نفرت کے خلاف ہمارا پیغام محبت ہے: مولانا اشرف کچھوچھوی

مولانا اشرف کچھوچھوی
مولانا اشرف کچھوچھوی

نئی دہلی،۷؍ مارچ( نامہ نگار):موجودہ دور میں جبکہ ہر طرف قتل و خون اور غارت گری کا بازار گرم ہے۔ تشدد اور دہشت گردی نے انسانوں کے لیے جینا دوبھر کردیا ہے ۔اور اس سب کے لیے اسلام کو بدنام کیا جارہا ہے۔ مارنے والا بھی اسلام کا نعرہ لگارہا ہے اور مرنے والا بھی مسلمان ہے، تو ایسے پرآشوب دور میں یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ عوام و خواص کے درمیان اسلام کے پیغام کو پہنچانے کی حتی المقدور کوشش کی جائے۔ اسلام دین فطرت ہے۔ اسلام کا پیغام امن وسلامتی ہے۔ اسلام محبت کی بات کرتا ہے اور بقائے باہم کے ساتھ زندگی گذارنے کے لیے کہتا ہے۔ اس کے اس پیغام کو لوگوں تک پہنچانا اور اس کو بدنام کرنے والی قوتوں کو بے نقاب کرنا ہمارا مقصد ہے۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے بانی صدر مولانا سید اشرف کچھوچھوی نے ’نیوز ان خبرڈاٹ کام‘ سے ایک خصوصی ملاقات میں کیا۔
مولانا سید اشرف نے کہا کہ جب جب اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش ہوئی ہے۔ معاشرے کو تباہ کرنے کی سازشیں رچی گئی ہیں۔ انسانی اقدار کو پامال کرنے کے لیے قدم بڑھائے گئے ہیں، تب تب صوفیا حضرات اپنی اپنی خانقاہوں اور اپنے اپنے آستانوں سے باہر نکلے ہیں اور انہوں نے لوگوں کی ہدایت کا کام کیا ہے۔ آئندہ ۱۷؍ سے ۲۰؍ مارچ تک نئی دہلی میں منعقد ہونے والی انٹرنیشنل صوفی کانفرنس بھی اسی نوعیت کی ایک تحریک کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کے ذریعے ایک طرف ہم عوام کو اسلام کی حقیقی تصویر دکھانے کی کوشش کریں گے اور دوسری جانب ارباب اقتدار کے ساتھ ہی دنیا کے دوسرے ملکوں کو بھی یہ پیغام پہنچائیں گے کہ دین اسلام ، امن و سلامتی کا مذہب ہے۔ یہ بقائے باہم کا درس دیتا ہے اور جو لوگ اسلام کے نام کا نعرہ لگاکر خون کی ہولی کھیلتے ہیں وہ دراصل اسلام کے نہیں بلکہ مغربی ملکوں کے ان سازش کاروں کے آلۂ کار ہیں جو گذشتہ کئی صدیوں سے اسلام اور مسلمانوں کو اسی طرح نشانہ بناتے رہے ہیں۔


آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے صدر نے مزید کہا کہ ہندوستان میں جس طرح مسلمان اپنے دوسرے ہم وطنوں کے ساتھ صدیوں سے مل جل کر رہتے ہیں ، وہ دوسرے ملکوں کے لیے ایک مثال ہے۔ ہم انہیں ہندوستان میں اپنے بزرگوں سے ملی وراثت سے دوسرے ملکوں کے لوگوں کو آشنا کروانے کے ساتھ ہی اپنے ملک کے ارباب اقتدار اور انتظامیہ کو یہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ یہاں پڑوس سے ایسے نظریات کو امپورٹ کرنے کی حماقت نہ کرے جوقتل وخون پر مبنی ہے ۔ اس کے برعکس ہمیں ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب اور بقائے باہم کے افکار و نظریات کے ساتھ ہی زندگی جینے کے خوبصورت تجربات کو ایکسپورٹ کرنا ہے۔ اس میں حکومت کو بھی ہمارا ساتھ دینا چاہیے۔
مولانا سید اشرف کچھوچھوی نے کانفرنس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ۱۷؍ مارچ کو قومی راجدھانی میں واقع وگیان بھون میں اس کا افتتاح ہوگا جبکہ آخری دن یعنی ۲۰؍ مارچ کو رام لیلا میدان میں اجلاس عام ہوگا۔ اس کے درمیان انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں علمی اجلاس ہونگے جن میں تحقیقی اور تجزیاتی مقالے پیش کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں کم و بیش پانچ سو مندوبین شرکت کریں گے ۔
بعض حلقوں کی جانب سے اس کانفرنس کی مخالفت کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا سید اشرف کچھوچھوی نے کہا :’’اگر ہمارے کرم فرما ایسا نہ کرتے تو ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہم کوئی اہم کام کررہے ہیں۔ وہ تو ہمارے کرم فرما باربار ہمیں یہ احساس دلارہے ہیں کہ ہم کامیابی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘‘ اسی کے ساتھ انہوں نے امید ظاہر کی کہ انٹرنیشنل صوفی کانفرنس ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ میں بھی میل کا پتھر ثابت ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *