امیر خسرو مشترکہ تہذیب کی ایک روشن علامت تھے:  ارتضیٰ کریم

قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام ’جشن یوم اردو ‘کا انعقاد
نئی دہلی(نامہ نگار): ہندوستان کی ادبی اور تہذیبی تاریخ میں حضرت امیر خسرو کی شخصیت گنگا جمنی تہذیب اور سیکولرزم کی ایک روشن علامت ہے۔ انہوں نے ہندوستان سے اپنی محبت اور شیفتگی کا جو ثبوت دیا ہے اس کی مثال کم ملتی ہے۔ وہ ترک نژاد تھے مگر ہندوستان کی مٹی سے انہیں بے پناہ محبت تھی۔ ان کی پوری شاعری اسی جذبۂ محبت سے معمور ہے۔انہوں نے اپنی شاعری میں اتحاد و یکجہتی کا درس دیا ہے ۔ ان کی پوری شاعری میں ہندوستانیت کی خوشبو رچی بسی ہے۔ امیر خسرو کی انہیں امتیازی خصوصیات کی بنیاد پر ان کے یوم پیدائش کی مناسبت سے ہر سال ۳؍مارچ کو قومی اردو کونسل ’جشن یوم اردو‘ کا انعقاد کرتی رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نےیہاں ہوٹل امیا، جسولہ میں منعقدہ ’جشن یوم اردو ‘میں کیا۔انہوں نے کہا کہ امیر خسرو کی شخصیت ایسی ہے جن سے ہر طبقہ اور ہر زبان کے لوگ بے پناہ محبت کرتے ہیں ۔ ان کا صوفیانہ کلام ہر ایک کے دل کی دھڑکن بنا ہوا ہے۔ اسی لیے امیر خسرو کے یوم پیدائش کو یوم اردو کے طور پر پورے ہندوستان میں منایا جائے تو یہ امیر خسرو کو ایک بڑا خراج عقیدت ہوگا۔
جشن یوم اردو میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر پروفیسر شاہد مہدی نے کلیدی خطبہ پیش کیا ۔ انہں نے کہا کہ پورے فارسی ادب میں اتنے اعلیٰ درجے کا تخلیق کار شاید ہی ملے جس نے تمام موضوعات کا احاطہ کیا ہو۔ امیرخسرو کو اپنے وطن ہندوستان پر ناز تھا۔ انہوں نے کہا کہ بڑے شاعروں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ انہیں ہر زمانے میں مختلف زاویوں سے پڑھا جاتا ہے، جس سے ان کی معنویت اور افادیت بڑھ جاتی ہے۔ آج کے ماحول میں خسرو کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ مہمان ذی وقار پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے اس موقع پرکہا کہ امیر خسرو صرف اردو زبان کے موجد نہیں تھے بلکہ ہندی کے بھی جنک تھے۔ ان دونوں زبانوں کی پیدائش خانقاہوں میں ہوئی جسے ہندوی کہا جاتا تھاجو آج اردو اور ہندی کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔انہوںنے اس بات پر زور دیا کہ اردو کا مستقبل تاریک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ اردو کی ترویج و اشاعت میں سرگرم ہیں لیکن صرف سرکاری مراعات اور تعاون کی بنیاد پر اردو کی ترقی ممکن نہیں ہے۔ ہم اردو والے پوری ایمانداری اور دلجمعی کے ساتھ اسے پھر اپنے گھروں میں آباد کریں اور آنے والی نسلوں کو ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دلائیں۔اردو کا معاملہ اتنا خراب نہیں جتنا آپ سمجھ رہے ہیں۔
 
 اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر شریف حسین قاسمی نے کہا کہ سوائے امیر خسرو کے ہندوستان میں کسی دوسرے کے نام سے جشن یوم اردوکو منسوب کرنا مناسب نہیں ہے ۔انہوں نے  کہا کہ یہ امیر خسرو ہی تھے جنہوں نے چھ سو سال قبل ہندوی کو ہندوستان کے جغرافیائی حدود سے باہر متعارف کرایا۔ امیر خسرو کی بازیافت در حقیقت ہندوستانی تہذیب و ثقافت اور تصوف کی بازیافت ہے۔اس موقع پر مہمان اعزازی ڈاکٹر امام احمد عمیر الیاسی نے کہا کہ ہمیں خسرو کی دی ہوئی میٹھی زبان اردو کی مزید ترویج و اشاعت کی ضرورت ہے۔ درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ سے وابستہ سید محمد نظامی نے بھی امیر خسرو کی شخصیت اور فن کی مختلف جہتوں پر روشنی ڈالی۔اس موقع پر مقررین نے ۳؍ مارچ کو پورے ہندوستان میں ’یوم اردو‘ کے طور پر منانے کی تجویز پیش کی جس کی تمام حاضرین نے پرزور تائید کی۔ 
اس موقع پر ایک صوفیانہ محفل کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں ممتاز فنکار اندرا نائک (ممبئی)نے صوفیانہ کلام سے سامعین کومحظوظ کیا ۔ کونسل کے پرنسپل پبلی کیشن آفیسر ڈاکٹر شمس اقبال نے یوم اردو کے جشن میں شامل ہونے والوں کا شکریہ اداکیا۔اس تقریب میں دہلی کی سرکردہ شخصیات کے علاوہ بڑی تعدادمیں طلبہ وطالبات نے بھی شرکت کی۔
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *