ملک میں ایک خطرناک بحث کا آغاز

سہیل انجم
Suhail

وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت کے گراف کے نیچے آنے کے ساتھ ہی بی جے پی کو نئے نعرے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ اسے نیا نعرہ مل بھی گیا ہے۔ یعنی دیش بھکتی کا نعرہ۔ لیکن بی جے پی کی دیش بھکتی دوسروں کی دیش بھکتی سے الگ ہے، جدا ہے۔ آر ایس ایس بی جے پی کی سرپرست جماعت ہے۔ آر ایس ایس نے مختلف شعبوں میں الگ الگ تنظیمیں بنا رکھی ہیں جن سے ہزاروں افراد جڑے ہوئے ہیں۔ بی جے پی اس کا سیاسی بازو ہے۔ آر ایس ایس اپنے قیام کے وقت سے ہی اس کوشش میں رہی ہے کہ ہندوستان پر اس کی حکومت قائم ہو جائے تاکہ وہ دیش بھکتی کا اپنا نظریہ ملک پر تھوپ سکے۔ اس کے لیے اس نے انتہائی جاں فشانی سے کام لیا۔ سن ۱۹۲۵ء میں اپنے قیام کے روز اول ہی سے وہ ہندوؤں میں ذہن سازی کرتی رہی ہے، جس کا نتیجہ آج اس شکل میں برآمد ہوا ہے کہ اس نے ملک پر حکومت قائم کرنے کے اپنے دیرینہ خواب کو شرمندۂ تعبیر کر دیا۔ یعنی اب ملک پر اس کو اپنے نظریات کو تھوپنے میں بڑی آسانی ہو گئی ہے۔ حالیہ برسوں میں اس کی شاکھاؤں کی تعداد میں بھی بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت ملک میں آر ایس ایس کی ساٹھ ہزار شاکھائیں ہیں۔ آر ایس ایس سے وابستہ افراد علی الصبح کسی میدان میں جا کر جو پریڈ کرتے ہیں ان کو شاکھا بولتے ہیں۔ کسی شاکھا میں درجنوں افراد ہوتے ہیں کسی میں سیکڑوں اور کسی میں ہزاروں۔ یعنی اگر ساٹھ ہزار شاکھاؤں میں ان کے ممبران کا شمار کیا جائے تو ان کی تعداد لاکھوں میں پہنچے گی۔ یہ تو وہ لوگ ہیں جو شاکھاؤں میں جاکر اس سے اپنی دلی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ بہت بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جو شاکھاؤں میں تو نہیں جاتے لیکن وہ پھر بھی اس سے وابستہ ہیں، نظریاتی طور پر بھی اور عملی طور پر بھی۔ آر ایس ایس نے اپنی طاقت میں اتنا اضافہ کر لیا ہے کہ وہ بہت کم وقت میں پوری دنیا میں اپنی بات پہنچانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی اس کے رضاکار ہیں اور اس کی شاخیں قائم ہیں۔ بعض دوسرے ملکوں میں بھی اس کی شاکھائیں لگتی ہیں۔ اس کا ترسیلی نظام کتنا پختہ اور طاقتور ہے، اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ کئی سال قبل اس نے ایک افواہ پر پوری دنیا میں گنیش جی کو دودھ پلوا دیا تھا۔

آر ایس ایس کی نظریاتی اساس ہندی، ہندو، ہندوستان پر ہے۔ یعنی ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے۔ باقی دوسرے لوگ اگر ہندوستان میں رہنا چاہیں تو انہیں ہندو بن کر رہنا ہوگا۔ اسے انہوں نے گھر واپسی کا خوبصورت نام دیا ہے۔ جو لوگ گھر واپسی نہ کریں انہیں آر ایس ایس کے نظریات کو ماننا ہوگا یعنی قوم پرستی، حب الوطنی اور دیگر امور میں اس کے فلسفے پر عمل کرنا ہوگا۔ و قتاً فوقتاً اس کا مظاہرہ بھی ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہ مظاہرہ زیادہ کھل کر سامنے آتا ہے اور اس قسم کے نعرے لگنے لگتے ہیں کہ ہندوستان میں رہنا ہے تو وندے ماترم کہنا ہوگا۔ یا مسلمانوں کے دو استھان قبرستان یا پاکستان۔ دوسرے بہت سے نعرے بھی اسی سے ملتے جلتے ہیں۔ اب ایک نیا نعرہ اس نے مارکیٹ میں پیش کر دیا ہے۔ یعنی ’’بھارت ماتا کی جے‘‘۔ آر ایس ایس اور اس کی سیاسی شاخ بی جے پی کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ نعرہ نہیں لگاتا تو وہ دیش بھکت نہیں ہے، دیش کا دشمن ہے، دیش دروہی ہے، پاکستانی ہے۔ جے این یو تنازعہ کے بارے میں بہت سے باخبر لوگوں کا خیال بلکہ یقین ہے کہ اس کے پس پردہ آر ایس ایس کا دماغ کام کرتا رہا ہے۔ اس کا مقصد ملک میں دیش بھکتی کی بحث کا آغاز کر دینا ہے۔ اس میں وہ پوری طرح کامیاب رہی۔ اب ملک میں ایک نئی بحث کا دروازہ کھل گیا ہے۔ بحث یہ ہو رہی ہے کہ کون محب وطن ہے اور کون نہیں۔ اس بحث کو مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے اپنے بیان سے اور ہوا دے دی۔ انہوں نے غیر ضروری طور پر اپنی تقریر میں کہا کہ وہ بھارت ماتا کی جے نہیں بولیں گے خواہ ان کے گلے پر چھری ہی کیوں نہ رکھ دی جائے۔ اویسی برادران کی باتیں اس نوجوان طبقہ کو بہت پسند آتی ہیں جو جذباتیت میں بہہ کر کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے۔ اویسی کے والد سلطان صلاح الدین اویسی بھی اتحاد المسلمین کے صدر تھے۔ وہ بھی ممبر پارلیمنٹ تھے۔ وہ بابری مسجد تحریک کے ایک اہم لیڈر بھی رہے لیکن انہوں نے اپنی سیاست میں جذباتیت کی آمیزش نہیں کی تھی۔ انہوں نے اپنے بل بوتے پر مجلس اتحاد المسلمین کو ملک میں متعارف کروایا تھا۔ لیکن سیاست میں سرگرم ان کے دونوں بیٹے اسدالدین اور اکبرالدین نے جذباتیت کو اپنی سیاست کی بنیاد بنایا ہے۔ اگر چہ اسد الدین اویسی بعض اوقات بہت معقول باتیں کر جاتے ہیں، لیکن اکثر و بیشتر غیر معقولیت کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔ ممکن ہے کہ انہیں اپنی سیاسی بقا کے لیے ایسے بیانات دینے پڑتے ہوں لیکن مجموعی طور پر مسلمانوں کے حق میں ان کا طریقۂ سیاست مناسب نہیں بلکہ نقصاندہ ہے۔

اسدالدین نے اپنے بیان سے دیش بھکتی کی بحث کو تیز کر دیا ہے۔ اب بی جے پی اسے ایک انتخابی ایشو بنانے جا رہی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اب وہ رام مندر کے نام پر لوگوں کو بیوقوف نہیں بنا سکتی۔ اس لیے اس نے رام کا نام لینا ترک کر دیا ہے۔ اس نے سبرامنیم سوامی جیسے کچھ لوگوں کو میدان میں چھوڑ رکھا ہے جو رام مندر کا راگ الاپ کر اس ایشو کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ اب بی جے پی کو اس ایشو سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ دیش بھکتی کا ایشو اس کے نزدیک ایسا ایشو ہے کہ اس کی بنیاد پر سادہ لوح عوام کو ورغلایا جا سکتا ہے۔ ملک سے محبت کے معاملے میں عوام کی

اکثریت جذباتی ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر کسی کے بارے میں دلائل کی روشنی میں یہ کہا جائے کہ وہ دیش بھکت نہیں ہے وہ ملک کا غدار ہے اور مزید برآں یہ کہ وہ ذہنی طور پر پاکستانی ہے تو ناخواندہ، کم تعلیم یافتہ اور سیدھے سادے لوگوں کو گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی شخص اسے برداشت نہیں کرے گا کہ اس کے وطن پر کوئی آنچ آئے۔ بی جے پی اس کو مزید جذباتی ایشو بنانا چاہتی ہے۔ آر ایس ایس کا خیال ہے کہ اس کی بنیاد پر عوام کو دو خیموں میں بانٹا جا سکتا ہے۔ اپنے ہمنواؤں کو دیش بھکت اور مخالفین کو دیش کا غدار قرار دیا جا سکتا ہے۔ جے این یو میں یہی تو کیا گیا۔ یہاں تک کہ لفظ آزادی کو بھی ایک گالی بنا دیا گیا۔ اگر کوئی شخص ظلم و زیادتی سے، بدعنوانی سے، تنگ نظری سے، آر ایس ایس واد سے اور موجودہ ہندوتو سے آزادی کی بات کرتا ہے تو

اسے ملک کا غدار بتایا جاتا ہے۔ یعنی جو شخص حب الوطنی کے آر ایس ایس کے نظریہ کو نہ مانے وہ ملک کا وفادار نہیں ہو سکتا۔ اور آر ایس ایس کے نظریہ میں کیا ہے حب الوطنی کی پہچان کہ آپ اپنے وطن کو یعنی بھارت کو ایک دیوی مانیں اور اس کی پوجا کریں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے یا اسے نہیں مانتے تو آپ محب وطن نہیں ہیں۔ بھارت ماتا کی جے بولنا چاہیے یا نہیں، ایک مسلمان بول سکتا ہے یا نہیں اس سے قطع نظر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ حب الوطنی کا آر ایس ایس کا نظریہ قابل قبول نہیں ہے۔ کوئی ضروری نہیں کہ جو شخص ملک کی پوجا کرے وہی محب وطن ہو سکتا ہے۔ جنگ آزادی میں جن لوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں کیا وہ تمام لوگ ملک کی پوجا کرتے تھے، ہرگز نہیں۔ لیکن نہ تو آر ایس ایس والے ان کی طرح محب وطن ہیں اور نہ ہی بی جے پی والے۔ بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ آر ایس ایس کے لوگوں نے تو جنگ آزادی میں حصہ ہی نہیں لیا۔ اس کے لیڈر ویر ساورکر نے انگریزی حکومت سے معافی مانگی تھی۔ لیکن آج محب وطن ہونے کا سرٹیفکٹ یہی لوگ بانٹ رہے ہیں۔ بہر حال اس ملک میں ایک نیا نعرہ گونجنا شروع ہوا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ موجودہ اسمبلی انتخابات کے علاوہ آگے آنے والے انتخابات میں بھی اسے ایک ایشو بنایا جائے گا تاکہ بھولے بھالے عوام کو ورغلا کر اپنا الو سیدھا کیا جا سکے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *