NewsInKhabar

نتیش کمار پر حملہ: مقصد کیا ہے؟

وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر حملہ جاری ہے۔ ایل جے پی اور اس کے صدر چراغ پاسوان لگاتار نتیش کمار پر حملہ آور ہیں۔ مگر یہ سبب یونہی بے سبب تو نہیں ہے۔ بی جے پی نے ایک بار پھر اعلان کردیا ہے کہ نتیش کمار ہی بہار میں این ڈی اے کے لیڈر ہیں۔ این ڈی اے میں وہی رہے گا جو نتیش کمار کی قیادت کو تسلیم کرے گا۔ اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ چراغ پاسوان کو کہاں سے طاقت مل رہی ہے۔ زیر نظر مضمون میں مضمون نگار محمد نافع عارفی نے اسی مسئلہ پر بحث کی ہے۔ بین السطور میں ایک خصوصی پیغام بھی دینے کی کوشش کی گئی ہے جس پر کسی کو اعتراض بھی ہو سکتا ہے۔

محمد نافع عارفی

جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہار

کورونا کے قہر نے ساٹھ  سے زائد ممالک کو اپنے اپنے یہاں کے انتخابات ملتوی کرنے پر مجبور کردیا، لیکن عوامی جذبات و خیالات اور اس کے مستقبل سے بے فکر ہماری مرکزی حکومت اور ہندوستانی الیکشن کمیشن نے بہار کے ریاستی انتخابات اور پورے ملک میں ضمنی انتخابات کی آگ میں عوام کو جھونکنے کا فیصلہ کیا- کورونا وبا کی وجہ سے تعلیمی ادارے ہنوز بند پڑے ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کورونا وبا اپنے تمام تر مہلک ہتھیاروں سے لیس ہو کر تعلیمی اداروں کے دروازوں پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہے، جونہی یہ اسکول، کالج، مدارس، یونیورسیٹیاں کھلیں گی، وائرس حملہ آور ہوگا اور چشم زدن میں طلبا لقمہ اجل بن جائیں گے، اورہماری مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو ان نونہالوں کی اس قدر فکر ہے کہ ان کی ایک آہ پرہی تڑپ اٹھتی ہیں، حالاں کہ دیکھنے والوں نے کھلی آکھوں سے دیکھا کہ دلی، علی گڑھ کی سڑکوں پر انہی مظلوم طلبا کو ہماری پولیس نے کس طرح تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ جے این یو، جامعہ، علی گڑھ کے حادثات ابھی پرانے نہیں ہو ئے ہیں۔ یہ حادثات تعلیم اور طلبا سے ہمارے سیاسی آقاؤں کی محبت کو اجاگر کرتے ہیں، لیکن کہتے ہیں مرتا کیا نہ کرتا، تو اسی کے مصداق ہماری ریاست بہار کے عوام انتخابات میں شرکت پر مجبور ہیں۔ انتخابات ہوں گے تو ووٹ تو دینا ہی ہوگا۔ عوام الجھن کی شکار ہے کہ ووٹ دیں تو کس کو دیں، کس پارٹی اورکس نیتا کو دیں، اورکیوں دیں؟ پارٹیاں اورلیڈران پریشان ہیں کہ کس طبقہ کا ووٹ کس حیلے اورکس بہانے سے حاصل کیا جائے، کس علاقے میں کون سے بہروپ پر لوگ ووٹوں کی برسات کریں گے؟

دو بڑے اتحاد میں خانہ جنگی

بہارمیں بنیادی طورپر دو مضبوط اتحاد ہے۔ ایک عظیم اتحا د یا مہاگٹھ بندھن، دوسرا این ڈی اے؛ لیکن اپنی اپنی مضبوطی اور قوت کا دعوی کرنے والے یہ دونوں اتحاد خانہ جنگی کے شکار ہیں۔ عظیم اتحاد سے کشواہا کی آرایل ایس پی اور مکیش سہنی کی وی آئی پی نے اپنا راستہ الگ چن لیا ہے، جبکہ مانجھی نے این ڈی اے کا دامن تھاما، تو این ڈی اے سے چراغ نے کنارہ کشی اختیارکرلی ہے یا انہیں منصوبہ بند طریقے سے الگ کردیا گیا ہے، یہ ایک اہم سوال ہے۔

چراغ پاسوان اپنی بساط بچھا رہے ہیں؟

کیا چراغ پاسوان اپنی سیاسی بساط خود بچھا رہے ہیں یا سیاست کی بساط پر کسی مہرے کے طور پر چال چلائے جا رہے ہیں؟ ایل جی پی کے قومی صدر چراغ پاسوان نے اعلان کیا ہے کہ وہ بی جے پی کے ساتھ نتیش کے خلاف انتخاب لڑیں گے، یعنی وہ ان 122 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا کریں گے جو جے ڈی یو کے حصے میں آئی ہے۔ اس طرح وہ نتیش کمارکاکام بگاڑیں گے اور مودی کے نام پر ووٹ مانگیں گے۔ اگر انہوں نے دس بیس سیٹیں بھی حاصل کرلی، تو لازمی طور پر نتیش کمار کی طاقت اسمبلی میں کم ہوگی۔  ادھر بی جے پی نے اگر  80 سے  90 سیٹیں حاصل کرلی، تو پھر حکومت سازی کے وقت نتیش کے لیے مشکلات کھڑی ہوں گی۔ چراغ کہیں گے کہ ہم نتیش کو سپورٹ نہیں کریں گے؛ لیکن اگر بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت بناتی ہے؛ تو ہم اپنی حمایت دے سکتے ہیں۔ اس طرح بی جے پی حکومت سازی کی پوزیشن میں ہوگی اوردو چار سیٹوں کی کمی پوری کرنا خرید و فروخت کی ماہر بی جے پی کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ غرض چراغ اپنی لو سے نتیش کے آشیانے کو خاکستر کرنے پر تیار ہیں، اور یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ اس چراغ میں تیل بی جے پی کے گھر سے ڈالا جا رہا ہے، ورنہ تو معمولی سوجھ بوجھ  رکھنے والا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا سے چھ ملاقات اور وزیر داخلہ امت شاہ سے کئی دور کی گفتگو کے بعد بھی چراغ پاسوان اپنی ڈفلی کیوں بجارہے ہیں۔

مہاگٹھ بندھن نام ہی کا عظیم ہے

دوسری طرف متعدد اتحاد ہے، جس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ ہر ایک کے اپنے اپنے دعوے اور وعدے ہیں، وعدوں کے وفا کی امید ہی فضول ہے کیونکہ ہندوستانی سیاست میں وعدوں کو نہ نبھانے کی ایک پوری تاریخ ہے۔ رہ گئی آر جے ڈی کے زیر قیادت عظیم اتحاد کی؛ تو شاید یہ اتحاد صرف نام  ہی کا عظیم رہ گیا ہے، ورنہ حقیقت صورت حال تو یہی ہے کہ وہ سمٹ کر چھوٹا سا ہوچکا ہے۔ اس اتحاد کی نظر مسلم اور یادو ووٹ بینک پر ہے؛ لیکن کیا زمینی حقیقت بھی یہی ہے، شاید اب نہیں؛ کیوں کہ خود بی جے پی اور جے ڈی یو کے متعدد امیدوار یادو برادری سے ہوں گے، تو کیا یادو برادی تیجسوی کے ساتھ آئے گی؟

فیصلہ کرنے کا وقت

یہ زمینی حقیقت ہے کہ مسلمان تقریباً متحد ہو کر ووٹ کرتے ہیں۔ اسی لیے تمام پارٹیوں اور بطورخاص عظیم اتحا د کی نگاہ اسی پر مرکوز ہے؛ لیکن کیا یہ اتحاد آبادی کے تناسب سے مسلمانوں کو ٹکٹ دے رہا ہے؟ یہ قابل غور سوال ہے۔ پھر اویسی بھی اپنے اتحاد کے ساتھ میدان میں ہیں۔ اب فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ قول و فعل کے پکے اور وعدے کے سچے سیکولر مزاج لوگوں کے ہاتھ میں اپنی ریاست کی باگ ڈور سونپنی ہے یا ووٹوں کا بندربانٹ کرکے اقتدار کی کرسی  ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرنے والی بی جے پی کو سونپنی ہے۔

ووٹ امانت اور گواہی ہے

ووٹ امانت بھی ہے اور گواہی بھی اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ امانت اہل کو سپرد کی جائے۔ إن اللہ یأمرکم  أن تؤدوا  الأمانات إلٰی أہلہا وإذا حکتم بین الناس أن تحکموا بالعدل۔(نساء:58) ترجمہ: (کہ اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم امانت کو اس کے اہل لوگوں کے سپرد کرو اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ  کرو)۔ اسی طرح ووٹ اس بات کی گواہی ہے کہ یہ شخص ملک و قوم کی رہنمائی کے لیے سب سے بہتر ہے۔ اس کے ہاتھوں میں ہمارے ملک کا مستقبل محفوظ ہے۔ یہ شخص یا یہ پارٹی ہمارے ملک کو عدل و انصاف اورترقی کی راہ پر گامزن کرے گا۔ اس لیے سوچ سمجھ کر اور دیانت داری سے ووٹ دینا ایک عام ہندوستانی کی وطنی ذمہ داری ہے، تو ایک مسلمان کے لیے یہ ایک وطنی اوردینی فریضہ بھی ہے اور اسے اللہ کے یہاں جواب دہ ہونا پڑے گا۔ اگر کسی نے اپنے معمولی سیاسی مفاد یا چند ہزارروپے کے لیے ووٹ نا اہل امیدوار کو دیا تو گویا وہ جھوٹی گواہی دے رہا ہے اور اسے اللہ کے یہاں اس کا حساب دینا پڑے گا۔ چنانچہ اللہ کا ارشاد ہے کہ ”جھوٹی گواہی سے بچو“ (الحج:30) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: کہ کیا میں تمہیں سب سے بد ترین گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں، تو صحابہؓ نے کہا کہ ضرور بتائیے، آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا اورجھوٹی گواہی دینا۔

(صحیح بخاری)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *