وزیر اعظم مودی کے نام ایک شہری کا کھلا خط

erahi-feature 

الطاف حسین جنجوعہ
الطاف حسین جنجوعہ

وزیر اعظم ہند نریندر مودی کے نام جموں وکشمیر میں سرحد پر رہنے والے ایک شہری کا کھلا خط
محترم نریندر مودی جی
عزت مآب وزیر اعظم ہند
آداب !
مودی جی امید ہے آپ خیر وعافیت سے ہوں گے، صحت بھی تندرست ہوگی، سیکورٹی بھی کافی ہوگی، ہماری تو یہاں بڑی بری حالت ہے، ہمارے ہاں بھی سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے ….خون بہہ رہا ہے، مرہم نہیں ملتی، بھوک لگتی ہے کھانا نہیں ملتا، ٹھنڈ لگ رہی ہے لیکن اوڑھنے، بچھونے کو کچھ نہیں، گولیوں کی آوازیں بہت سنائی دیتے ہیں، کسی کی ٹانگ سے خون بہہ رہا ہے تو کسی کے سر سے، ہرسو حالت خراب ہے، مال مویشی بھی مارے جارے ہیں، دودھ نہیں ملتا۔ جی آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیا اناپ شناب لکھ رہا ہوں، جی نہیں دلبرداشتہ ہوکر آج یہ کھلا خط آپ کے نام لکھ رہا ہوں، تاکہ سرحد کی کچھ خیروعافیت کے بارے میں آپ کو بتا سکوں۔ آج کل تو فور جی موبائل فون، انٹرنیٹ، ویڈیو کانفرنسنگ کا دور ہے، خط لکھنے یا پڑھنے کا رواج کم ہے لیکن میرے پاس تو آپ کو اپنے علاقے کے بارے میں بتانے کے لیے یہی ایک طریقہ ہے۔
اس خط میں، میں آپ کو جموں و کشمیر ریاست کے سرحدی علاقوں(ایل او سی) اور انٹرنیشنل بارڈر خاص طور سے جموں خطہ کے پسماندہ اور سرحدی ضلعوں پونچھ اور راجوری جس کو عام طور پر’خطہ پیر پنجال‘ کہا جاتا ہے، کے لوگوں کے دکھ درد کے بارے میں کچھ بتانا چاہتاہوں۔ یوں تو آپ اخباروں، ٹیلی ویژن چینلوں اور دیگر ذرائع سے پونچھ سیکٹر میں فائربندی کی خلاف ورزیوں، سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کے شہید ہونے کی خبریں سنتے و دیکھتے رہتے ہوں گے۔ اس کے لیے پی ایم او دفترمیں آپ کو اس حوالہ سے روزانہ وزارت داخلہ کی طرف سے بریف بھی کیا جاتا رہتا ہے، آپ تو ماشا اللہ اس ضلع کے بارے میں کافی جانکاری رکھتے ہوں گے مگر میں آپ کو اس عام شخص کے دکھ درد کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جو مسلح بھارتیہ سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ ۱۹۴۷ سے آج تک بغیر ہتھیار کے ملک کی حفاظت بھی کر رہا ہے اور بار بار نقصان بھی اٹھا رہا ہے پھر بھی اس کے دل میں سرحدوں کی حفاظت اور ملک کے تئیں دیش بھگتی کا جذبہ کم نہیں بلکہ بڑھا ہی ہے، مگر پونچھ اور راجوری کی سرحدوں کے قریب رہنے والا بے یار و مددگار و بے سہارا یہ عام شہری آج یہ سوچنے پر مجبورہے کہ اتنی قربانیاں دینے، اپنا سب کچھ لٹانے کے بعد بھی کیوں ایڈمنسٹریشن اور سرکار کی طرف سے اس کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، ایسی کیا غلطی اس سے سرزد ہوئی ہے جس کی اس کو نسل در نسل اتنی بڑی سزا دی جارہی ہے کہ ایک طرف وہ ہند و پاک افواج کے مابین گولہ باری سے کا سامنا کرے تو دوسری جانب سرکار و انتظامیہ نے بھی اس کو اللہ، بھگوان کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔
جناب…. آپ جانتے ہیں کہ جموں، کشمیر اور لداخ کے تین علیحدہ علیحدہ علاقے ہیں، لیکن یہ دو صوبوں کشمیر اور جموں میں تقسیم ہے۔ صوبہ جموں کے دور دراز اور سرحدی اضلاع پونچھ و راجوری ہیں، جی پونچھ ضلع جہاں سے پاکستان کے ساتھ براستہ چکاندا باغ آر پار تجارت اور لوگوں کی ’ہفتہ وار راہِ ملن‘ کے تحت آوا جاہی بھی ہوتی ہے۔ ان دونوں اضلاع کو مشترکہ طور پر خطہ پیر پنجال کے نام سے جانا جاتا ہے جس میں ۲۲۳ کلومیٹر حد متارکہ ہے، اس کے ساتھ سیکڑوں گائوں لگتے ہیں۔

پونچھ و راجوری کے لوگوں نے سب سے زیادہ ۱۹۴۷، ۱۹۶۵، ۱۹۷۱ اور۱۹۹۹ کی ہندوستان پاکستان کے درمیان ہوئی جنگوں کی مار جھیلی ہے اور ہر دن جھیل رہے ہیں۔اس وقت یہاں پر جموں و کشمیر میں حدمتارکہ(ایل او سی) اور بین الاقوامی سرحد پر حالت انتہائی کشیدہ ہے۔ لوگ سب کچھ بھول چکے ہیں، نفسا نفسی کا ماحول بنا ہوا ہے، لوگوں کو جان کے لالے پڑے ہیں، دل دہلا دینے والے دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ غریبی، مفلسی، لاچارگی، ناخواندگی، سادگی سب کچھ ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کا مقدرہے۔ سرحدوں کے قریب رہنے والی زیادہ تر آبادی کھیتی باڑی کے پیشہ سے منسلک ہے، ان دنوں گھاس کٹائی، مکی اور دھان کی کٹائی تھی، اب لوگوں کو مویشیوں کے لیے چارہ جمع کرنا تھا، کٹی ہوئی فصل کی چھانٹ کر کے انہیں، اپنے اسٹوروں میں رکھنا تھا تاکہ سردی کے موسم میں وہ ان کا استعمال کرسکیں۔ اگست مہینے سے وقفہ وقفہ کے ساتھ اور پھر آپ کی طرف سے کی گئی سرحد کے اس پار سرجیکل اسٹرائیک کے بعد ان علاقوں میں حالت بہت ہی زیادہ خراب ہے۔ بار بار کی فائرنگ سے ان کی سال بھر کی محنت پر پانی پھرگیا ہے، اب ایک طرف انہیں جان کی حفاظت کی فکر ستا رہی ہے تو دوسری جانب وہ پریشان ہیں کہ اپنے اہل وعیال کا پیٹ کس طرح پالیں گے۔ بچوں کی پڑھائی متاثر ہے، لوگ گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے، مویشیوں کے لیے چارہ پانی کا استعمال کرنا مشکل ہے۔ وہ چھوٹے چھوٹے بچے جن کی چہچاہٹ اور گھر، آنگن اور محلہ میں کھیلنے سے رونق ہوتی ہے، وہ گھروں میں سہمے سہمے ہیں، بیڈ اور بستروں کے نیچے چھپ کر بیٹھتے ہیں، ان کے دل کی دھڑکنیں اس قدر تیزی سے چلتی ہیں جیسے ابھی تین چار کلومیٹر دوڑ کر آئے ہوں۔ یہاں شادی بیاہ یا خوشی کی دیگر تقریبات منعقد نہیں ہوتیں!۔ مزدور، محنت کش کام نہیں کرسکتے، تعمیرو ترقی کا عمل بالکل بند ہے۔ ان دنوں کافی ٹھنڈ ہے لیکن یہ لوگ سردی کا احساس بھی بھول گئے ہیں کیونکہ جب بھی فائرنگ ہوتی ہے تو انہیں گرم کپڑے یا اوپر گرم چادر وغیرہ بھی رکھنے کا موقع نہیں ملتا بلکہ جس حال میں ہوتے ہیں، جان بچانے کے لیے بھاگنا پڑتا ہے۔
مودی جی….سرحد پر رہنے والے لوگوں کو صرف جھوٹی یقین دہانیاں ملتی ہیں، عملی طور کچھ نہیں پھر بھی یہ بیچارے، جو بھی سیاسی لیڈر، حکمران یا افسر، ان کے پاس جاتا ہے وہ اپنا سب کچھ اس پر نچھاور کرتے ہیں اور اس کی باتوں کو اس امید کہ ساتھ غور سے سنتے ہیں کہ شاید اب کی بار کچھ اچھا ہو مگر آج تک وعدہ خلافی، نا انصافی اور نظراندازی کیے جانے کے سوا کچھ نہیں ملا ہے۔ عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے ایم ایل اے، ایم ایل سی، ایم پی، وزیر یا دیگر سیاسی لیڈران بیان جاری کرتے ہیں، حقیقت کیا ہے وہ صرف سرحد کے لوگ ہی جانتے ہیں۔ اس وقت لوگوں کو فوری راحت چاہیے جو نہیں مل رہی ہے۔ بیان بازیاں، جھوٹی تسلیوں سے پیٹ بھرنے والا نہیں۔
مودی جی ….
یہاں کے لوگوں کو اپنی سیاسی قیادت سے بھی بہت گلے شکوے ہیں کیونکہ وہ ووٹ لینے کے وقت تو گولیوں کے سائے میں بھی یہاں اکیلے چلے آتے ہیں، مگربعد میں سیکورٹی بھی ہونے پر وہ یہاں آنا نہیں چاہتے۔ جموں و کشمیر کی موجودہ مخلوط سرکار بھی سرحدی علاقہ کے لوگوں سے متعصبانہ رویہ اور امتیازی سلوک روا رکھ رہی ہے اور انہیں سیاسی انتقام کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ دربار موو کے بعد دفتر جموں منتقل ہوگئے ہیں، لوگوں کو امید تھی کہ محبوبہ آنٹی ان کا دکھ درد جاننے آئیں گی اور اس کا کوئی فوری علاج بھی کریںگی لیکن اس کے الٹ ہوا۔ چار نومبر ۲۰۱۶ کو وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی جی نے سرحدی اضلاع پونچھ و راجوری کا دورہ کیا لیکن انہوں نے بھی صرف انہیں علاقوں میں جانے کی زحمت گوارہ کی جہاں سے حکمراں جماعتوں کے ایم ایل اے یا ایم ایل سی ہیں۔ نوشہرہ، راجوری اور پونچھ گئیں وہ بھی چند محدود علاقوں تک، ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقہ میں سیکڑوں کلومیٹر ایل او سی ہے، جس سے منکوٹ، بالاکوٹ، چھجلہ، گوہلد، بسونی، دھراٹی، سلوتری وغیرہ کا ایک بڑا علاقہ ایل او سی کے قریب واقع ہے، وہاں وزیر اعلیٰ یا حکمراں جماعت کے کسی دوسرے بڑے لیڈر نے جانے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔ فائرنگ سے زخمی ہوئے درجنوں افراد کو پارٹی کے مقامی لیڈران اور کچھ از خود رشتہ داروں کے سہارے چل کر بھمبر گلی پہنچے تاکہ وہ اپنے دکھ درد کو حکومت کو بتا سکیں لیکن محبوبہ جی نے وہاں جانا ہی منسوخ کردیا۔ ادھر پونچھ کے گگڑیاں، ساوجیاں، شاہ پور، کیرنی، مندھار، لورن، منڈی، گلی میدان، گونتریاں وغیرہ علاقوں میں بھی حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔

جناب والا، پی ڈی پی اور بھارتیہ جنتا پارٹی یوں تو مل کر سرکار چلا رہی ہیں، جن کی ذمہ داری ریاست کے پورے عوام کے مسائل کو دیکھنا ہے، ان کے دکھ درد کو سمجھنا ہے لیکن پی ڈی پی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈران صرف اپنے مخصوص حلقوں پر ہی توجہ دے رہے ہیں، وہ بھی صرف انہیں لوگوں کی طرف جنہوں نے ان کو ووٹ ڈالے ہیں، جناب یہ کہاں کا انصاف ہے….؟ جموں، سانبہ، راجوری اور پونچھ ضلعوں پر مشتمل لوک سبھا حلقہ (جموں، پونچھ) کے ممبر پارلیمنٹ جگل کشور شرما صاحب نے صرف اخباروں میں اپنی موجودگی کا اظہار کرنے کے لیے سانبہ اور جموں کے کچھ سرحدی علاقوں تک ہی اپنے آپ کو محدود رکھا ہوا ہے، پونچھ و راجوری میں کیا ہو رہا ہے، اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ انہوں نے بنکروں کی تعمیر یا لوگوں کو سہولتوں کی فراہمی کی بات نہیں کی۔ آپ کی کابینہ بلکہ آپ کے دفتر میں ہمیشہ موجود رہنے والے ڈاکٹر جتندر سنگھ صاحب کے دورے بھی جموں شہر یا پھر کٹھوعہ ضلع تک ہی محدود رہتے ہیں، وہ بھی بارڈر کی طرف جانا نہیں چاہتے۔ جناب آپ کو وہاں پر شاید یہ بھی بتایا جاتا ہوگا کہ سرکار سرحدوں کا از خود معائنہ کر رہی ہے، لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ لیڈران سرحد سے کئی کلومیٹر دور ہی سخت ترین سیکورٹی حصار میں جا کر بیان جھاڑ کر، مگرمچھ کے آنسو بہا کر واپس آجاتے ہیں۔ آپ کی پارٹی کے لیڈر ترقی کی بات کرتے ہیں، جہاں جاتے ہیں کہتے ہیں، ہمارے پاس ترقی کا بہت بڑا ویژن ہے، اس کو لاگو کیا جا رہا ہے، مگر آپ بتائیں جب امن ہی نہیں ہوگا، لوگوں کی جان کی حفاظت نہیں ہوگی تو پھر ترقی کیا خاک ہوگی۔ اس وقت سرحد پر رہنے والے لوگوں کو کئی مقامات پر مذہبی تنظیمیں، زیارت گاہوں، خانقاہوں، درسگاہوں، مندروں، آشرموں کی طرف سے کھانا کھلایا جا رہا ہے اور انہیں سر چھپانے کے لیے جگہ بھی ملتی ہے۔
مودی جی ….راجوری و پونچھ ضلعوں کے لوگ دو طرف سے مارے ہوئے ہیں، ایک طرف وہ توپوں، مارٹر شیلوں، اندھا دھند فائرنگ کا سامنا کر رہے ہیں تو دوسری طرف انتظامیہ اور سرکار نے انہیں مکمل نظر انداز کر رکھا ہے۔ جناب والا، جتنے بھی ایم ایل اے، ایم ایل سی یا ضلع و پولیس انتظامیہ کے افسران ہیں وہ ڈائریکٹ فائرنگ متاثرہ علاقوں میں جانا ہرگز گوارہ نہیں کرتے، وہاں لوگ کس دکھ درد اور مصیبتوں سے گذر رہے ہیں کسی کو اس کا علم نہیں۔ وہاں پر ایمبولینس، دوائیں دستیاب نہیں، ڈاکٹروں کا نام و نشان نہیں، ایس ڈی آر ایف یا کوئی دیگر امدادی ٹیمیں نظر نہیں آتیں، صرف یہاں پر لوگ ہی ایک دوسرے کی مدد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ راجوری، منجاکوٹ، نوشہرہ، سندربنی، بالاکوٹ، منکوٹ، ساوجیاں، لورن، منڈی میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو معذور ہوکر بھیک مانگ رہے ہیں۔ پونچھ اور راجوری اضلاع کے سرحدی علاقوں میں جگہ جگہ باردوی سرنگیں (لینڈ مائن) بچھائی گئی ہیں، بہت سے علاقے ایسے ہیں جن کی نشان دہی یا وہاں نہ جانے سے متعلق کوئی وارننگ نہیں، جس کی وجہ سے کئی بار وہاں سے مال مویشیوں یا پھر انسانوں کے گذرنے سے زور دار دھماکے ہوئے اور کئی قیمتی جانیں تلف ہوئیں اور کچھ عمر بھر کے لیے اپاہج ہوگئے۔ ایسے لوگوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جن میں بزرگ خواتین، مرد، بچے اور نوجوان شامل ہیں، جو بے یار و مددگار ہیں۔ سرکار کی طرف سے انہیں بمشکل۴۰۰ سے ۵۰۰ روپے ماہانہ پنشن دی جاتی ہے، وہ بھی کئی کئی ماہ تک ملتی نہیں۔ بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں اب فوج نہیں، مگر انہیں لینڈ مائنوں سے خالی نہیں کیا گیا، لوگ جب یہاں مال مویشیوں کو چرانے جاتے ہیں یا پھر کھیتی باڑی کرتے ہیں تو بچھی ہوئی لینڈ مائن پھٹتی ہیں یا زندہ ملتی ہیں۔

صرف زندہ ہی نہیں بلکہ مرے ہوئے لوگوں کے لیے قبروں میں بھی چین نہیں ہے۔ مینڈھر کی تحصیل بالاکوٹ میں حد متارکہ پر بھارت کی طرف سے کی گئی فینسنگ کے اندر سندوٹ میں کئی سول سال پرانا قبرستان سیکڑوں کنال اراضی پر مشتمل ہے، تاربندی کے اندر بالاکوٹ کے پڑنے والے تین بڑے گائوں جن کی آبادی ۱۰ ہزار کے قریب ہے، ان کا یہ آبائی قبرستان ہے، سندوٹ میں مشہور’سٹالی چیڑ زیارت‘ کے پاس واقع قبرستان کے بیشتر حصہ پر فوج قابض ہے، قبرستان کی کوئی بھی چار دیواری نہیں کی گئی، قبروں کے اوپر سے مٹی اٹھا کر مورچے اور بنکر تعمیر کر رکھے ہیں، کئی قبروں کے اوپر مورچے بنے ہوئے ہیں۔نہ اس جگہ کی صفائی کی جاتی ہے اور نہ لوگوں کو اس کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہاں پر فوج نے کئی خرگوش بھی پال رکھے ہوئے ہیں جنہوں نے قبروں کو کھرود کھرود کر وہاں سے مردوں کی ہڈیا ں بھی باہر نکال لائی ہیں۔ اس طرح تقریباً۴۰ قبروں سے ہڈیاں نکالی گئی ہیں۔ یہ بھی بتا دوں کہ بالاکوٹ سیکٹر میں تین سےچار کلومیٹر پیچھے تاربندی کی گئی ہے اور اس سے آگے جتنی بھی آبادی رہ رہی ہے، وہ گونا گوں مشکلات سے دو چار ہے، اگر کسی شخص کی موت ہوجاتی ہے تو تدفین کے لیے فوج سے اجازت لینا پڑتی ہے اور یہ اجازت ملتے ملتے کم سے کم تین گھنٹے لگ جاتے ہیں، اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ وہ صبح نماز فجر کے بعد قبرستان پر فاتحہ خوانی کے لیے جائیں مگر یہاں فوج کی طرف سے اجازت نہیں دی جاتی۔
سرحدی علاقوں کی ترقی کے لیے مرکزی سرکار کی طرف سے سرحدی علاقہ ترقیاتی پروگرام (بی اے ڈی پی) نام کی ایک سکیم چلائی جارہی ہے، کروڑوں اربوں روپے سالانہ آتے ہیں، لیکن زمینی سطح پر اس کی کوئی عمل آوری نہیں ہو رہی ہے۔ آپ سی اے جی سے ایک مرتبہ جموں و کشمیر میں اس سکیم کی عمل آوری کے بارے میں خصوصی آڈٹ کرائیں، آپ کو بخوبی پتہ چل جائے گا کہ حقیقت کیا ہے۔ سرحدی علاقوں میں انتظامیہ نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی، یہاں پر پینے کے صاف پانی کا انتظام نہیں، پانی کی پائپیں نہیں، لوگ بیشتر علاقوں میں قدرتی چشموں سے پانی کا استعمال کرتے ہیں، بجلی نہیں، اگر کہیں ہے تو بجلی کھمبے نہیں، اکثر لوگوں نے درختوں پر تاریں لگائی ہیں، سڑکوں کی حالت خستہ ہے، اسکولی عمارتیں تباہ حالی کا شکار ہیں، ایگریکلچر محکمہ کے ملازمین گھر سے بیٹھ کر ہی کاغذی خانہ پری کرتے ہیں، میڈیکل سہولیات بھی دستیاب نہیں، ڈسپنسریاں یا چھوٹے موٹے جو ہیلتھ سینٹرز بنائے بھی گئے ہیں، وہ زیادہ تر بند ہی رہتے ہیں۔ جناب والا یہاں سیکورٹی وجوہات کی آڑ میں سرکاری ملازمین جتنی مرضی چھٹیاں ماریں، ڈیوٹی دیں یا نہ دیں، ان کی کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی۔ مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار ضمانتی قانون، پردھان منتری گرام سڑک یوجنا، پردھان منتری آواس یوجنا، پردھان منتری بیمہ یوجنا و دیگر اسکیموں کے بارے میں لوگوں کو کچھ پتہ نہیں اور نہ انہیں افسران بتاتے ہیں۔
مودی جی!
نئی دہلی میں جب ہوم منسٹری یا وزرات خارجہ کی طرف سے ہندوستان پاکستان کے تعلقات کے بارے میں کوئی بیان جاری ہوتا ہے تو اس کی فوری خبر سرحدی علاقوں کے لوگوں کو پتہ چل جاتی ہے کیونکہ یہاں لوگ ریڈیو بہت سنتے ہیں،اس کے علاوہ فوجوں کے چاق و چوبند ہونے اورعام لوگوں کے تئیں ان کے تیکھے تیور بھی سب کچھ بتا دیتے ہیں۔ راجوری پونچھ میں بارڈر پر رہنے والے لوگ ریڈیو بہت زیادہ سنتے ہیں، ٹیلی ویژن بھی دیکھتے ہیں لیکن اس کی تعداد کم ہے۔ ریڈیو یہاں پر پابندی کے ساتھ سنا جاتا ہے تاکہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ لگنے والی ایل او سی یا انٹرنیشنل بارڈر کے بارے میں کوئی بیان چھوٹ نہ جائے کیونکہ ان بیانات اور خبروں سے ہی انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ کل یا آنے والے چند گھنٹوں میں کیا ہوسکتا ہے اور وہ پہلے ہی اپنا کاروبار چھوڑ کر جان بچانے کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔
لوگ ’من کی بات ‘بڑی دلچسپی سے سنتے ہیں، انہیں آپ کی تقریر بہت پسند ہے، آپ کا تقریر کرنے کا انداز، لب و لہجہ اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر پکڑ انہیں کافی متاثر کرتی ہے لیکن ان کے کان آپ کی زبان مبارک سے ایسے الفاظ سننے کے لیے بے تاب ہیں، جن سے انہیں راحت ملے۔ وہ ایسا کچھ سننا چاہتے ہیں جس طرح کے سال ۲۰۰۳ میں اٹل بہاری واجپئی نے انہیں سنایا تھا۔ انہیں کافی راحت ملی تھی، ان لوگوں کے لیے یہ بات کافی معنی رکھتی ہے، امید ہے آپ ’من کی بات‘ یا کسی دوسرے بیان کے ذریعہ بارڈر پر رہنے والے لوگوں کو اچھی خبر سنائیں گے جس سے ان کی مشکلات حل ہوں، وہ امن و سکون کی زندگی جی سکیں۔پونچھ و راجوری کے بارڈروں کے قریب رہنے والے ۸۵ فیصد سے زیادہ لوگ نہایت غریب ہیں، ان کے بیشتر مکانات کچے ہیں، جن کے لیے اپنے کچے آشیانوں کے علاوہ اور کوئی ٹھکانہ نہیں، مگر مارٹر شیلوں، گرینیڈ دھماکوں اور راکٹ لانچروں سے یہ کچے آشیانے بھی بار بار ٹوٹ جاتے ہیں، ابھی ان کی دوبارہ تعمیر کی نہیں ہوتی کہ پھر سے گولے برسنا شروع ہوجاتے ہیں۔
….بارڈر میں رہنے والے لوگ ذہنی طور پر سخت پریشان حال ہیں، ہر لمحہ ان کو جان کے لالے پڑے رہتے ہیں، یہاں کے لوگ کافی قابل، ذہین ترین ہیں لیکن لگاتار ہونے والی فائرنگ، ہرسو فوج ہی فوج، گولیوں کی گھن گرج نے ان کو بے حد پریشان کیا ہے، ہر ماں اپنے بچے کا بہتر مستقبل دیکھنا چاہتی ہے، اس کو اچھا پڑھانا لکھانا چاہتی ہے، مگر یہاں مائیں کیسے لخت جگر کو اسکول بھیج کر اپنے پائوں پر خود کلہاڑی ماریں کیونکہ انہیں یہ یقین نہیں ہوتا کہ وہ بچہ صحیح سلامت گھر واپس بھی اسکول سے پہنچے گا کہ نہیں۔ صبح جب ماں اپنے بچہ کو اسکول کے لیے تیار کرکے بھیجتی ہے تو اس کو کئی کئی بار چوم کر بھیجتی ہیں اور دن بھر اس کی پر امن واپسی کے لیے دعائیں کرتی رہتی ہیں۔
….یہاں کے بچے و نوجوان کرکٹ، کبڈی، فٹ بال، کھوکھو، ٹینس، بیڈ منٹن کے بڑے شوقین ہیں، یہاں بھی سچن ٹنڈولکر، مہندر سنگھ دھونی، وراٹ کوہلی، سائنا نہوال، ثانیہ مرزا، مہیش بھوپتی کے چاہنے والے ہیں، ان جیسا بننا چاہتے ہیں، لیکن وہ گھروں سے باہر نکل کر کھیل نہیں سکتے اور نہ ہی والدین انہیں ایسا کرنے دینے کا خطرہ مول لیتے ہیں کیونکہ پتہ نہیں کس طرف سے گولی آئے اور انہیں زخمی کر دے۔
….پختہ بنکروں کی تعمیر، پلاٹ کی محفوظ مقامات پر الاٹمنٹ وغیرہ کے سرکار نے وعدے کیے تھے لیکن یہ وفا نہیں ہورہے ہیں۔ جموں، سانبہ اور کٹھوعہ اضلاع کے بارڈر علاقوں میں پکے بنکروں کی تعمیر کے لیے آپ کی سرکار نے ۲۰ سے زیادہ کی رقم دی ہے لیکن پونچھ راجوری کو اس زمرہ میں نہیں لایا گیا ہے۔ یہاں کے لوگ چاہتے ہیں کہ امن و امان قائم ہو اور وہ بھی پرسکون زندگی جئیں اور تعمیر و ترقی کی نئی منازل کو طے کریں۔ جان و مال کے تحفظ کے لیے ان کے لیے پختہ بنکرز تعمیر کیے جائیں، ایمبولینس، دوائوں، ڈاکٹروں کا انتظام ہو، محفوظ مقامات پر ان کے لیے ان جگہوں کی نشاندہی کی جائے تاکہ وہ ہنگامی حالات میں فوری وہاں پر پناہ لیں۔ وہاں پر پہلے سے ہی اشیاء خورد و نوش کا انتظام رکھا جائے جس کو ضرورت پڑنے پر استعمال میں لایا جاسکے۔ مجھے امید ہے کہ آپ تک اس خطہ میں لکھی کچھ باتیں پہنچ جائیں گی اور آپ سرحد پر رہنے والے لوگوں کے لیے کوئی راحت فراہم کردیں۔ یہاں کے بچے بھی اچھی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، اعلیٰ عہدوں پرفائض ہونا چاہتے ہیں، وہ آپ سے امیدیں وابستہ رکھے ہوئے ہیں، وہ اٹل بہاری واجپئی کی طرح آپ سے بھی ایسے ہی کسی تاریخی فیصلہ کے منتظر ہیں جو ان کے لیے سکون لائے، پر امن فضا لائے۔
آپ کا شکرگذار
سرحدوں پر فائرنگ سے متاثرہ عام شہری

(الطاف حسین جنجوعہ پیشہ سے وکیل اور صحافی ہیں، ان کا تعلق سرحدی ضلع پونچھ سے ہے۔)
ای میل:altafhussainjanjua120@gmail.com
9697069256

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *