دنیا جہان سے لڑنے والی ماں بیٹے سے ہار گئی

Sadaf Zareenصدف زریں

ماں کا درجہ ہر مذہب میں بلند رکھا گیا ہے ،جس کو کوئی بھی غلط ثابت نہیں کرسکتا اور اس بات کو بھی کہ ہر لڑکی پیدائشی طور پر ماں ہی ہوتی ہے۔ دلہن بننا اور ماں بننا ہر لڑکی کا ایک خواب ہوتا ہے ،لیکن کسی وجہ سے عورت ماں نہ بن پائے تو اس کو اذیتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں اور کبھی کبھی تو ماں بننے کے بعد بھی۔اس کی مثال بہارکے ضلع اورنگ آباد کے بارون گاؤں کی ۴۰؍ سالہ صالحہ خاتون ہیں۔ ان کی شادی۱۹۸۵ء میں رہتاس ضلع کے گاؤں آکوڑھی گولہ میں سولہ سال کی عمر میں ہوئی تھی۔لیکن افسوس ہاتھوں سے مہندی کا رنگ بھی نہیں اُترا تھا کہ دامن پر داغ لگ گیا۔اس کی وجہ شادی کے فوراً بعد ان کا حاملہ ہونا تھا۔صالحہ کو کئی مہینوں تک پتا نہیں چل پایا،لیکن جب ان کی ساس کو اس بات کا اندازہ ہوا توساس نے صالحہ کو بد کردارقرار دینے میں کوئی تاخیرنہیں کی اور دھوکہ سے انہیں میکہ پہنچادیا اور الزام یہ لگایا کہ اس کے رحم میں پلنے والا بچہ شادی کے پہلے ہی کا ہے ۔ اس سب کے باوجود صالحہ کو امید تھی کہ کوئی نہ کوئی اس کو سسرال سے لینے ضرور آئے گا، لیکن سسرال سے کسی رشتہ دار کے بجائے عدالت کا نوٹس آیا،کیونکہ سسرال والوں نے اس پر دھوکہ بازی کا کیس کردیا کہ ایک حاملہ خاتون نے دغا دے کر میرے بیٹے سے شادی کی ہے۔Saaleha

اس حادثہ نے صالحہ کو اندر سے توڑ کررکھ دیا تھا،مگر ہمت سے کام لیتے ہوئے اس نے اپنے میکے ہی میں ایک ننھے سے بچے کو جنم دیا۔بچے کی پیدائش کے بعد صالحہ بھر پورجوش کے ساتھ اپنا بدلہ لینے کی تیاری میں مصروف ہوگئی اور اس نے بھی عدالت کا ہی سہارا لیتے ہوئے اپنی سسرال والوں پر مقدمہ دائر کردیا۔مگر صالحہ کی کم علمی کافائدہ اُٹھاتے ہوئے سسرال والوں نے مقدمے کے گواہوں جیسے دائی،درزی،ڈاکٹروغیرہ یہاں تک کہ نکاح خواں کو بھی خرید لیا۔صالحہ نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری اور کیس کی پیروی اپنی طرح سے کرتی رہی یہاں تک پانچ سال کی مدت میں اس کی جمع پونجی بھی ساتھ چھوڑ گئی۔مگرکہتے ہیں نا کہ خدا کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں، اس کو بھی دیر سے ہی سہی انصاف مل ہی گیا۔مقدمہ جیتنے کے بعد صالحہ نے اپنی سسرال جانے سے انکار کردیا۔

سال۱۹۹۰ء میں صالحہ کی دوسری شادی جسیم خلیفہ سے ہوئی ،جس سے اس کو دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہوا۔قسمت نے صالحہ کا پھر امتحان لیا اور اس کے شوہر کسی بیماری میں مبتلا ہوکر خدا کو پیارے ہوگئے۔اس کے بعد سے وہ لوگوں کے گھروں میں کام اور سلائی کرکے اپنا گھر بارسنبھالتی رہیں۔انہوں نے اپنی بڑی بیٹی کی شادی کردی ہے۔ چھوٹی بیٹی اسکول جانے کے بجائے اپنی ماں کے کاموں میں ہاتھ بٹاتی ہے جبکہ وہ بیٹا جس کے لیے صالحہ اپنی سسرال سے نکالی گئی، عدالت کے چکر کاٹے،اپنی جمع پونجی برباد کی،وہ اپنی شادی کرکے بیوی کے ساتھ زندگی کے لیل و نہار گذارنے میں مست ہے ۔

بیٹے کی جدائی کا ماں کے دل پر گہرا اثر پڑا ہے ،جس کی وجہ سے وہ مرگی کی بیماری میں مبتلا ہوگئی ہے ۔ جس صالحہ کو اس کے سسرال والے نہ توڑ سکے ، زمانہ برباد نہ کرسکا ،اسی صالحہ کو بیٹے کے غم نے ایسا نڈھال کردیا کہ اب وہ بستر مرگ پر پڑی اپنی موت کو یاد کررہی ہے۔ سچ کہا گیا ہے کہ اولاد فتنہ ہوتی ہے۔ جس کی محبت میں والدین کچھ ایسے گرفتار ہوتے ہیں کہ اپنی جان کے بھی لالے پڑجاتے ہیں۔ ایسی کوئی ایک صالحہ نہیں ہے بلکہ معاشرہ میں کئی ایسی خواتین ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ قربان کردیا مگر انہیں کچھ بھی ہاتھ نہ آیا ۔

صالحہ کہتی ہیں کہ اگر میں تعلیم یافتہ ہوتی تو شاید مجھ پر اتنا ظلم نہ ہوتا ، شاید میں اپنے بیٹے کو اپنے قریب رکھنے میں کامیاب ہوتی، نہ میں نے تعلیم حاصل کی اور نہ میں اپنے بچوں کو تعلیم دلاپائی جس کا نتیجہ آج میری آنکھوں کے سامنے ہے۔میں دوسروں سے صرف اتنا ہی کہنا چاہتی ہوں کہ جو غلطی میں نے کی ہے وہ دوسرے والدین نہ کریں۔ (چرخہ فیچرس)

9835436116

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *