بہار میں پکی ہونگی گلیاں، نالیوں کی بھی ہوگی تعمیر

وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے منصوبے کا افتتاح کیا، نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے کہا ہم کام کرنے میں یقین رکھتے ہیں

پٹنہ(نامہ نگار):
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے یہاں جمعہ کو ’ہرگھر پکی گلی۔نالی‘ منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ پانچ سالوں کے اندر ریاست کے شہری اور دیہی علاقوں کا سبھی گلیاں پکی ہوجائیں گی اور نالیوں کی تعمیر کا کام بھی پورا کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مہاگٹھ بندھن نے گذشتہ اسمبلی انتخابات کے دوران سات عزائم کا اعلان کیا تھا ، اور حکومت کی تشکیل کے بعد ہی اس پر عمل درآمد شروع ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسمبلی اور لوک سبھا میں ہمیشہ دیہی علاقوں کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ انہیں ایسے علاقوں کی صورت حال کا تجربہ ہے۔ انہوں نے کہا عوام بہتر راستوں کی خواہش رکھتے ہیں۔ انہیں آنے جانے میں کوئی پریشانی نہ ہو، اس کی وہ تمنا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ پانی اور گندگی کی نکاسی کے لیے نالیوں کا بندوبست بھی چاہتے ہیں۔ انہوں نے ریاست کی راجدھانی پٹنہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب کئی جگہوں پر اس کی گلیوں اور نالیوں کا حال اچھا نہیں ہے تو گاؤوں کی صورت حال آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اب کوئی بھی کام ہوائی نہیں ہورہا ہے۔ صرف منصوبوں کا اعلان اور افتتاح نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے نفاذ پر خصوصی ؂طور سے توجہ دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاگٹھ بندھن حکومت کے سات عزائم کے تحت ریاست میں شراب بندی نافذ کی گئی۔ اس کا سماج پر اچھا اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پہلے جہاں غریب آدمی شراب پر اپنی کمائی خرچ کردیتا تھا، اب وہ سو دو سو روپے بچا لیتا ہے جس سے گھربار چلانے میں آسانی ہورہی ہے۔ عورتیں خوش ہیں۔ گھروں میں امن وامان ہے۔ لڑائی جھگڑے نہیں ہورہے ہیں۔ انہوں نے شراب بندی کی مخالفت کرنے والوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ اس قانون کو طالبانی قراردے رہے ہیں۔ ہم ان سے کہتے ہیں کہ شراب بندی تو نافذ رہے گی، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ، البتہ اگر قانون کو غیرطالبانی بنانے کے لیے ان کے پاس کوئی مشورہ ہے تو وہ لے کر آئیں ، اس پر غور کیا جائے گا۔
نتیش کمار نے کہا کہ بہار پہلی ایسی ریاست ہے جہاں ریاستی ملازمتوں میں خواتین کو ۳۵؍فیصد ریزرویشن دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر یہاں خواتین کو ریاستی حکومت کی ملازمتوں میں ۳۷؍ فیصد ریزرویشن مل رہا ہے کیونکہ پہلے سے پسماندہ طبقوں کی خواتین کے لیے تین فیصد ریزرویشن ملا ہواہے۔ اس سے پہلے پنچایتی راج کے تحت خواتین کو ۵۰؍ فیصد ریزرویشن حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین بااختیار ہورہی ہیں۔ وہ بیدارہورہی ہیں۔ اس سے سماج میں ایک نئی تبدیلی آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سات عزائم کے تحت ہر گھر میں بیت الخلاء بنوانے کا کام ہورہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہر گھر بجلی پہنچانے کے منصوبہ پر کام جاری ہے۔ فی الحال ان گھروں کا سروے کیا جارہا ہے جہاں بجلی نہیں پہنچی ہے۔ اس کا ۷۰؍ فیصد کام پورا ہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ۲۰؍ نومبر کو حکومت اپنا پہلا رپورٹ کارڈ پیش کرے گی۔ اس سے پہلے ہی ہرگھر بجلی منصوبہ کاسروے پورا ہوجائے گا۔ اس سے قبل وہ ۹؍ نومبر سے ریاست کے مختلف اضلاع کا دورہ کریں گے اور سات عزائم کے تحت نافذ کیے گئے منصوبوں کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے وہ ’جنتاکے دربار میں وزیر اعلیٰ‘ پروگرام کے تحت لوگوں سے ملتے تھے۔ ان کی شکایات سنتے تھے۔ اس سے حاصل ہونے والے تجربے کی بنیاد پر ’لوک سیوا‘ منصوبہ نافذ کیا گیا۔ اس کے لیے بلاک اور ضلع سطح پر دفاتر کھولے گئے۔ افسران اور ملازمین رکھے گئے۔ چھوٹی چھوٹی خدمات کے لیے پہلے لوگوں کو مہینوں دفتروں کا چکر لگانا پڑتا تھا، لیکن لوک سیوا شروع ہونے کے بعد برتھ سرٹیفکٹ، انکم سرٹیفکٹ اور پاسپورٹ بنوانے میں لوگوں کو آسانی ہونے لگی۔ اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے حکومت نے شکایات عامہ کے تصفیہ کا قانون بنایا اورامسال ۵؍جون سے اس کو نافذ کردیا۔ اس کے تحت معینہ مدت میں شکایتوں کا تصفیہ ہوتا ہے۔ اب شکایت کرنے والوں کو دردر بھٹکنا نہیں پڑتا ہے۔ وہ شکایت کے لیے بنے مرکز پر اپنی شکایت درج کراتے ہیں اور انہیں ایک معینہ مدت میں اطلاع دے دی جاتی ہے کہ آپ فلاں دن تاریخ کو آئیں اور اسی وقت ان کی شکایت کا تصفیہ کردیا جاتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شہری ترقی ورہائش، دیہی امور اور پنچایتی راج محکموں کے مشترکہپروگرام کے تحت اب ہرگلی کو پکی کرنے اور نالیوں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا جارہا ہے۔ اس سے شہری اور دیہی علاقے کی سبھی گلیاں پکی ہونگی اور نالیوں کی تعمیر کا کام بھی ہوگا۔ یہ کام مقامی لوگوں کے مشوروں اور ان کی نگرانی کے تحت ہوگا۔ انہوں نے کہا : ’ذرا تصور کیجیے کہ جب گلیاں پکی ہوجائیں گی اور نالیاں بن جائیں گی تو لوگوں کے کیا احساسات ہونگے۔ ‘ نتیش کمار نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں کو ترقیاتی کا م نظر نہیں آتا۔ وہ بلاوجہ کی بیان بازیوں میں لگے رہتے ہیں اور میڈیا نے بھی ان کے لیے جگہ مختص کر رکھی ہے۔
اس موقع پر نتیش کمار نے ریاست میں بدعنوانی پر لگام لگانے کے عزم کو بھی دہرایا۔ انہوں نے کہا: آپ نے دیکھا نہیں کل ایک ہی ساتھ ایک ایس ڈی او اور ایک ایس ڈی پی او پکڑے گئے۔ انہوں نے سرکاری افسروں اور ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اچھا کام کریں۔ آپ کو اچھی تنخواہ مل رہی ہے۔ حکومت نے چھٹا پے کمیشن نافذ کیا ہے، ساتواں بھی نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے بدعنوانی کو ایک بیماری بتایا اور کہا کہ کچھ لوگ جب تک ادھر ادھر نہیں کرتے ہیں ان کا من ہی نہیں لگتا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ تو ایسے بھی ہیں جن کی کوئی اولاد نہیں ہے، اس کے باوجود غلط ڈھنگ سے کمائی کرتے ہیں۔ وہ تو سات پشتوں تک کے لیے کما کر رکھنا چاہتے ہیں ، لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ جب پشت ہی نہیں ہے تو کس کے لیے کما رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غلط طریقے سے کمائی کرکے آج تک کسی کا بھلا نہیں ہوا ہے۔ نتیش کمار نے کہا:’ کفن میں کوئی پاکٹ نہیں ہوتا ہے۔ کوئی کچھ اوپر نہیں لے جائے گا۔ اس لیے اچھے ڈھنگ سے اپنا کام کریں۔ جہاں تک آپ لوگوں کے مسائل کا سوال ہے، ان کے حل کے لیے ہم ہیں نا۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *