اقلیتی امور کی وزیر نجمہ ہپت اللہ کے نام کھلاخط!

نور محمد خانNoor Mohammad Khan

بدعنوانی، ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ، اور ‘اچھے دن آنے والے ہیں’ کی آواز میں آواز ملا کر عوام نے لبیک کہا جس کی وجہ سے بی جے پی کو گذشتہ لوک سبھا انتخابات میں کامیابی ملی۔ پارٹی کے لیڈرنریند مودی وزیر اعظم بنے اور عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے نام پر ملک کی اقتصادی و تجارتی ترقی کے لیے غیرملکوں کا لگاتار دورہ کررہے ہیں۔ اس سے ملک کو درپیش مسائل کے حل ہونے میں مدد ملنے کی بات کی جا رہی ہے۔ ہم اس اقدام کا استقبال کرتے ہیں۔ ہندوستان کی اقلیتوں میں ایک مسلمان بھی ہے جس نے ملک کی آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کروایا۔ آج جنگ آزادی کے مجاہدین کی قوم یعنی کہ آزادی کے ۷۶ برسوں میں مسلمانوں کی حالت دلتوں اور پسماندہ ذاتوں سے بھی بدتر ہوگئی ہے۔ وزیر صاحبہ آپ کے ذہن میں یہ بات بازگشت کررہی ہوگی کہ “گذشتہ ۶۷ برسوں میں (بی جے پی) کی حکومت نہیں تھی بلکہ سیکولر حکومت تھی اورسابقہ حکومت کو اقتدار کی دہلیز پر پہنچانے میں مسلمانوں کا اہم کردار تھا تو ایسی صورت میں مسلمانوں کی حالت دلتوں اور پچھڑی ذاتوں سے بھی بدتر کیوں ہو گئی؟ اس سوال کے پس منظر میں گذشتہ ۶۷ سالہ مسلمانوں کی المناک داستان پیش خدمت ہے، ملاخطہ فرمائیں:

آزاد ہند کی تاریخ میں مسلمانوں کی المناک داستان کو قلمبند کرنے میں دو واقعات نے اہم کردارادا کیا ہے۔ اول بابری مسجد میں بت رکھنے سے لے کر شہادت تک دوئم آزادی سے تادم تحریر فسادات اور بم دھما کوں تک، ہر محاذ پر مسلمانوں کو مشق ستم بنایا گیا ہے۔ ہند و پاک کی تقسیم کے دوران ہندی مسلمانوں نے ہندوستان کو ترجیح دیتے ہوئے اسی ملک میں رہنا پسند کیا کیونکہ اس ملک سے بزرگوں کا اہم ترین رشتہ تھا لیکن ایسی کون سی خامیاں تھیں کہ مسلمانوں کے ساتھ ظلم و جبر اور نا انصافی کا جانبدارانہ رویہ اختیار کیا جانے لگا؟ انگریزوں کے زمانے میں بھی فسادات ہوا کرتے تھے اور انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے بعد بھی ملک میں فسادات ہوتے رہے۔ تمام فسادات کو بالائے طاق تو نہیں رکھا جا سکتا لیکن جمہوریت میں جن فسادات پرجانچ کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا تھا اس پر غور و فکر کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ فسادات پر درجنوں کمیشن تشکیل دیے گئے لیکن ہم صرف چنندہ کمیشن کا ذکر کرتے ہیں۔ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کو ملک آزاد ہوا۔ ۲۶ جنوری ۱۹۵۰ء میں آئین نافذ ہوا۔ اس کے بعد رانچی میں ۱۹۶۷ء میں ہوئے منظم فسادات پر مبنی جسٹس رگھویر دیال کی قیادت میں جانچ کمیشن بٹھایا گیا تاکہ خاطی لوگوں پر سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جا سکے لیکن ایسا نہیں لگتا ہے کہ خاطی افراد پر قانونی کارروائی کی گئی ہو۔ جس سے مستقبل میں فسادات نہ ہونے کے لیے ٹھوس اقدامات اور لائحہ عمل مرتب کیے گئے ہوں۔ بہر حال مناسب اقدامات نہیں کیے جانے کی وجہ سے فسادات کرانے اور کرنے والوں کو آزادی مل گئی اور فسادات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ کمیشنوں کا قیام اس قدر عمل میں لایا گیا گویا ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ مسلمانوں کی ترقی میں چار چاند لگ گئے ہیں۔ یہاں ایک بات کہنا ضروری ہے کہ سابقہ اور موجودہ حکومت کو ملک کی سالمیت اور یکجہتی کی فکر ہوتی تو فساد متاثرین کو انصاف ملتا اور فسادیوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا۔ تب نہ ہی ملک میں فسادات ہوتے اور نہ ہی کسی جانچ کمیشن کی تشکیل کی ضرورت محسوس ہوتی! رہی بات مسلمانوں کے فلاح و بہبود کی تو برسوں سے کانوں میں لوہا پگھلا کر ڈالنے کی مصداق ہر سیاسی تقریر میں سنتے چلے آرہے ہیں کہ مسلمانوں کی ترقی کے لیے پندرہ نکاتی پروگرام کا آغاز کیا جارہا ہے جو مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے میں موثر ثابت ہو گی۔ اب ایسی صورت میں حکومت ہی جانے کون سا پروگرام اور کتنی مدت کا تھا کہ مسلمان اس قدر ترقی یافتہ ہوگیا کہ ۲۰۰۵ء تک مسلمانوں کی حالت بقول سچر کمیشن کے دلتوں اور پچھڑی ذاتوں سے بھی بدتر ہوگئی۔

چنانچہ مذکورہ تحریر کا مقصد مسلما نوں کی حالت اور وقف بورڈ کی ملکیت سے ہے کیونکہ حکومت ہند نے محترمہ نجمہ ہپت اللہ کی قابلیت اور صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اقلیتی امور کی وزارت سونپی ہے اور حکومت آئین و قوانین کے تحت اقلیتوں کی فلا ح و بہبود کے لیے پابند ہے۔

سچر کمیٹی کی سفارشات اور رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے ۲۷ اضلاع میں چار لاکھ سے زائد وقف کی املاک موجود ہے۔ وقف کی ملکیت پر سرکاری و غیرسرکاری قبضہ ہے۔ علاوہ ازیں ملکیت کی حفاظت کرنے والے حضرات بشمول مسلمانوں نے بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ دوسری طرف ریاستی اور مرکز کی حکومتوں نے بھی مسلمانوں کے ملی مسائل کو وقف بورڈ کی آمدنی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ املاک کو نقصان پہنچا کر امیروں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ حکومت اور ذمہ داران کی لاپرواہی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے۔ آپ کو اس بات کا علم ہوگا کہ مغربی بنگال اسمبلی نے ۱۹۸۱ء میں ٹھیکہ اینڈ اور ٹینینسز اینڈ لینڈز (ایکویزیشن اینڈ ریگو لیشن) ایکٹ نافذ کیا تھا جو ٹھیکہ ایکٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس ایکٹ میں ۲۰۰۱ء میں ترمیم کی گئی تھی۔ اس ایکٹ کی مہربانی سے وقف املاک کی بڑی تعداد کے کرائے دار اس جگہ کے مالک بن گئے حالانکہ اس ایکٹ سے حکومت اور میونسپل کی جائیداد کو مستثنی کردیا گیا لیکن یہ سہولت وقف املاک کو فراہم نہیں کی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وقف بورڈ کو بہت سی املاک اور آمدنی سے ہاتھ دھونا پڑا۔

اب نیشنل کیپیٹل ٹیریٹری کا مطالعہ کریں تو معلوم یہ ہوگا کہ دہلی شہر کی توسیع و تعمیر کے لیے ۱۹۱۱ء سے ۱۹۱۵ء کے درمیان کافی اراضی حاصل کی گئیں جس میں وقف بورڈ کی املاک بھی شامل ہیں۔ ۱۹۴۰ء میں ۴۲ معاملات میں حکومت ہند نے سنی مجلس اوقاف (وقف بورڈ کا پیشرو) کے ساتھ انفرادی معاہدے کیے جسکی وجہ سے انہیں املاک کو مذہبی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت مل گئی۔ دہلی گزٹ نے ۱۹۷۰ء میں ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ان املاک کی ایک بڑی تعداد بشمول ان املاک کے جو معاہدے میں شامل نہیں تھیں، وقف کی املاک قرار دے دیا۔ لینڈ ڈیولپمنٹ آفیسر اور دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی دونوں نے وزارت برائے شہری ترقیات، حکومت ہند کے تحت اس فیصلے کو دہلی کی عدالتوں میں چیلنج کیا اور ۳۰۰ سے زائد مقدمات داخل کیے گئے- ۱۹۷۴ اور ۱۹۸۴ء کے درمیان چار اعلیٰ اختیاراتی کمیٹیوں نے فریقین کے درمیان ان تنازعات کا معائنہ کیا اور اس معاملے کی جانچ ایک وزارتی گروپ نے کی جس میں چھ کابینی وزیر شامل تھے۔ افسران کی ایک کمیٹی نے جس میں منسٹری آف ورکس اینڈ ہاؤسنگ، وزارت امور داخلہ، دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی، لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ افسر اور دہلی وقف بورڈ کے نمائندگان شامل تھے، تمام لوگوں نے وقف املاک کا معائنہ کیا اور دہلی کی ترقی کے لیے درپیش ضرورتوں کے سیاق و سباق میں ہر جائیداد کا تجزیہ کیا۔ انہوں نے اس کی تصدیق کی کہ ۱۲۳ املاک کے معاملے میں یہ واضح تھا کہ انہیں وقف املاک کے زمرے میں ڈالا جاسکتا ہے اور یہ سفارش بھی کی کہ ان املاک کو وقف بورڈ کو سونپ دیا جائے۔حکومت ہند نے ۳۱ جنوری ۱۹۸۴ء کو کمیٹی کی سفارشات کو منظوری دی اور ۱۲۳ املاک کو (۶۱ املاک ایل اینڈ ڈی او اور ۶۲ املاک ڈی ڈی اے کے قبضے میں تھیں) منتقل کرنے کا حکم دیا۔ ان ۱۲۳ املاک کے علاوہ کمیٹی آفیسروں نے پایا کہ ۴۰ دیگر املاک جو کہ وقف املاک تھیں، سرکاری املاک کے اندر جیسے عوامی پارک وغیرہ میں واقع تھیں۔ اس وقت طے کیا گیا کہ ان املاک کے تعلق سے حکومت کی ملکیت برقرار رہے گی لیکن وقف بورڈ کو انہیں وقف املاک کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔

مندرجہ بالا مختار ناموں، معاہدوں کے باوجود ایک رٹ پٹیشن کے نتیجے میں دہلی ہائی کورٹ نے ۱۹۸۴ء میں ان املاک سے متعلق ‘اسٹیٹس کو’ یعنی موجودہ صورت حال برقرار رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ان پر بدستور قبضہ رہنا چاہیے۔ یونین آف انڈیا نے ہائی کورٹ کو دیے گئے جواب میں اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نوٹیفایڈ وقف املاک کی مکمل جانچ پڑتال اور جگہ کی تصدیق کے بعد صرف اس طرح کی املاک کو دہلی وقف بورڈ کو منتقل کرنے کا حکم دیا گیا تھا جو حسب ذیل ہے: ۱: نوعیت میں واضع طور پر وقف ہیں۔ ۲: عوامی استعمال کے لیے ضرورت نہیں۔ ۳: متصل سرکاری عمارتوں سے واضح طور پر الگ کیا جاسکے۔ ۴: دہلی وقف بورڈ کو وقف املاک کی منتقلی موثر مینجمنٹ اور رفاہ عامہ کے لیے ہے۔ ۵: وقف جو جگہ پر موجود نہیں لیکن گزٹ میں نوٹیفایڈ کیا گیا ہے، کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ حکومتی ایجنسیوں اور دہلی وقف بورڈ کے درمیان تمام تنازعات ختم کر دیے گئے تھے اور تمام زیر التوا مقدمات دونوں پارٹیوں کی جانب سے واپس لینے تھے کہ ۶ جون ۱۹۸۴ء کو عارضی اسٹے کی وجہ سے اس ضمن میں کوئی اقدام نہیں کیا جا سکا۔ اسی طرح مہاراشٹر، اترپردیش، مغربی بنگال جیسے اکثریتی علاقوں کی وقف جائیداد کا برا حال ہے اور ان ریاستوں میں وقف کی املاک کو نقصان پہنچانے میں حکومت اور اس کے نمائندوں کے علاوہ بورڈ کے ذمہ داران نے اہم کردار ادا کیا ہے بلکہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام جائیدادوں کی تفتیش اور نشاندہی بھی ہونی چاہیے جس سے عوام کو معلوم ہو سکے گا کہ وقف کی املاک کتنی ہے اور اس کے فوائد کس کے لیے ہیں۔

آخری بات یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالٰی نے جس طرح سے زکوۃ، خیرات و صدقات ادا کرنے کا اور بیت المال کے قیام کا ذکر کیا ہے تا کہ غریب یتیم بے سہارا مجبور لوگوں کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے، اسی طرح اسلامی نقطہ نظر سے وقف بورڈ کے اغراض و مقاصد بھی بیان کیے گئے ہیں۔ وطن عزیز میں مسلمانوں کا ایک طبقہ ایسا ہے جو مختلف مسائل سے دوچار ہے لیکن اس ضمن میں مسلم قیادت اپنے فرائض کو انجام دینے سے قاصر ہے۔ وقف بورڈ کی ملکیت سے ہونے والی آمدنی جس سے مسلم بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے کالجوں، یونیورسٹیوں، لائبریری، ہاسٹل، کھیل کود کے میدان کا قیام، ضرورتمند مریضوں کے لیے ہسپتال، مطلقہ و بیوہ خواتین اور ان کے بچوں کی کفالت کے ذرائع مہیا کرنا، فسادات اور قدرتی آفات سے متاثر مسلمانوں کی امداد، تعلیم یافتہ بچوں کو وظیفہ، نوجوان لڑکیوں کی شادی بیاہ کا اہتمام، یہ سب ملک کے پسماندگان غریب بے سہارا مجبور مسلمانوں کے لیے تھی، جس کی ذمہ داری کا فرض وقف بورڈ کے ارکین پر تھا لیکن افسوس کی بات ہے کہ وقف بورڈ کے نگہبان یتیموں اور مسکینوں سے بھی زیادہ مجبور نکلے۔ وقف بورڈ کے عالی مقام ذمہ داروں سے لے کر ایک عام رکن تک تمام لوگوں نے حقوق العباد کے زمرے میں آنے والا مال خوب اڑایا۔

ملک کی ۲۷ ریاستوں میں جہاں وقف بورڈ کی املاک موجود ہیں، وہاں کے مسلمانوں کی حالت تشویشناک ہے کیونکہ مسلمانوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو گداگروں کی صف میں شامل ہے۔ نوجوان لڑکوں کی تعداد جیلوں میں سب سے زیادہ ہے۔ مطلقہ وبیوہ خواتین اور نوجوان لڑکیوں کا ایک طبقہ قحبہ خانہ، شراب خانہ و طوائف گاہوں کی زینت بن گئی ہیں۔ ایسی صورت میں حکومت کی رقوم سے زیادہ بہتر وقف بورڈ کی املاک اور اس سے ہونے والی آمدنی تھی، جس کا استعمال اس مد میں خرچ کیا جاتا تو مسلمانوں کی حالت دلتوں اور پچھڑی ذاتوں سے بھی بدتر نہ ہوتی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت وقف بورڈ کی ملکیت کو سرکاری وغیرسرکاری قبضے سے آزاد کرانے میں اور املاک کی تباہی و بربادی کرنے والوں پر کارروائی کرنے میں کہاں تک کامیاب ہوتی ہے۔ اس بات کا علم صرف ارباب اقتدار کو ہے۔ محترمہ وزیر صاحبہ سے یہ امید بر آئی ہے کہ اقوال زریں کا ایک قول ہے کہ ہمیشہ اپنے سے چھوٹوں کا خیال کرو بڑوں کو دیکھو گے تو سکون غارت ہو جائے گا کیونکہ وہ مجبوری مفلسی کا شکار ہیں اور ہو سکتا ہے کہ مضمون نگار بھی شکار ہو۔ لیکن کل آپ بھی ہوسکتے ہیں تو کیا آپ اپنے سے چھوٹے کا خیال رکھنے کے لیے تیار ہیں؟ 9029516236

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *