کنھّیا کی پیشی سے پہلے وکیلوں کا ہنگامہ، صحافیوں کی پٹائی

یشپال سنگھ اور وِکرم چوہان گروپ کی غنڈہ گردی کو روکنے میں دہلی پولس ناکام، سپریم کورٹ میں طلب

نئی دہلی، ۱۷ فروری: پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں آج دن کے ڈیڑھ بجے جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے صدر کنھّیا کمار کی پیشی سے تقریباً آدھا گھنٹہ قبل وکیلوں کے دو گروپوں کے درمیان جم کر نعرے بازی اور مارپیٹ ہوئی۔ کنھیا مخالف وکیلوں کے گروپ نے کئی صحافیوں کو  بھی بری طرح پیٹا اور ان کے موبائل فون اور کیمرے چھین کر ان سے ویڈیو اور تصویروں ڈِلیٹ کردیں۔ ابھی ابھی خبر آ رہی ہے کہ سپریم کورٹ نے ان تمام وکیلوں کو آدھے گھنٹے کے اندر پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

مختلف ذرائع سے ملنے والی خبروں کے مطابق، دو دن پہلے پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے جن وکیلوں نے یشپال سنگھ، وِکرم چوہان اور اوم پرکاش شرما کی قیادت میں بی جے پی ایم ایل اے او پی شرما کے ساتھ مل کر سی پی آئی لیڈر عمیق جامعی سمیت کئی صحافیوں کی بری طرح پٹائی کی تھی، آج ایک بار پھر انھوں نے صحافیوں کی جم کر پٹائی کی ہے۔ ان کے ہاتھوں میں ترنگا لہرا رہا تھا اور وہ ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ حالانکہ اس واقعہ سے تھوڑی ہی دیر پہلے سپریم کورٹ نے ایک پی آئی ایل پر سماعت کے دوران سختی سے یہ حکم دیا تھا کہ عدالت کے احاطہ میں کسی قسم کی نعرے بازی نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے باوجود ان وکیلوں نے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں نعرے لگائے اور صحافیوں کو پیٹا۔

کنھیا مخالف وکیلوں کا یہ گروپ کورٹ کے احاطہ میں جس وقت فرسٹ پوسٹ کے ایک صحافی کی پٹائی کر رہا تھا، اس وقت وہاں بھاری تعداد میں پولس بھی موجود تھی۔ صحافی کے بقول، اس نے پولس سے خود کو کئی بار بچانے کے لیے اور وہاں سے نکالنے کے لیے کہا، لیکن پولس اس کی مدد کے لیے آگے نہیں آئی اور خاموش تماشائی بنی رہی۔ اسی طرح ٹائمس ناؤ ٹی وی چینل کی ایک خاتون صحافی کے موبائل فون کو اِن وکیلوں نے چھین لیا اور اس میں سے ویڈیو اور تصویریں ڈِلیٹ کر دیں۔

اس واقعہ کے بعد صحافیوں میں دہلی پولس کے خلاف زبردست غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہلی پولس کمشنر بی ایس بسّی جہاں اس بات کو لے کر خود ہی اپنی پیٹھ تھپتھپانے میں لگے ہوئے ہیں کہ انھوں نے جے این یو سے ’’ملک کے غدار‘‘ کنھیا کمار کو گرفتار کر لیا، اب وہ ان غنڈہ صفت وکیلوں کو کیوں نہیں گرفتار کر رہے ہیں۔ ایک انگریزی اخبار نے تو آج اُن وکیلوں کے باقاعدہ تصویریں چھاپی ہیں، جن کے بارے میں بی ایس بسّی کا کہنا ہے کہ وہ ان کی شناخت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ صحافیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر عدالتیں بھی اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم نہیں کر پائیں گی، تو پھر کورٹ سے باہر ان کے تحفظ کی یقین دہانی کون اور کیسے کرائے گا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *