جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ سے ایک خاتون کی فریاد

Ajaz ul Haqueسید اعجاز الحق بخاری، کھنیتر،پونچھ

آج کل ہندوستان کی پانچ ایسی ریاستوں کی سربراہ خواتین ہیں۔ ان میں مغربی بنگال، راجستھان، گجرات اور تامل ناڈو میں تو بہت پہلے سے خواتین وزیر اعلیٰ کی کرسی پر براجمان ہیں ، مگر ہندوستان کا تاج اور جنت ارضی کہلانے والی ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ایک خاتون یعنی محترمہ محبوبہ مفتی کے ہاتھوں میں ریاست کی باگ ڈور آئی ہے۔خوشی اس بات کی بھی ہے کہ محبوبہ صرف ریاست ہی کی محبوبہ نہیں ہیں بلکہ پورے ملک کے مسلمانوں کی بھی محبوبہ بن گئی ہیں کیونکہ وہ آزادہندوستان میںآسام کی سابق وزیر اعلیٰ انورہ تیمور کے بعد دوسری مسلم خاتون ہیں جنہیں وزیر اعلیٰ بننے کا موقع ملا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس کی خوشی مردو زن سب کو ہے مگر صنف نازک ہونے کے ناطے ریاست کی خواتین کچھ زیادہ ہی پُر امیدہیں اور خوشی کا اظہار کررہی ہیں، جو ان کا حق بھی ہے۔ ایسے میں محترمہ محبوبہ مفتی کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں کہ وہ ریاست کے باشندوں کی وزیراعلیٰ کم بیٹی ، ماں اور بہن زیادہ ہیں۔ انہیں امید وں کے ساتھ ان کی ایک بہن نے ہمارے ذریعہ ان سے سے مدد کی اپیل کی ہے۔

جموں سے ۲۳۸؍کلو میٹر کی مسافت پر واقع سرحدی ضلع پونچھ کی ایک۲۸؍سالہ خاتو ن صائمہ کوثر (بدلا ہوا نام ) کہتی ہیں کہ میری شادی۱۹؍ جولائی ۲۰۰۷ء کوضلع پونچھ کی تحصیل حویلی کے گاؤں درہ دلیاں دھراٹی کے افتخار حسین شاہ سے ہوئی تھی۔مجھے لگتا ہے کہ وہ میری شادی نہیں بلکہ میری بربادی کا سب سے بڑا دن تھا۔ شادی کے کچھ عرصہ گذر جانے کے بعد ہی میرے شوہر نے مجھ پر ظلم و ستم کرنا شروع کردیا ۔ پیشہ سے معلم ریاست جموں وکشمیر کے محکمۂ تعلیم میں ملازم افتخار گورنمنٹ پرائمری اسکول گانڑھی تحصیل مہنڈرمیں تعینات ہے۔ لیکن بہن ! میں ہمیشہ یہی سوچتی ہوں کہ وہ شخص بچوں کو کیا تعلیم دیتا ہوگا جو خود اپنی ذاتی زندگی میں اپنی شریک حیات پر ہر طرح کے ظلم کرنے سے نہیں کتراتا ۔وہ مزید کہتی ہیں کہ شادی کے بعد ہی کسی گھریلو مسئلے پر اس نے مجھے مارناپٹنا شروع کردیا تھا۔ یہاں تک کہ گھر سے نکال دیا۔ اس سب کے باوجود میں تحمل کے ساتھ اپنے گھر کو بنانے میں لگی رہی لیکن میرے صبر کو اس نے میری بزدلی مانتے ہوئے ایک دن تو حد ہی ختم کردی۔ اس نے۲۰؍اگست ۲۰۱۴ء کو مجھے ڈنڈے اور کلہاڑی سے مار کر لہولہان ہی نہیں کیا بلکہ بغیر کرائے کہ ہمیں گھر سے نکال دیا۔ اس وقت میرے ساتھ میرا ایک ننھا منا سے بچہ بھی تھا،جبکہ میرے تین معصوموں کو اس نے رحم مادر ہی میں ضائع کروادیا تھا۔ جب ظلم حد سے تجاوز کرگیا تو میں نے آخر کاراس کی ساری کرتوت اپنے والدین کو بتانے کا فیصلہ کرتے ہوئے تفصیل سے سارے مظالم ان کے گوشِ گذار کردیے۔

 افتخار حسین شاہ
افتخار حسین شاہ

میرے میکہ والوں نے فیصلہ کیا کہ ہمیں عدالت جانا چاہیے تاکہ مجھے انصاف مل سکے، چنانچہ ہم نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔جب اس کو عدالت کی نوٹس گئی تو بجائے اس کے کہ وہ نوٹس کا جواب دیتا وہ پھر سے میری جان کے پیچھے پڑگیا اور۲۶؍ جنوری۲۰۱۶ء کو پونچھ اسپورٹس اسٹڈیم میں جان لیوا حملہ کیا۔حد توتب ہوگئی جب اس نے بھری عدالت میں جج صاحب کے سامنے ۲؍مارچ ۲۰۱۶ء کومجھے اور میرے والدکو مارنے کی کوشش کی ۔ بہن ! وہ محکمۂ تعلیم میں ملازم ہے۔ اس کے پاس پیسے ہیں۔ وہ اپنے پیسے اور رشوت کے دم پر عدالت میں چل رہے میرے کیس کو کمزور کرنے کے لیے اس نے عدالتی کاغذات پر میر ے،میرے بھائی اور والد کے جعلی دستخط کروالیا ہے۔ بہن ! دل کی بات کہوں تو مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ عدالت میں بھی مجھ بدنصیب کو انصاف نہیں مل پائے گا۔ ایسے میں میرے پاس صرف ایک ہی راستہ بچاتھا کہ میں کسی طرح اپنی بات آپ تک پہنچادوں ۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ کے سامنے ریاست بھر کے بہت سارے کام ہیں اور بڑی بڑی پریشانیاں ہیں ، لیکن بہن ! میری پریشانی کوئی کم نہیں ہے ۔اگر آپ نے توجہ نہیں دی تو یہ بدنصیب اپنا گھر کھودے گی، اوراگر گھر ہی نہ رہا تو یہ زندگی کس کام کی ؟اس لیے میں نہیں چاہتی کہ ریاست کی سربراہ ہونے کے ناطے تمہارا اور ہمارا فیصلہ رب کائنات کی بارگاہ میں قیامت کے روز ہو۔ اس لیے میں تم سے آج ہی درخواست کررہی ہوں، آگے تمہاری مرضی۔تمہاری ریاست میں بسنے والی ایک بدنصیب خاتون۔

راقم الحروف نے ہر ممکن مذکورہ خاتون کی مددکرنے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم “ہیو من رائٹس”اور خا ص طور پر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم”ویمن رائٹس”کے کارکنان سے بھی بات کی تو انہوں نے کہاکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر بحث ہے، اس لیے ہم اس خاتون کی کوئی مدد نہیں کرسکتے۔ادھرافتخار حسین شاہ سے بھی بات کرنے کی کوشش کی گئی ، تاکہ انہیں بھی اپنی بات رکھنے کا موقع ملے، مگر بدقسمتی سے ان سے رابطہ نہ ہو سکا ۔ لڑکی کے والد کے مطابق محکمۂ تعلیم کے افسران بھی اس مسئلہ میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لے رہے ہیں ، حالانکہ مذکورہ خاتون کا شوہر بھی ریاست کے محکمۂ تعلیم ہی میں ملازم ہے۔
نوٹ: (اس واقعہ کی صداقت کے تعلق سے ادارہ ’نیوز ان خبر‘کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، ہم اس کو صرف اس وجہ سے شائع کررہے ہیں تاکہ اگر مذکورہ خاتون پر کوئی ظلم ہوا ہے تو اسے انصاف ملنے میں مدد مل سکے۔)
sayedajazulhaq@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *