پلیاں، بجلی کھمبے اور ہزاروں پیڑ پودوں اور زمین سمیت فصلوں کا بھی کافی نقصان ہوا. دراصل دریا کے بیچ میں مٹی ڈال کر اس سڑک کو بنا دیا گیا تھا جب دریا میں طغیانی آئی تو دریا نے اپنا راستہ صاف کر لیا. اور ایک بار پھر آڑائی گاؤں کی تینوں پنچائیتوں کے مکینوں کو پیدل چلنے پر مجبور کردیا”۔ ان کے علاوہ حاجی ممتاز حسین جن کی عمر 60 سال ہے انہوں نے بتایا کہ” حسب روایت سرکاری اور حکومتی کارندے یہاں وارد ہوئے وعدے کیے کہ اس سڑک کو جلد از جلد بحال کر دیا جائے گا. لیکن آج تین ماہ بعد بھی معاملہ جوں کا توں ہے. کوئی پرسان حال نہیں ہے”۔ مقامی نوجوان باشندگان زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ “جب جموں وکشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے. تو کیا یہ گاؤں اس کا حصہ نہیں ہے.؟ کیا اس ملک کی آزادی اور اس کے تحفظ میں اپنی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ ساتھ دینے کا یہی صلہ ہے.؟ آخر یہ بنیادی حقوق کی پامالی کیوں؟”اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں ایک طرف ڈیجیٹل انڈیا کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ملک کے وزیر اعظم عوام سے قربانیاں مانگ رہے ہیں تو حکومت کا بھی فرض بنتا ہے کہ اپنے ملک کی سرحد کو مضبوط بنائے رکھنے کے لئے عوام کی جائز مانگ کا خیال کرے کیوں کہ سرحدی عوام حکومت سے قربانی نہیں اپنا حق اور ترقی کی راہ پر دوڑنے کے لئے سڑک ہی تو مانگ رہے ہیں۔ (چرخہ فیچرس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *