بھارت ماتا کے فرزند مولوی صاحبان زندہ باد!

Noor Mohammad Khanنور محمد خان
آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے بھارت ماتا کی جئے کا شوشہ چھوڑ کر جہاں ہندوؤں کو متحد ہونے کا اشارہ دیا وہیں مشرکانہ بیان پر رد عمل ظاہر کرنے کے لیے علما کا تانتا لگ گیا۔ الیکٹرانک میڈیا سے لے کر اخبارات کے اول صفحہ پر اپنی تصویر اور بیان پڑھنے کے لیے متنازعہ نعرہ “بھارت ماتا کی جئے” کو کوئی اسلام کے نزدیک مشرکانہ ثابت کرنے میں لگا ہے تو کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ اسلام کے نزدیک مشرکانہ نہیں ہے، اس نعرے سے اسلام کا کوئی لینا دینا نہیں ہے؟ چنانچہ اس موضوع پر ایک مشہور چینل کے پروگرام میں ہونے والی بحث سے بات شروع کرتے ہیں۔

گذشتہ دنوں نیوز۲۴ چینل پر”سب سے بڑا سوال” کے پروگرام میں اینکر مانک گپتا نے سوال اٹھایا کہ کیا بھارت ماتا کی جئے کہنا اسلامی نقطئہ نظر سے غلط ہے یا اس کو مذہبی رنگ دیا جا رہا ہے؟ اس پر پاکستان کے اسلامی اسکالر طاہرَلقادری نے بیان دیا کہ ”پوری دنیا میں وطن کو مدر لینڈ کہا جاتا ہے۔” مدر لینڈ کی وضاحت کرتے ہوئے قادری صاحب نے کہا کہ مدر کے معنی ماں، لینڈ کے معنی وطن جئے کے معنی زندہ آباد تو یہ سو فیصد درست ہے۔

اینکر مانک گپتا نے کہا کہ دیش و دنیا کے بڑے بڑے اسلامی اسکالر کا کہنا ہے کہ بھارت ماتا کی جئے کہنا اسلام ورودھی نہیں ہے۔ موہن بھاگوت نے کہا تھا کہ دیش میں یہ نعرہ سب کو سکھانا پڑے گا۔ اس کے جواب میں اسدالدین اویسی نے کہا کہ میری گردن پر چھری رکھ دو میں نہیں کہوں گا۔ اویسی کو کرارا جواب دیتے ہوئے نامور شاعر جاوید اختر نے پارلیمنٹ میں نعرہ لگایا تو یہ اسلام ورودھی کیسے ہو گیا جبکہ پیغمبر محمد کہہ گئے کہ “اسلام سے پہلے وطن سے محبت کرنا چاہیے وہی سچا مسلمان ہے؟ تو عمیر الیاسی صاحب یہ بتائیں کہ یہ نعرہ اسلام ورودھی کیسے ہو سکتا ہے؟”

آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے چیف مولانا عمر احمد الیاسی نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ نعرہ اسلام ورودھی ہے ہی نہیں اور نہ ہوسکتا ہے۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ بھارت ماتا کی جئے تو اس میں فرق کیا ہے۔ دوسری بات وہ مذہبی آدمی ہیں ہی نہیں وہ سیاسی ہیں۔ میں نے پہلے ہی دن اسے خارج کر دیا تھا۔ حب الوطنی ایمان کا حصہ ہے جو وطن سے محبت نہیں کرتا وہ ایمان سے خارج ہے۔

اینکر مانک گپتا نے آچاریہ پرمود کرشنن سے مخاطب ہو کر سوال کیا کہ کیا اس بیان کو مذہبی رنگ دیا جارہا ہے؟ آچاریہ پرمود کرشنن نے کہا کہ بھارت ماتا کی جئے بولنا اسلام کے خلاف ہوتا تو پارلیمنٹ میں جاوید اختر کیوں کہتے؟ اگر اسلام کے خلاف ہوتا تو اشفاق اللہ کیوں کہتے؟ ملک کی آزادی کے لیے جتنے لوگ شہید ہوئے وہ کیوں کہتے؟ اس کا مطلب ہے کہ اسلام اجازت دیتا ہے کہ بھارت ماتا کی جئے کہا جائے۔ آچاریہ کرشنن نے بنیادی باتوں پر غور کرتے ہوئے کہا کہ اویسی صاحب بھی نا سمجھ نہیں ہیں۔ وہ اس کو اس طرح سے لیتے ہیں کہ اسلام ایک اللہ کی عبادت کے لیے کہتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی کو سجدہ جائز نہیں ہے اور بھارت ماتا کی جئے بولیں گے تو یہ اسلام کے خلاف ہوگا۔ پیغمبر اسلام کی حدیث سے یہ بات صاف ہے کہ وطن سے محبت آپ کے ایمان کی علامت ہے۔ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے، جو اسلام ماں کے قدموں کے نیچے جنت بتاتا ہے وہ قطعی یہ نہیں کہے گا کہ بھارت ماتا کی جئے بولنا اسلام کے خلاف ہے لیکن وہ اس کا فائدہ لے کر مسلمانوں میں یہ میسج دینا چاہتے ہیں کہ ہم بھارت ماتا کو پیار تو کرتے ہیں لیکن بھارت ماتا کی جئے بولنا اسلام کے خلاف ہے جبکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو اپنا اسلام لانا چاہتے ہیں۔

اینکر مانک گپتا بھارت ماتا (دیوی) کی تصویر دکھاتے ہوئے پوچھا کہ بھارت ماتا کی جئے نہ کہنا یہ بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے کہ اسلام میں بت پرستی نہیں ہے؟
منہاج رسول کے رکن مولانا اطہر دہلوی نے کہا کہ میں مختصر باتیں کہوں گا۔ بھارت ماتا کی جئے اور وندے ماترم میں فرق ہے۔ اگر اویسی صاحب یا وہ لوگ اس پروگرام کو دیکھ رہے ہیں تو میں کہنا چاہتا ہوں کہ بحیثیت مسلمان میرے نزدیک دنیا میں پاک سرزمین ہے تو وہ ہے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ، لیکن علامہ اقبال نے کہا کہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا۔ اینکر مانک گپتا نے پوچھا کہ بھارت ماتا کی جئے اسلام مخالف ہے یا نہیں، اس پر مولانا اطہر نے کہا یہ نعرہ کہیں اسلام مخالف نہیں ہے۔ مولانا نے قرآن و حدیث کی دلیل نہ دیتے ہوئے ایک دلیل دی کی اے آر رحمن نے گانا گا کر سب سے کہلوا لیا ماں تجھے سلام۔ امی تجھے سلام۔ غریب نواز فائونڈیشن کے رکن مولانا انصار رضا نے بھی اعتراف کیا کہ بھارت ماتا کی جئے اسلام مخالف نہیں ہے بلکہ آر ایس ایس اور اویسی دونوں نورا کشتی کر رہے ہیں۔ اس مباحثہ میں تینوں علماء کرام نے اویسی صاحب کو نشانہ بنایا۔ آچاریہ پرمود کرشنن نے علمائے کرام سے مخاطب ہو کر ایک سوال کیا کہ قرآن و حدیث میں بتائیں کہ کہاں لکھا ہے کہ بھارت ماتا کی جئے نہیں کہنا چاہیے۔ بہر حال علماء نے آخر میں اعتراف کیا کہ اس نعرے کو اپنے الفاظ میں کہہ سکتے ہیں، کسی کو اس پر تکلیف نہیں ہونی چاہیے لیکن قابلِ غور بات یہ ہے کہ ہمارے علمائے کرام نے مانک گپتا اور آچاریہ کی ایک بات کا بھی جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں نہیں دیا جبکہ مانک گپتا نے کہا کہ پیغمبر حضرت محمد کہہ گئے کہ اسلام سے پہلے وطن سے محبت کرنے والا ہی سچا مسلمان ہوتا ہے! اور بھارت ماتا کی مورتی کی تصویر بھی دکھائی وہیں اچاریہ نے کہا کہ قرآن و حدیث میں کہاں لکھا ہے کہ بھارت ماتا کی جئے کہنا اسلام کے خلاف ہے؟

دوسری بات یہ ہے کہ ابھی حال ہی میں دارالعلوم دیوبند، جمیعت علماء ہند، جماعت اسلامی ہند اور امام بخاری بھی اس میدان میں کود پڑے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند نے کہا کہ ہندو عقیدہ کے مطابق ایک دیوی ہے جس کی وہ پوجا کرتے ہیں۔ بھارت ماتا دیوی کو وہ لوگ ہندوستان کی مالک و مختار سمجھتے ہیں، بلاشبہ یہ عقیدہ شرکیہ ہے اسلام کے ماننے والے مسلمان کبھی وحدانیت کے خلاف سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ بھارت ماتا کی جئے کہنے والوں کے نزدیک اس کے مفہوم میں وطن کی پرستش شامل ہے۔ اس لیے کسی مسلمان کے لیے ایسا نعرہ لگانا جائز نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر مولانا سید جلاالدین عمری نے دیو بند کے فتوے کی تائید کی وہیں شاہی امام مولانا سید احمد بخاری ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ جو لوگ مخصوص نعرہ لگانے کی وکالت کر رہے ہیں وہ شرک کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ مولانا بخاری نے کہا کہ مذہبی عقیدے کے تعلق سے کوئی بھی بحث ناقابل قبول ہے اور مخصوص نعرے پر حال ہی میں جاری فتوی غیرضروری اورغیر مناسب ہے۔ مولانا سید ارشد مدنی نے بھی کہہ دیا کہ ہندوستان زندہ باد اور بھارت ماتا کی جئے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس بیان پر بخاری نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ خود کو زیادہ محب وطن اور سیکولر ثابت کرنے کے لیے الٹے سیدھے بیان دے رہے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی مسلمان ایسی باتیں پسند کرتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ علماء کرام مقابلہ جاتی بیانات میں حصہ لے رہے ہیں یا اسلام کے تقدس اور ایمان کی حفاظت کرنے کے لیے بیانات دے رہے ہیں؟
اہم بات یہ ہے کہ موہن بھاگوت کا متنازعہ بیان کس کی طرف اشارہ کرتا ہے؟ ظاہر سی بات ہے مسلمانوں کے علاوہ کسی اور کو اعتراض نہیں ہوگا بقیہ معاشرہ بت پرستی کی تائید کرتا ہے۔ مذکورہ مولویوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسد الدین اویسی نے صدقہ و زکوۃ کی رقم سے علم حاصل نہیں کیا ہے بلکہ وہ تعلیم یافتہ گھرانوں میں سے حق پرست مسلمان ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کی سیاسی و سماجی قیادت کررہے ہیں۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے انہوں نے کہا کہ میری گردن پر چھری کیوں نہ رکھ دو میں نہیں کہوں گا کیونکہ سیاسی طور پر تمام سیکولر جماعتوں میں موجود کسی بھی مسلم لیڈر نے متنازعہ نعرہ کی مذمت نہیں کی بلکہ نعرے کی حمایت کی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند نے ہفتوں گذرنے کے بعد فتوی کیوں جاری کیا اور جماعت اسلامی ہند نے فتوے کی دیرینہ حمایت کیوں کی؟ علاوہ اس کے سید احمد بخاری قبلہ کے نزدیک فتوی غیر ضروری کیوں تھا جیسا کہ مولانا الیاسی، طاہرَلقادری، انصار رضا، و اطہر دہلوی اگر عالم دین تھے تو ان سب نے مانک گپتا اور اچاریہ کرشنن کے غیرشرعی سوالوں کا جواب قانون شریعت کی روشنی میں کیوں نہیں دیا جبکہ یہ جانتے ہیں کہ گپتا اور کرشنن غیر مسلم ہیں ان کو شریعت کا علم نہیں ہے۔ اس خاموشی سے ایسا لگتا ہے کہ ان تینوں علماء کے نزدیک سب سے بڑا دشمن اویسی ہے اور اویسی کو نیچا دکھانے کے لیے حد کو تجاوز کر گئے حالانکہ ایک جاہل مسلمان گناہوں میں ڈوبا کیوں نہ ہو جہاں دین پر تہمت کی بات آئے گی تو برداشت نہیں کر سکتا لیکن یہ ہمارے علماء ہیں جو ذاتی مفادات کے لیے ایمان کا سودا کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ ایک بات کا ذکر اور کرتے چلیں کہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے سابق مفتی محمد شریف الحق امجدی فرماتے ہیں کہ کسی بھی موقع پر بھارت ماتا کی جئے بولنا کفر ہے جو لوگ یہ جئے بولیں ان پر توبہ، تجدید ایمان اور تجدید نکاح لازم آتا ہے۔ یہ ہندوؤں کے عقیدے کی ترجمانی کرتا ہے۔ ایمان کا تقاضہ ہے کہ علمائے مشائخ و مسلم لیڈران کو چاہیے کہ حق بات کریں۔ ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا افضل ترین جہاد ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی برائی کو دیکھے اپنے ہاتھ سے بدل ڈالے یا زبان سے روکے یا کم از کم دل میں برا سمجھے لیکن یہاں تو ایمان جاتا ہے تو جائے، ذاتی مفادات اور اپنے آقاؤں کی خوشنودی نہ جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ عمل والے عالم ہیں یا نام نہاد علماء دین اسلام کے نام پر بد نما داغ ہیں؟ کیونکہ بھارت ماتا کے فرزند ان مولاناؤں نے دنیا کے سامنے بحیثیت مسلمان ہونے کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ جس عالم کے پاس علم ہے اور وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب نہ دے سکے اس پر لعنت بھیجنا ایمان والوں کا فریضہ ہے کیا آپ تیار ہیں؟
9029516236

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *