کیا آپ کو مدد کرنے سے کوئی چیز روکتی ہے؟

دوستو! آج آپ سے ایک خصوصی بات کرنے کے لیے حاضرہوا ہوں۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ہم لوگ جب آپس میں ملتے ہیں، تو ایک دو منٹ کے بعد ہی مایوسی بھری باتیں کرنے لگتے ہیں۔ ہمارا کوئی ساتھی یا رشتہ دار جیسے ہی اپنی بیماری یا کسی دوسری مشکل کا ذکر کرتا ہے، اس کو غور سے سنے بغیر ہی ہم فوراً اپنی پریشانی کے بارے میں بتانے لگتے ہیں۔ اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ وہ شخص جو آپ کو اپنا سمجھ کر صرف اس امید میں اپنی مشکل بیان کررہا تھا، درمیان ہی میں خاموش ہو جاتا ہے، اور وہ بھی آپ کی بات کو اسی طرح عدم دلچسپی کے ساتھ سنتا ہے، جیسے آپ نے اس کی باتوں پر کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ دونوں اپنی بات دل ہی میں رکھنے کو مجبور رہتے ہیں۔

آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ فلاں اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا ہے۔ سچ پوچھیں تو یہ بھڑاس نکالنا زندگی کے لیے بہت اہم ہے۔ خاص طور سے مایوس کن حالات سے باہر نکالنے میں یہ بھڑاس بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔ آپ نے بھی غور کیا ہوگا کہ جب اپنے دل کی بات بول دیتے ہیں تو تھوڑا سکون محسوس کرتے ہیں۔ یہی حال آپ کے دوستوں اور رشتہ داروں کا بھی ہوتا ہے۔ اس لیے آئندہ آپ کے سامنے کوئی اپنی بات کہنا چاہے، تو آپ اس کی بات کو غور سے ضرور سنیں۔ ہوسکتا ہے آپ اس کے مسئلہ کو حل کرنے میں کوئی مدد نہیں کرسکیں، پھر بھی یقین جانیے، آپ کے دوست یا رشتہ دار کی صرف اسی لیے بڑی مدد ہوجائے گی کہ اس دنیا میں کسی نے تو اس کی بات کو غور سے سنا۔ آپ جانتے ہیں کہ ہر ایک کے پاس ہر مشکل کا حل نہیں ہوتا، لیکن بہتوں کے پاس بہت سے مسائل کا حل ضرور ہوتا ہے۔ آپ بھی کسی کا کوئی مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔ کسی کی مدد کرسکتے ہیں۔کچھ لوگ یہ کہتے ہوئے دوسرے کی مدد نہیں کر پاتے ہیں کہ ابھی تو ہم خود ہی پریشان ہیں۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ پریشانی اور آسانی زندگی کا حصہ ہے۔ دنیا کا کوئی بھی شخص ہر طرح کی پریشانیوں سے آزاد نہیںہے۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ سب کی اپنی اپنی پریشانی ہوتی ہے۔ آپ اس لڑکی کی طرح دوسرے کی مدد کرسکتے ہیں۔ ایک لڑکی کئی دنوں سے بیمار تھی۔ وہ اپنے بھائی کے ساتھ اسپتال گئی۔ ڈاکٹر سے ملاقات کے بعد وہ ایک میز پر بیٹھ گئی ۔ ادھر اس کا بھائی مختلف طرح کی جانچ رپورٹوں کےلیے ایک کاؤنٹر سے دوسرے کاؤنٹر کی دوڑ لگا رہاتھا۔ اتنے میں اس بیمار لڑکی کی نظر پاس ہی بیٹھی ایک ضعیف خاتون پر پڑی ۔ وہ شدید بیمارتھی۔ ان کا علاج کرانے کے لیے ان کے شوہر آئے تھے۔ وہ بھی بوڑھے تھے۔ ساتھ میں کوئی اور نہیں تھا۔ بیمار لڑکی نے ضعیف جوڑے کو پریشان ہوتے دیکھا تو پوچھ بیٹھی۔ دونوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ کوئی اور نہیں ہے۔ بیمار لڑکی نے انہیں دلاسہ دیتے ہوئے کہا: گھبرائیں نہیں، میرا بھائی میرے ساتھ ہے۔ آپ کو ڈاکٹر سے دکھا دے گا۔ غور کریں تو عام حالت میں لڑکی کو اس ضعیف جوڑے کی مدد نہیں کرنی چاہیے کیونکہ وہ خود بیماری تھی اور اپنے بھائی کے سہارے اسپتال گئی تھی۔ لیکن اس سے جتنا بھی ہوسکا ، اس نے بوڑھے جوڑے کی مدد کی۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply