اختراعاتی تجارتی مہم جوئی اورہنر مندی فروغ پروگرام کا آغاز

انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر میں مانس کے پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے اقلیتی امور، ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ
انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر میں مانس کے پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے اقلیتی امور، ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ

نئی دہلی، ۲۹ مارچ (پریس ریلیز): اقلیتی امور کی مرکزی وزیر ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ نے ہنرمندی کے مختلف شعبوں کے نمائندہ قومی/بین الاقوامی ماہرین کے توسط سے آج یہاں مولانا آزاد نیشنل اکیڈمی برائے ہنر مندی (ایم اے این اے ایس- مانس) کے اختراعاتی مہم جوئی اور ہنر مندی فروغ پروگرام کا آغاز کیا۔ انہوں نے اوکھلا اور دریا گنج کے علاقے میں خوبصورتی اور بہتر رکھ رکھاؤ کے شعبوں سے متعلق دو تربیتی مراکز کا آن لائن افتتاح بھی کیا۔ اوکھلا مرکز میں ہندوستان میں بالوں کے اسٹائل کو انقلابی شکل دینے والے معروف ہیئر اسٹائلسٹ جاوید حبیب آرائش و زیبائش کے میدان میں اپنا کریئر بنانے کے خواہش مند افراد کو سائنٹفک اور منظم تربیت دیں گے، جبکہ شہناز حسین دریا گنج میں واقع مرکز میں قدرتی دیکھ بھال اور علاج کے شعبے میں جانے کے خواہش مند لوگوں کو تربیت دیں گی۔ اِس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ کسی بھی شعبے میں امتیاز حاصل کرنے کی خواہش اور کوشش ہی وہ چیز ہے، جس سے انسان کی اپنی ایک پہچان بنتی ہے اور محنت کا وقار قائم ہوتا ہے۔

ایک منفرد او ر اپنی نوعیت کی پہلی پہل کے تحت مانس نے ایک اختراعاتی اسکیم پیش کی ہے، جس کے تحت مختلف شعبوں کی نمایاں اور مشہو ر شخصیات کو قوت متحرکہ کے طور پر استعمال کرنے کی تجویز ہے، تاکہ اقلیتی برادریوں کے محروم طبقات کو فائدہ پہنچ سکے۔ یہ لوگ پورے ملک میں نوجوانوں، بالخصوص اقلیتی طبقات کے لئے اپنے متعلقہ شعبوں میں مثالی شخصیت کے حامل ہیں۔ یہ معروف عوامی شخصیات ہیں، جو اپنے نام، اپنے چہرے اور اپنے متعلقہ شعبے/ہنر کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ یہ ایسی شخصیات ہیں، جن سے دوسروں کو ترغیب ملتی ہے اور جو نوجوانوں کو اپنے منتخبہ شعبے میں امتیازی مقام حاصل کرنے کےلئے تحریک دیتی ہیں۔

اقلیتوں کے روایتی، تعلیمی اداروں جیسے مدرسوں/مکتبوں وغیرہ کو مولانا آزاد قومی اکیڈمی برائے ہنر مندی کے توسط سے اقلیتی امور کی وزارت کے ہنرمندی فروغ پروگرام سے جوڑا گیا ہے۔ اس غیر معمولی پہل سے وزارتِ اقلیتی امور مدرسوں اور مکتبوں کے موجودہ نیٹ ورک کے وسیع امکانات کا فائدہ اٹھاسکتی ہے۔ اس کے تحت مدرسےکی رضامندی سے مدرسے میں ہنرمندی فروغ مراکز قائم کئے جا سکتے ہیں۔ اقلیتی برادریوں میں موجود اعتماد کی کمی کی خلیج کو پاٹنے کے علاوہ مانس اقلیتی برادریوں کے محروم طبقات، بالخصوص عورتوں اور لڑکیوں تک معیاری ہنرمندی فروغ تربیت کو ان کی دہلیز تک پہنچانے میں کامیاب رہا ہے، تاکہ انہیں فائدہ بخش روزگار/خود کا روزگار فراہم کرایا جا سکے۔ مانس نے نشاندہی کی اور بہار، مہاراشٹر، جموں و کشمیر اور آسام کے متعدد مدرسوں اور اقلیتوں کے دیگر روایتی تعلیمی اداروں میں ہنر مندی فروغ پروگرام کا آغاز کیا ہے۔

مولانا آزاد نیشنل اکیڈمی برائے ہنر مندی(مانس) کا قیام ۱۱ نومبر، ۲۰۱۴ کو قومی اقلیتی ترقیاتی و مالیاتی کارپوریشن (این ایم ڈی ایف سی) کےذریعے اقلیتی امور کی وزارت (ایم او ایم اے) کے زیر سایہ عمل میں آیا تھا تاکہ ’اسکل انڈیا‘ کے تصور اور حکومت ہند کے ہدف ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے تصور کی تکمیل کی جا سکے۔ مانس ملک میں اقلیتی برادریوں کی ہنر مندی فروغ /اپگریڈیشن سے متعلق سبھی ضروریات کی تکمیل کے لئے ایک ادارہ جاتی نظم دستیاب کراتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *