NewsInKhabar

ڈاکٹر جنید عالم: اک ستارہ جو ٹوٹ گیا

حامد رضا
ڈاکٹر جنید عالم کی علمی اور فنی زندگی ایک نامکمل غزل اور ایک ادھورے افسانہ کی طرح ہے، جسے پڑھنے کے بعد قاری صرف آہ بھرتا ہے اور کف افسوس ملتا ہے۔ آپ افق علم و فن پر ایک خوبصورت ستارہ بن کر چمکے، اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک جہان کو روشن کرنے لگے، لیکن ٹھیک اس وقت جب اس کی روشنی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی، یہ چمکتا دمکتا ستارہ گردش میں آ گیا، اور وقت سے پہلے اس کی روشنی مدھم پڑگئی۔۔۔
آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے سن 1974ء میں علم طبیعیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگڑی حاصل کی اور پھر وہیں مہمان لیکچرر کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ہندوستان بھوکا اور ان پڑھ تھا، پیٹ بھرنے کے لئے مشکل سے ایک وقت کی روٹی نصیب ہوتی تھی، اور دماغ علم و فن کی روشنی سے بالکل خالی تھا۔ خاص طور سے مسلمانوں کے یہاں تعلیمی بیداری صفر کے برابر تھی۔
ایسے ناسازگار ماحول میں آپ نے اپنا تعلیمی سفر اپنے گاؤں “ہریوا” کے مکتب سے شروع کیا۔ یہ وہی گاؤں ہے جہاں ہرسال بے رحم “کوسی ندی” تباہی و بربادی کی نئی تاریخ لکھتی ہے اور غربت اور بھکمری ہر گھر میں راج کرتی تھی۔ لیکن آپ کے لیے راستے کی یہ تمام رکاوٹیں مہمیز بن گئیں اور آپ آگے بڑھتے ہی رہے۔
آپ کے تعلیمی سفر کی ابتدا ایک حادثہ کا نتیجہ ہے، جس کا یہاں بیان کرنا دلچسپی سے خالی نہیں۔ اس وقت “کوسی ندی” جوبن پر تھی، ایک دن آپ اپنے ساتھیوں سمیت گھر کے آگے بنسی اور لکڑی کی مدد سے مچھلی مار رہے تھے کہ مرحوم احتشام الدین (احتشام دادا، مسیح دادا کے والد) کا گزر ہوا، (آپ کا شمار ہمارے گاؤں کے اولین تعلیم یافتہ شخصیتوں میں ہوتا ہے، آپ دوسروں کی بھلائی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے تھے، ڈاکٹر جنید عالم آپ کی اسی نیک نیتی اور بھلائی کی اپج ہے)
آپ نے جنید دادا کو اردو نما میتھلی زبان میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا: “ہیرے! لگّی کھیلے ہے اور پڑھے لا نہ جاہے۔۔۔(بنسی کھیل رہے ہو اور پڑھنے کے لیے نہیں جاتے ہو؟؟) اتنا سننا تھا کہ آپ نے وہیں پر لکڑی توڑ دی، بنسی پھینک دی اور کتاب کو سینے سے لگالیا۔ آپ خود فرما تے تھے کہ اس کے بعد میں نے پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا، کبھی کھیل کود میں دلچسپی نہیں لی اور پڑھتا ہی رہا۔ یہ واقعہ آپ نے مجھ سے خود بیان کیا تھا، اس محفل میں میرے علاوہ آپ کے صاحبزادہ نوید بھی تھے۔ ہریوہ مکتب، مدرسہ قادریہ انوار العلوم سربیلہ اور اسلامیہ ہائی اسکول، سمری بختیار پور کی سیڑھیاں طے کرنے کے بعد آپ خوابوں اور خیالوں کی آماجگاہ “علی گڑھ مسلم یونیورسٹی” پہنچ گئے۔ امتیازی نمبرات سے کامیابی کے بنا پر آپ کو دسویں جماعت ہی سے سرکاری وظیفہ ملنا شروع ہوگیا تھا۔ گریجویشن کے لیے آپ نے کوسی کالج، کھگڑیا میں فارم بھر کر داخلہ لے لیا تھا کہ چودھری محمد صلاح الدین، (موجودہ کھگڑیا لوک سبھا ایم پی، چودھری محبوب علی قیصر کے والد) کے کانوں تک یہ خبر پہنچی، آپ نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے فورا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے رجسٹرار کو جو کوئی شیروانی صاحب تھے، کے نام ایک سفارشی خط لکھا اور وہاں آپ کا داخلہ ہوگیا، اس طرح آپ باغ سرسید میں خوشہ چیں ہوگئے۔ اے ایم یو میں آپ نے سائنس میں گریجویشن، پھر ماسٹر کرنے کے بعد پی ایچ ڈی میں داخلہ لے لیا۔ آپ کی تحقیق کا موضوع “نیو کلئیر انرجی” سے متعلق تھا۔ یو جی سی کی طرف سے آپ کو وظیفہ بھی ملنا شروع ہوگیا تھا، ایک سو روپے ہر ماہ ملتے تھے۔ آپ خود کہتے تھے کہ اس وقت اتنے پیسے میں ہم تر ہوجاتے تھے۔ سن1974ء میں آپ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری مل گئی، پھر آپ وہیں اپنے مادر علمی میں بحیثیت مہمان لیکچرار پڑھانے لگے۔ اس کے علاوہ آپ “بھابھا ایٹامک ریسرچ سینٹر”، ممبئی سے بھی جڑے رہے اور اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔
یہ سنہرا سلسلہ سن 1977ء تک قائم رہا۔ پھر اچانک آپ کی طبیعت خراب ہوگئی، اور ذہنی طور پر بیمار پڑ گئے، اس کے بعد آپ اپنے وطن واپس آگئے۔ اس طرح تقدیر نے آپ کے ساتھ ایک نئی بازی کھیلی۔ تقریبا دو سال بعد جب طبیعت سنبھلی تو علم و فن کا یہ ہیرا نوکری کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھانے لگا، کبھی نیپال، تو کبھی بھاگلپور تو کبھی کہیں اور قسمت آزمانے لگا، لیکن بدقسمتی نے آپ کا پیچھا نہیں چھوڑا اور طبیعت پھر بگڑ گئی، بالآخر رانچی سے آپ کا مستقل طور پر علاج ہوا اور کسی حد تک شفا مل گئی۔
پھر جد و جہد اور بھاگ دوڑ کا نیا سلسلہ شروع ہوا۔ تگ و دو کے اسی مرحلہ میں ایک قدر شناس نے اس بھولے بھٹکے نگینہ کو پہچان لیا اور پوسٹ گریجویٹ “گاندھی فیض عام کالج”، شاہ جہاں پور، یوپی، (مہاتما جیوتی با پھولے روہیل کھنڈ یونیورسٹی کی ایک شاخ) میں سن 1995ء میں آپ کی مستقل طور پر تقرری عمل میں آئی اور اس طرح ہچکولے کھاتی ہوئی ایک کشتی کو بالآخر کنارہ مل ہی گیا۔ اسی کالج سے آپ 10/اکتوبر سن 2008ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔
ڈاکٹر جنید عالم اپنے میدان یعنی علم ریاضیات و طبیعیات کے شہسوار تھے، اپنے فن سے متعلق ہر سوال کا تشفی جواب دیتے، اور ریاضیات کے پیچیدہ سے پیچیدہ مسئلہ کو بھی منٹوں اور سیکنڈوں میں حل کر دیتے۔ آپ کی صلاحیت کا لوہا ہر کوئی مانتا تھا۔ آپ کے ایک شاگرد نفیس احمد صدیقی ابن مرحوم ماسٹر محمد مونس، ہریوہ کا بیان ہے کہ “جب آپ کی طبیعت خراب تھی، اس دوران بھی میں آپ سے ریاضیات کا کوئی پیچیدہ مسئلہ پوچھتا، تو بآسانی آپ اس کی گتھیاں سلجھا دیتے تھے۔” یقینا آپ علم و فن کے پہاڑ تھے، ماہر ریاضی داں اور سائنس داں تھے، جب آپ گھر پر رہتے تو دور دور سے مسلم و غیر مسلم طلبہ آپ کے پاس اپنی علمی پیاس بجھانے آتے۔
اس سب کے باوجود طبیعت میں سادگی غایت درجہ کی تھی، وضع قطع اور آپ کے لباس کو دیکھ کر کسی کے تحت الشعور میں بھی خیال نہیں آتا کہ آپ علم طبیعیات کے محقق اور سائنسداں ہیں۔ شہرت اور ناموری آپ کی زندگی کی لغت میں بالکل نہیں تھی۔زیادہ تر خاموش رہتے، ضرورت سے زیادہ کبھی نہیں بولتے تھے۔ یہ شعر آپ کی زندگی کا ترجمان تھا

کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت
جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے
الف کی طرح سیدھے انسان تھے، نہایت صاف و شفاف زندگی گزاری، زمین جائداد کو لے کر اپنوں یا غیروں سے کبھی بھی آپ کی تو تو میں میں نہیں ہوئی ہے۔ کبھی کسی کی دل شکنی نہیں کی، نہ زبان سے، نہ ہاتھ سے۔اس وقت مجھے ایک صحیح حدیث پڑھنے کو جی چاہتا ہے: ” المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده “! (ترجمہ: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے)۔
ابھی جب یہ پیراگراف لکھ رہا ہوں اور جنید دادا کی برسوں پر محیط زندگی کو چند عبارات میں سمیٹنے کی ناکام کوشش کر رہا ہوں تو حیران ہوں کہ ان کی علمی و فنی گہرائی کی داد دوں یا پھر ان کی عاجزی، انکساری اور سادگی پر عش عش کروں!! کیونکہ یہ دونوں خوبیاں پڑھے لکھے آدمی کے اندر ہمارے سماج میں آج تقریباً ناپید ہیں۔
آج سے دو سال قبل جون سن 2018ء میں، میں نے مولانا اعجاز انجم صاحب کی معیت میں جنید دادا سے ان کے گھر پر ملاقات کی تھی، ہماری گفتگو گھنٹہ دو گھنٹہ تک چلی تھی، میں نے وہیں پر ان کی زندگی سے متعلق اہم گوشوں کو ایک کاپی میں نوٹ کر لیا تھا، لیکن افسوس کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ کاپی میرے پاس ابھی نہیں ہے۔ ان شاء اللہ جب موقع ملے گا تو جنید دادا کی زندگی پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔
اخیر میں اللہ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ اللہ جنید دادا کی قبر پر رحمت و انوار کی بارش نازل فرمائے اور انہیں جنت میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

مضمون نگار ہریوا کے باشندہ اور جے این یو کے ریسرچ اسکالر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *