ارتداد کا بڑھتا سلسلہ، مسلم دنیا کیلئے لمحۂ فکریہ

پس آئینہ

 شمس تبریز قاسمی2016-09-24-08-00-19-001
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادگرامی ہے: ’حلال روزی کی تلاش فرائض لازمہ کے بعد اہم فریضہ ہے‘۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب معاش کی فکر کو گناہوں کا کفارہ قراردیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ اور اسوۂ حسنہ کا اولین پہلو معاش کی فکر کرنا اور تجارت کرنا ہے۔ شام اور د یگر علاقوں کی جانب ہونے والے اسفار اس کی واضح طور پر عکاسی کرتے ہیں۔ پنجابی صوفی شاعر خواجہ فرید شکر گنج کے بقول روٹی ایمان کا چھٹا سکون ہے۔ معاشیات کی یہ اہمیت اس بات کو بتلاتی ہے کہ جب کسی کی دہلیز پر بھوک دستک دے دیتی ہے تو دن میں بھی تارے نظر آنے لگتے ہیں، جس گھر میں بھوک داخل ہوتی ہے اس کی چولیں ہل جاتی ہیں، جس ملک کی اقتصادیات کمزور ہوجاتی ہے اس کا پورانظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ فاقہ کشی کا سامنے کرنے والے لوگوں کے تمام جذبے اور حوصلے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ اپنے بچوں، اہل خانہ اور عزیز و اقارب کو روتا بلکتا، پریشان اور جاں بلب دیکھ کر لوگوں کا ایمان بھی متزلز ل ہوجاتا ہے۔ ایک روٹی کی خاطر ایمان کا سودا کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، بھوک مٹانے، زندگی باقی رکھنے اور فاقہ کشی کے عذاب سے نجات پانے کے لیے مذہب تبدیل کرنے لگتے ہیں۔ چنانچہ شام اور دیگر ملکوں کے مسلمان جو لبنان، جرمنی، یونان، سوئیڈن، آسٹریا، برطانیہ، آرمینیا، اطالیہ، بلغاریہ، کناڈا، برازیل، رومانیہ، ارجنٹینا، روس، فرانس، مقدونیہ، پولینڈ، کولمبیا، میکسیکو، امریکہ اور یوراگوئے جیسے ایشیائی، یورپی، افریقی اور امریکی ممالک میں پناہ گزین ہیں، ان میں سے بہت سے دو وقت کی روٹی کی خاطر مرتد ہوکر عیسائیت قبول کر رہے ہیں۔ معاشی کمزوری اور غربت کے دلدل میں پھنسے مسلمانوں کا ایمان عیسائی دو وقت کی روٹی کے عوض خرید رہے ہیں اور مسلمان چار و ناچار یہ سب کرنے پر مجبور ہیں۔

Conference

دی ٹیلی گراف‘ اخبار کے حالیہ شمارے میں شائع ہونے والی رپوٹ کے مطابق شام سے ملحق لبنان میں 15؍ لاکھ شامی مہاجرین موجود ہیں جہاں پادری روٹی اور دیگر سہولتوں کے عوض لوگوں کو عیسائی مذہب قبول کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ روزنامہ ’انڈیپنڈنٹ‘ کی رپوٹ کے مطابق جرمنی میں بھی پناہ گزین عیسائیت قبول کررہے ہیں۔ غربت، فاقہ کشی اور بھوک سے نڈھال ہوکر عراق، افغانستان اور شام سے آئے مسلم مہاجرین کو پادری معاشی طور پر مضبوط بنانے کا وعدہ کرکے عیسائی بنارہے ہیں۔ ورلڈ میگزین کی ایک رپوٹ کے مطابق ڈیوڈ گریزن نامی ایک عیسائی اسکالر منظم طور پر دنیا بھر میں مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے مشن پر عمل پیرا ہے۔ تبلیغ عیسائیت کے مشن میں مصروف ایک تنظیم سے گذشتہ پچیس سالوں سے ان کا تعلق ہے۔ اس مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔ مہاجرین مسلمانوں پر اس تنظیم کی خاص توجہ ہوتی ہے اور غربت و فاقہ کشی کے شکار مسلمانوں کو پیسے کی لالچ دے کر انہیں عیسائیت قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ڈیوڈ گریزن نے ’’اسلام کے گھر میں طوفان‘‘ (اے ونڈ ان دی ہاؤس آف اسلام) کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں اس نے اسلام کے خلاف بہت کچھ لکھنے کے ساتھ ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ گذشتہ دوصدی میں تقریبا دو سے سات ملین مسلمانوں نے مرتد ہوکر عیسائیت کو قبول کیا ہے۔ ورلڈ میگزین کے رائٹر وارن کول اسمتھ نے 2014 میں ان کا انٹرویو لیا تھا جس میں ڈیوڈ نے عیسائی مشنری کے تعلق سے کئی سارے اہم انکشافات بھی کیے ہیں۔ روزنامہ خبریں نے بھی ایک ہفتہ قبل ایک رپوٹ شائع کی تھی جس کے مطابق ریاست اتر پردیش کے رامپور ضلع سے تعلق رکھنے والی خاتون نور صبا نے دھمکی آمیز انداز میں کہا تھا کہ مسلم رہنماؤں کی بے توجہی سے دلبرداشتہ ہوکر میں نے یہودیت یا عیسائیت مذہب قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس خاتون کا مسئلہ یہ ہے کہ 2015 سے یہ ایک ایسے معاملے کو لے کر دھرنا پر بیٹھی ہیں جس کا سپریم کورٹ سے فیصلہ ہوچکا ہے۔

اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت قبول کرنے کی یہ رپوٹ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک لمحۂ فکریہ اور مقام غور و خوض ہے۔ وہ مذہب جس کا کوئی ثانی نہیں ہے، جس کے عشر عشیر کے برابر بھی کوئی اور مذہب نہیں ہوسکتا ہے، جس مذہب نے انسانیت کو ترقی کی معراج عطا کی ہے،دشمنان اسلام کی شدید مخالفت کے باوجود جس مذہب کے ماننے والوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے، اسی مذہب کے بعض پیروکار کیوں دوسرے مذاہب قبو ل کر رہے ہیں، اس کے اسبا ب و وجوہات پر غور کرنے اور اس خطرناک مرض کا تدارک کرنے کی اشد ضرور ت ہے۔ صر ف یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ مذہب تبدیل کرنے والوں کا ایمان مضبوط نہیں تھا، ان لوگوں کے دلوں میں ایمانی حلاوت پیدا نہیں ہوسکی تھی، وہ پیٹ کے پجاری اور ہوس کے پرستار تھے، اور یہ کہ ایسے لوگوں کا انجام جہنم ہے۔ حضرت بلال حبشی اور حضرت سمیہ رضی اللہ عنہما کے قوت ایمانی کو مثال میں پیش کرکے ہم اسے نظر انداز نہیں کرسکتے کہ وہ لوگ بھی مسلمان تھے جنہیں تمام ممکنہ اذیتوں سے دوچار کیا گیا لیکن ان کے پائے ثبا ت میں کوئی لغزش نہیں آسکی۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ تمام ترمخالفت کی باوجود اسلام قبول کرنے والوں کا سلسلہ روزانہ بڑھتا جارہاہے اور وہ اسلام کی آغوش میں کسی لالچ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس مذہب کی صداقت کی بنیاد پر آرہے ہیں۔

جن لوگوں نے اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت اختیارر کیا ہے، اس کی وجہ عیسائی مذہب کی کوئی خوبی نہیں ہے، نہ عقیدہ اور نظریہ کے اعتبار سے انہیں عیسائیت میں کوئی اچھی چیز نظر آئی ہے بلکہ غربت و فاقہ کشی اور عیسائیوں کی جانب سے ہونے والی پیشکش نے انہیں ایمان کا سوداکرنے پر مجبور کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہاجاسکتاہے کہ معاشی تنگ دستی اور اقتصادی زبوں حالی نے انہیں یہ سب کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اگر ان کے حالات دگر گوں نہیں ہوتے، ان کے روتے بلکتے بچوں کو کہیں سے دودھ کا قطرہ مل جاتا، ان بے گھر مسلمانوں کو کہیں سر چھپانے کے لیے کوئی چھت میسر ہوجاتی، انہیں ایک وقت کی روٹی نصیب ہوجاتی تو وہ اتنا گھناؤنا قدم نہیں اٹھاتے لیکن وہ سب کرنے پر مجبور ہوئے کیونکہ انہیں اپنی سرزمین سے دربدر ہونا پڑا، اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا، مسلم ملکوں نے اپنے یہاں پناہ دینے سے انکا ر کردیا۔ مجبور ہوکر انہیں یورپی، افریقی اور امریکی ملکوں کا رخ کرنا پڑا جہاں ان کے پاس صرف دو راستے بچے تھے یا تو ایمانی قوت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے بھوکے پیاسے رہ کر اپنی جان جاں آفریں کے سپر دکردیں یا پھر مجبور ہوکر ایمان کا سود ا کرلیں۔

آج تین چوتھائی مسلم ممالک عیسائیوں کے رحم وکرم پر ہیں، ایک مشن کے تحت مسلم ملکوں میں خانہ جنگی کے حالات پیدا کرکے مسلمانوں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا جارہاہے، دوسری طرف انسانی حقوق کے نام پر انہیں اپنے یہاں ٹھہرا کر ان کے ایمان پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، مسلمان بے بس اور بے سہارا ہیں۔ چند ملکوں کے سوا کوئی بھی ان مسلمانوں کی مدد کے لیے تیار نہیں ہے۔ ترکی کا نام سرفہرست ہے جس نے تقریبا 27؍ لاکھ شامی پناہ گزینوں کو اپنے یہاں پنا ہ دے رکھی ہے ،سعودی عرب ،مصر اور الجزائر وغیرہ کا نام بھی مدد کرنے والوں میں شامل ہے ، لیکن جب تک مسلم ممالک متحد نہیں ہوں گے، خلافت عثمانیہ کی روشن تاریخ سے سبق نہیں لیں گے، ایک بلاک نہیں بنائیں گے، اقتصادی سطح پر مضبوط نہیں ہوں گے، مضبوط دفاعی قوت حاصل نہیں کریں گے، ایٹمی ہتھیار سے لیس نہیں ہوں گے، اس وقت تک عیسائیوں کی جانب سے مسلمانوں پر ہونے والا یہ چوطرفہ حملہ بند نہیں ہوگا۔
(کالم نگار ملت ٹائمز کے ایڈیٹر ہیں)
stqasmi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *