لیبیا کی گولہ باری میں ایک ملیالی نرس اور اس کا بیٹا ہلاک

اومن چانڈی، تصویر: بشکریہ اے این آئی
اومن چانڈی، تصویر: بشکریہ اے این آئی

دونوں کی لاشوں کو ہندوستان واپس لانے کی کوشش کی جا رہی ہے: اومن چانڈی

تریوندرم (کیرل)، ۲۶ مارچ (ایجنسی): کیرل کے وزیر اعلیٰ اومن چانڈی نے آج اس بات کی تصدیق کر دی کہ گزشتہ شب لیبیا میں گولہ باری کے دوران ایک ملیالی نرس اور اس کے ۱۸ مہینے کے بیٹے کی موت ہو گئی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کیرل حکومت ان دونوں کی لاشوں کو وطن واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ گولہ باری کے دوران نرس کا شوہر وپن کہیں باہر گیا ہوا تھا۔

اومن چانڈی نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایک ملیالی ماں اور اس کا بیٹا لیبیا میں ہلاک ہوئے ہیں۔ میں نے ان لوگوں سے رابطہ کیا ہے، جو اَب بھی وہاں ہیں اور انھیں ہندوستانی سفارت خانہ سے فوری مدد کی ضرورت ہے۔ میں نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ ان کی لاشوں کو کیرل واپس لایا جائے۔ ہم ان لوگوں کو لیبیا سے واپس لانے کی پوری کوشش کریں گے، جو ہندوستان واپس لوٹنا چاہتے ہیں۔ وہ ڈرے ہوئے ہیں، لیکن محفوظ ہیں۔ میں لیبیا میں واقع ہندوستانی سفارت خانہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘‘

نامہ نگاروں نے جب وزیر اعلیٰ سے یمن میں داعش کے ذریعہ پکڑے گئے ملیالی پادری فادر ٹام اُزھونالیل کے بارے میں دریافت کیا، تو انھوں نے بتایا کہ وہ حکومت سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی درخواست پہلے ہی کر چکے ہیں اور کہا کہ اس وقت یمن میں واقع ہندوستانی سفارت خانہ صحیح طریقے سے کام نہیں کر رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’سشما سوراج نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں بچانے کے لیے جو کچھ بھی کر سکتی ہیں، کریں گی۔ لہٰذا آج، ہم دوبارہ حکومت سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔‘‘

تاہم، حکومت ہند نے بھی آج فادر ٹام اُزھونالیل کے پکڑے جانے کی تصدیق کی اور کہا کہ انھیں آزاد کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس بابت سشما سوراج نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’’کیرل کے رہنے والے ہندوستانی شہری فادر ٹام اُزھونالیل کو یمن میں ایک دہشت گرد گروپ نے یرغمال بنا لیا ہے۔ ہم ان کو چھڑانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

فادر ٹام کو لے کر عیسائی برادری میں اس وقت بہت زیادہ تشویش اس لیے پائی جا رہی ہے، کیوں کہ ایک غیر مصدقہ ویڈیو میں داعش نے فادر کو ایسٹر کے آس پاس سولی پر چڑھانے کی دھمکی دی ہے۔ غور طلب ہے کہ فادر ٹام کو چار مسلح برداروں نے ۴ مارچ کو عدن میں مشنریز آف چیریٹی کے ایک دفتر پر حملہ کرکے یرغمال بنا لیا تھا۔ اس حملے میں چار راہباؤں سمیت کل ۱۶ افراد مارے گئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *